BR100 Increased By (0.09%)
BR30 Increased By (0.91%)
KSE100 Increased By (0.35%)
KSE30 Decreased By (-0.06%)
BAFL 59.35 Increased By ▲ 0.33 (0.56%)
BIPL 27.29 Increased By ▲ 0.12 (0.44%)
BOP 35.39 Decreased By ▼ -1.07 (-2.93%)
CNERGY 12.80 Increased By ▲ 0.86 (7.2%)
DFML 18.26 Increased By ▲ 0.06 (0.33%)
DGKC 220.70 Increased By ▲ 2.67 (1.22%)
FABL 100.29 Decreased By ▼ -0.11 (-0.11%)
FCCL 58.65 Increased By ▲ 1.29 (2.25%)
FFL 16.55 Decreased By ▼ -0.03 (-0.18%)
GGL 24.39 Decreased By ▼ -0.23 (-0.93%)
HBL 324.00 Decreased By ▼ -0.62 (-0.19%)
HUBC 227.55 Increased By ▲ 1.91 (0.85%)
HUMNL 10.71 Decreased By ▼ -0.08 (-0.74%)
KEL 7.38 Increased By ▲ 0.06 (0.82%)
LOTCHEM 27.04 Decreased By ▼ -0.10 (-0.37%)
MLCF 104.90 Increased By ▲ 2.83 (2.77%)
OGDC 322.21 Increased By ▲ 3.02 (0.95%)
PAEL 44.00 Increased By ▲ 0.12 (0.27%)
PIBTL 16.75 Decreased By ▼ -0.09 (-0.53%)
PIOC 279.55 Increased By ▲ 4.71 (1.71%)
PPL 224.45 Increased By ▲ 2.90 (1.31%)
PRL 66.50 Increased By ▲ 2.75 (4.31%)
SNGP 104.00 Increased By ▲ 0.21 (0.2%)
SSGC 27.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
TELE 8.77 Increased By ▲ 0.15 (1.74%)
TPLP 15.57 Increased By ▲ 0.59 (3.94%)
TRG 62.35 Decreased By ▼ -0.94 (-1.49%)
UNITY 12.06 Increased By ▲ 0.55 (4.78%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
کاروبار اور معیشت

اے ٹی آئی آر نے ٹیکس دہندہ کے خلاف ایف بی آر کی اپیل مسترد کردی

  • ٹریبونل نے قرار دیا کہ محکمہ ٹیکس ذہنی غوروفکر کے بغیر مکینیکل انداز میں مقدمات کی پیروی کر رہا ہے
شائع اپ ڈیٹ

اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو (اے ٹی آئی آر)، لاہور بینچ نے کمشنر کی جانب سے ایک ٹیکس دہندہ کے خلاف دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹیکس محکمے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ٹریبونل نے قرار دیا کہ محکمہ ٹیکس ذہنی غوروفکر کے بغیر مکینیکل انداز میں مقدمات کی پیروی کر رہا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ان لینڈ ریونیو افسر (او آئی آر) نے پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) سے موصول ہونے والی تیسرے فریق کی معلومات کی بنیاد پر ٹیکس دہندہ کی جانب سے پی آر اے کو ظاہر کردہ 622,012,066 روپے کی فروخت اور دیگر اعدادوشمار میں 342,594,271 روپے کا فرق نوٹ کیا۔

او آئی آر نے اس پورے فرق کو چھپائی گئی وصولیاں قرار دیتے ہوئے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 111 کے تحت یکطرفہ ترمیمی حکم جاری کیا اور اضافہ کردیا۔ افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹیکس دہندہ مطلوبہ معاون ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہا۔

تاہم کمشنر (اپیلز) نے ٹیکس دہندہ کی اپیل منظور کرتے ہوئے یہ اضافہ مکمل طور پر ختم کردیا۔ کمشنر نے کمپنی کے کلائنٹ سے براہِ راست آزادانہ طور پر تصدیق کی، جس سے ٹیکس دہندہ کا مؤقف درست ثابت ہوا۔ تصدیق سے معلوم ہوا کہ مذکورہ فرق کا بڑا حصہ ٹرانسپورٹیشن انوائسز میں شامل ایندھن اور ڈیزل کے اخراجات سے متعلق تھا، نہ کہ غیر ظاہر شدہ فروخت سے۔ ٹیکس دہندہ نے دراصل اس حوالے سے تفصیلی ریکنسیلی ایشن بھی متعلقہ افسر کو پہلے ہی فراہم کردی تھی۔

ٹریبونل نے کمشنر (اپیلز) کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ اسیسمنٹ آرڈر لاپرواہ، سرسری اور غیر مدلل انداز میں جاری کیا گیا۔ او آئی آر نے ٹیکس دہندہ کی دستاویزی ریکنسیلی ایشن کو من مانی طور پر نظرانداز کیا اور مناسب سماعت کا موقع فراہم کیے بغیر ایک بہت بڑا ٹیکس مطالبہ پیدا کردیا۔

بینچ نے اس طرز عمل کو ذہنی غوروفکر کے مکمل فقدان، بلکہ سرکاری اختیار کے ناجائز استعمال کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی۔

ٹیکس ماہر وحید شہزاد بٹ نے کہا کہ ایف بی آر کی ترجیح بن چکی ہے کہ جب بھی اپیلٹ فورمز کسی بڑے ٹیکس مطالبے کو نمایاں طور پر کم کریں تو ہر ایسے فیصلے کو چیلنج کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ریکارڈ پر واضح حقائق موجود ہونے کے باوجود متعلقہ سی آئی آر نے میکانکی انداز میں اپیل دائر کردی، حتیٰ کہ زیرِ چیلنج اپیلیٹ فیصلے کا مناسب جائزہ بھی نہیں لیا۔

وحید شہزاد بٹ کے مطابق ایسی بے مقصد مقدمہ بازی ٹیکس دہندگان کے قیمتی پیسے کا ضیاع ہے، جبکہ منظوری دینے والی اتھارٹی کی آزادانہ سوچ کے بغیر اندھا دھند اپیلیں دائر کرنے کا سلسلہ روکا جانا چاہیے تاکہ پاکستان کے پہلے ہی زوال پذیر ٹیکس نظام کی ساکھ کو مزید نقصان سے بچایا جاسکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف