ایم سی بی کی پہلی ششماہی میں شاندار کارکردگی، 90 فیصد انٹرم کیش ڈیوڈنڈ کا اعلان
- بینک کا قبل از ٹیکس 55.1 ارب، بعد ازٹیکس 26.5 ارب منافع ریکارڈ
ایم سی بی بینک لمیٹڈ نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی ششماہی کے مالیاتی نتائج کا اعلان کردیا جن میں مشکل معاشی حالات کے باوجود مضبوط بنیادی عوامل، محتاط حکمتِ عملی پر عملدرآمد اور بیلنس شیٹ کی مضبوطی کے باعث مستحکم کارکردگی کی عکاسی ہوتی ہے۔
میاں محمد منشا کی زیر صدارت ایم سی بی بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے 30 جون 2026 کو ختم ہونے والی ششماہی کے لیے بینک کے مالیاتی بیانات کا جائزہ لیا اور ان کی منظوری دی۔
بورڈ آف ڈائریکٹرز نے فی شیئر 9.00 روپے (90 فیصد) کے دوسرے انٹرم کیش ڈیویڈنڈ کا اعلان کیا جس کے بعد 2026 کیلئے مجموعی نقد منافعِ حصص 18.00 روپے فی شیئر (180 فیصد) ہوگیا ہے۔ مسلسل منافع کی ادائیگی بینک کی مضبوط سرمایہ جاتی پوزیشن، محتاط مالیاتی انتظام اور اپنے حصص داروں کے لیے طویل مدتی قدر پیدا کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
ایم سی بی بینک نے 55.1 ارب روپے قبل از ٹیکس منافع اور 26.5 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع رپورٹ کیا جس کے نتیجے میں فی شیئر آمدن 22.34 روپے رہی۔ مجموعی بنیادوں پر بینک کا قبل از ٹیکس منافع 58.8 ارب روپے جب کہ بعد از ٹیکس منافع 28.1 ارب روپے رہا۔
ششماہی کے دوران بینک کی مجموعی آمدن 93.9 ارب روپے رہی جو سالانہ 6 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔ اس بہتری کی بنیادی وجہ خالص مارک اپ آمدن میں اضافہ تھا جو 75.3 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ 71.3 ارب روپے تھی۔ اس اضافے کو کم لاگت والے ڈپازٹس کے بلند حجم اور مؤثر ییلڈ آپٹیمائزیشن نے سہارا دیا حالانکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اوسط پالیسی ریٹ نسبتاً کم رہا۔
نان مارک اپ آمدنی بڑھ کر 18.7 ارب روپے (پہلی ششماہی 2025: 17.5 ارب روپے) ہو گئی جو کہ سال بہ سال 7 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ بینک کے ڈیجیٹل بینکنگ فرنچائز میں مسلسل تیزی اور ٹرانزیکشنز کے زیادہ حجم کی بدولت فیس اور کمیشن کی آمدنی سالانہ 21 فیصد اضافے کے ساتھ 11.9 ارب روپے ہو گئی۔ اس شعبے کے اندر، کارڈ سے متعلقہ آمدنی میں 13 فیصد اضافہ ہوا، بہتر کسٹمر انگیجمنٹ اور کراس سیلنگ کے اقدامات کی وجہ سے برانچ بینکنگ کی فیس کی آمدنی میں 5 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ کسٹمر کی زیادہ سرگرمی اور کنزیومر فنانسنگ مصنوعات کے زیادہ استعمال کی عکاسی کرتے ہوئے کنزیومر بینکنگ کی فیس کی آمدنی میں شاندار 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ غیر ملکی کرنسی کی آمدنی اور ڈیوڈنڈ کی آمدنی نے بالترتیب 4.1 ارب روپے اور 2.1 ارب روپے کا نان مارک اپ آمدنی کی بنیاد میں مزید حصہ ڈالا۔
آپریٹنگ اخراجات میں سالامہ 9 فیصد اضافہ ہوا جو بینک کے طویل مدتی ترقیاتی پلیٹ فارم کو مستحکم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی، انسانی سرمائے اور برانڈ کی ترقی میں جاری سرمایہ کاری کی عکاسی کرتا ہے۔ ان سرمایہ کاری کے باوجود بینک نے 39.20 فیصد کا بہترین کاسٹ ٹو انکم ریشو برقرار رکھا جو جاری آپریشنل کارکردگی کو بہتر بناتے ہوئے نظم و ضبط پر مبنی لاگت کے انتظام کو اجاگر کرتا ہے۔
بیلنس شیٹ کے لحاظ سے بینک کے کل اثاثے بڑھ کر 3.430 ٹریلین روپے (سالِ آخر 2025: 3.247 ٹریلین روپے) ہو گئے۔ مجموعی ایڈوانسز (قرضوں) میں 67 ارب روپے (9 فیصد) کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو کریڈٹ کے بہتر استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔ انویسٹمنٹ پورٹ فولیو 2.067 ٹریلین روپے (سالِ آخر 2025: 1.947 ٹریلین روپے) رہا۔
بینک کے کل ڈپازٹس 2.604 ٹریلین روپے رہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ کا حصہ بہتر ہو کر 55 فیصد (سالِ آخر 2025: 54 فیصد) ہو گیا جو کم لاگت کے ڈپازٹس جمع کرنے میں بینک کی مضبوطی کو تقویت دیتا ہے۔


























Comments