نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے جون 2026 کی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے تحت ڈسکوز اور کے الیکٹرک (کے ای) کے صارفین سے اضافی 9.8 ارب روپے وصول کرنے کے لیے فی یونٹ 75 پیسے کے مثبت ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دے دی ہے۔
ریگولیٹر نے 29 جولائی 2026 کو عوامی سماعت کی۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹیڈ (سی پی پی اے جی) نے 8.9138 روپے فی یونٹ کی حقیقی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی بنیاد پر 1.20 روپے فی یونٹ کی زیادہ مثبت ایڈجسٹمنٹ کی درخواست کی تھی جس کے ذریعے 15.68 ارب روپے وصول کیے جانے تھے۔ اس کی بنیادی وجہ آر ایل این جی کی زیادہ قیمت تھی۔
سماعت کے دوران اتھارٹی نے مستقبل میں فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ میں اضافے سے بچنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کیں۔
انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر نے آگاہ کیا کہ جون 2026 کے دوران جنوب سے شمال بجلی کی ترسیل کی محدود صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بجلی کی پیداوار کو بہتر بنایا گیا۔ سستی بجلی پیدا کرنے والے ذرائع جن میں ایٹمی توانائی، گیس، مقامی کوئلہ اور درآمدی کوئلہ شامل ہیں کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ حد تک استعمال کیا گیا، جس کے بعد آر ایل این جی پر چلنے والے بجلی گھروں سے پیداوار حاصل کی گئی۔
آئی ایس ایم او نے مزید بتایا کہ لاہور نارتھ ٹرانسمیشن منصوبے کی تکمیل کے بعد ایچ وی ڈی سی نظام کے ذریعے بجلی کی ترسیل کی صلاحیت میں تقریباً 300 سے 400 میگاواٹ اضافہ ہوا ہے جس سے اوسط ترسیل 4,200 سے 4,300 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔ نیپرا نے آئی ایس ایم او اور نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) کو ہدایت کی کہ اگلی سماعت سے قبل ان ترسیلی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مقررہ مدت اور ٹائم لائن فراہم کی جائے۔
اتھارٹی نے 4.9 ارب روپے کے پارشل لوڈنگ چارجز پر تشویش کا اظہار کیا اور سی پی پی اے جی سے ان کو کم سے کم کرنے کی حکمت عملی طلب کی۔ سی پی پی اے جی نے وضاحت کی کہ یہ چارجز کسی نااہلی کی وجہ سے نہیں بلکہ چھتوں پر لگائے گئے سولر سسٹمز کی پیداوار میں اضافے کے باعث دن کے وقت بجلی کی کم طلب کا نتیجہ تھے۔ شمسی اوقات کے دوران پاور پلانٹس کو جزوی بوجھ پر چلایا گیا اور شام کے وقت بجلی کی زیادہ مانگ کو پورا کرنے کے لیے بعد میں ان کی پیداوار بڑھائی گئی۔
نیپرا نے نوٹ کیا کہ جون 2026ء میں پارشل لوڈنگ چارجز جون 2025ء کے مقابلے میں تقریباً 1 ارب روپے زیادہ تھے۔ آئی ایس ایم او نے مزید کہا کہ ایسے چارجز سے بچنے کے لیے پلانٹس کو بند کرنے کے بجائے اس کے نتیجے میں نمایاں اسٹارٹ اپ اخراجات آئیں گے۔
خاور حنیف نے نشاندہی کی کہ آئی ایس ایم او کو اس سے قبل ہدایت کی گئی تھی کہ 2021 سے گڈو 747 کے اوپن سائیکل موڈ میں چلنے کے مالی اثرات پیش کیے جائیں۔ اس کے علاوہ حویلی بہادر شاہ، بھیکی اور بلوکی کے آر ایل این جی پاور پلانٹس کے سالانہ پیداواری منصوبوں سے انحراف کی وجوہات اور الیکٹریسٹی مارکیٹ آپریٹر کی موجودہ صورتحال سے بھی آگاہ کیا جائے۔
آئی ایس ایم او نے جواب دیا کہ گڈو 747 نے اوپن سائیکل موڈ میں 194.31 گیگاواٹ آور بجلی پیدا کی جبکہ کمبائنڈ سائیکل موڈ میں اس کی ممکنہ پیداوار 322 GWh تھی جس کے نتیجے میں تقریباً 128 GWh کی کمی ہوئی اور اس کا مالی اثر تقریباً 30 کروڑ روپے رہا۔
آئی ایس ایم او نے مزید بتایا کہ 500 ایم ایم سی ایف ڈی کی طلب کے مقابلے میں صرف 421 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مختص کی گئی جس میں سے آپریشنل اور نظام کے استحکام سے متعلق رکاوٹوں کے باعث 356 ایم ایم سی ایف ڈی گیس استعمال کی گئی۔ میرٹ آرڈر سے انحراف کی وجوہات میں ترسیلی رکاوٹیں، اسٹارٹ اپ اخراجات سے بچاؤ اور نظام کی ضروریات شامل تھیں۔ نیپرا نے آئی ایس ایم او کو ہدایت کی کہ اس حوالے سے تفصیلی وضاحت تحریری طور پر جمع کرائی جائے۔
عارف بلوانی نے نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی بندش اور گڈو پاور پلانٹ کے کمبائنڈ سائیکل موڈ میں آپریشن نہ ہونے کے باعث ہونے والے نقصانات پر تشویش کا اظہار کیا۔ وزارتِ توانائی کے پاور ڈویژن نے جواب دیا کہ نیلم جہلم منصوبے کی بحالی اور گڈو پلانٹ کو کمبائنڈ سائیکل موڈ میں چلانے سے صارفین کو فائدہ ہوگا، جبکہ اس حوالے سے اثرات پر مبنی رپورٹ پیش کی جائے گی۔





















Comments