40 کروڑ آبادی کی منصوبہ بندی
- پاکستان کی آبادی 2040 تک 40 کروڑ تک پہنچنے کے وزارتِ صحت کے انتباہ کو محض ایک اور سرکاری اظہارِ تشویش سے کہیں بڑھ کر ردِعمل کا باعث بننا چاہیے
پاکستان کی آبادی 2040 تک 40 کروڑ تک پہنچنے کے وزارتِ صحت کے انتباہ کو محض ایک اور سرکاری اظہارِ تشویش سے کہیں بڑھ کر ردِعمل کا باعث بننا چاہیے تھا۔ اس کے بجائے وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرتھ کی جانب سے اعلان کیا گیا یہ تخمینہ اس بات کا خطرہ رکھتا ہے کہ یہ بھی ان تشویش ناک پیش گوئیوں کی ایک طویل فہرست کا حصہ بن جائے گا جو مختصر عرصے کے لیے سرخیوں پر چھائی رہتی ہیں، اور پھر سرکاری بے حسی کے بوجھ تلے خاموشی سے پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ یہ معاملہ اس لیے توجہ کا مستحق ہے کہ یہ ایک ایسے بحران کی مقداری تصویر پیش کرتا ہے، جسے پاکستان نے کئی دہائیوں سے تسلیم تو کیا ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر اس سے نمٹنے کے لیے بہت کم وقت صرف کیا ہے۔ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو ملک کو جلد ہی ایسی آبادی کے لیے روزگار، اسکول، اسپتال، رہائش، پانی اور خوراک فراہم کرنے کی کوشش کرنا ہوگی، جسے سہارا دینے میں اس کی معیشت آج ہی مشکلات کا شکار ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے آبادی میں اضافے پر بحث کرتا آیا ہے۔ حکومتوں نے پالیسیاں وضع کیں، آگاہی مہمات چلائیں، کونسلیں قائم کیں اور بارہا خاندانی منصوبہ بندی کو قومی ترجیح قرار دیا۔ اس کے باوجود ملک کے آبادیاتی رجحان میں بمشکل ہی کوئی تبدیلی آئی ہے۔ ہر چند سال بعد ایک اور حکومت اس مسئلے کو دوبارہ دریافت کرتی ہے، فیصلہ کن اقدامات کا وعدہ کرتی ہے اور پھر خاموشی سے اس معاملے کو پس منظر میں جانے دیتی ہے، یہاں تک کہ تشویش ناک اعداد و شمار کا اگلا مجموعہ سامنے آتا ہے۔
اس کے نتائج کو نظر انداز کرنا اب ناممکن ہو چکا ہے۔ پاکستان پہلے ہی دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں شامل ہے، لیکن دنیا کے اس فہرست کے بیشتر دیگر ممالک کے برعکس پاکستان نسبتاً محدود رقبے پر واقع ہے، جہاں قدرتی وسائل محدود اور عوامی بنیادی ڈھانچہ کمزور ہے۔ ہر سال آبادی میں اضافہ ایسے اسکولوں پر مزید دباؤ ڈالتا ہے جو طلبہ کی مطلوبہ تعداد کو جگہ دینے سے قاصر ہیں، ایسے اسپتالوں پر جو تمام مریضوں کا علاج نہیں کر سکتے، ایسے شہروں پر جو مناسب رہائش فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اور ایسی لیبر مارکیٹ پر جو کافی تعداد میں پیداواری روزگار پیدا نہیں کر سکتی۔ اب یہ بحث مستقبل کے خطرات تک محدود نہیں رہی۔ یہ ایک ایسے بحران کے بارے میں ہے جو پہلے ہی قومی زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں نمایاں ہو چکا ہے۔
شاید سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ لاکھوں پاکستانی بچے زندگی کا آغاز ایسی محرومی کے ساتھ کرتے ہیں جس کے وہ کسی طور مستحق نہیں تھے۔ 60 فیصد سے زیادہ بچے قد کی نشوونما میں کمی یا غذائی قلت کی اس سے متعلقہ دیگر صورتوں سے متاثر ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی جسمانی نشوونما، ذہنی صلاحیت اور طویل مدت میں پیداواری استعداد محدود ہو جاتی ہے۔ صرف یہ حقیقت ہی آبادی کے انتظام کو ملک کی اولین قومی ترجیحات میں شامل کرنے کے لیے کافی ہونی چاہیے تھی۔ ایسے حالات میں مزید بچوں کو دنیا میں لانا، جہاں مناسب خوراک، صحت کی سہولیات اور تعلیم بہت سے خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہیں، نہ تو ان بچوں کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ملک کے مستقبل کے لیے بہتر ہے۔ آبادی کی پالیسی کو انسانی ترقی سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔
لہٰذا وزیرِ موصوف کا والدین کی ذمہ داری اور تولیدی صحت کی سہولیات تک وسیع تر رسائی پر زور دینا درست تھا۔ جدید خاندانی منصوبہ بندی سے اب بھی مطلوبہ حد تک فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا، جبکہ قابلِ تدارک زچگی سے متعلق صحت کی پیچیدگیاں بدستور بھاری سماجی اور معاشی اخراجات کا سبب بن رہی ہیں۔ بہتر آگاہی، مضبوط بنیادی صحت کی سہولیات اور تولیدی صحت کی خدمات تک آسان رسائی، حل کے لیے تمام ضروری اجزا ہیں۔ تاہم، یہ صرف مسئلے کا ایک حصہ ہیں، کیونکہ بڑی ناکامی طرزِ حکمرانی میں ہے۔
آبادی کے انتظام کو کبھی بھی وہ مسلسل سیاسی توجہ حاصل نہیں ہوئی جو دیگر قومی ترجیحات کے لیے مختص کی جاتی ہے۔ حکومتوں نے اسے مسلسل پالیسی کے بجائے وقتاً فوقتاً چلائی جانے والی مہمات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک اور قومی کونسل کا قیام یقیناً مفید ثابت ہو سکتا ہے، لیکن پاکستان اس سے قبل بھی کمیٹیاں، کمیشن اور ٹاسک فورسز قائم کر چکا ہے۔ ان کے وجود کا نتیجہ شاذ ہی قابلِ پیمائش بہتری کی صورت میں نکلا ہے، کیونکہ عملی اقدامات ہمیشہ سرکاری اعلانات سے پیچھے رہے ہیں۔
اگر حکومت واقعی آبادی میں اضافے کو قومی ہنگامی صورتِ حال سمجھتی ہے تو اسے اسی انداز میں اس سے نمٹنا چاہیے۔ مانعِ حمل طریقوں کے استعمال، زچگی کی صحت، خواتین کی تعلیم، بچوں کی غذائیت اور خود آبادی میں اضافے کے حوالے سے واضح قومی اہداف مقرر کرکے عوام کے سامنے پیش کیے جانے چاہئیں۔ صوبائی حکومتوں کو باقاعدگی سے پیش رفت کی رپورٹ دینے کا پابند بنایا جانا چاہیے، جبکہ آزادانہ جائزوں کے ذریعے یہ جانچا جانا چاہیے کہ آیا پالیسیاں واقعی نتائج میں تبدیلی لا رہی ہیں یا محض سرکاری بیانات جاری کرنے تک محدود ہیں۔ عوامی آگاہی کی مہمات قابلِ پیمائش کارکردگی کا متبادل نہیں بن سکتیں۔
پاکستان کا آبادیاتی چیلنج بتدریج ایک معاشی چیلنج، صحتِ عامہ کا چیلنج، تعلیمی چیلنج اور بالآخر طرزِ حکمرانی کا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ہر وہ سال جس میں بامعنی اقدام مؤخر کیا جاتا ہے، حتمی طور پر صورتحال کو سنبھالنا مزید مشکل اور زیادہ مہنگا بنا دیتا ہے۔ لہٰذا 2040 تک 40 کروڑ افراد کی آبادی کا انتباہ محض ایک اور لمحۂ تشویش کا باعث نہیں بننا چاہیے۔ پاکستان نے برسوں تک آبادی میں اضافے کے بارے میں ایسے بات کی ہے جیسے یہ کل کا مسئلہ ہو۔ یہ مسئلہ پہلے ہی آج کا مسئلہ بن چکا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026






















Comments