BR100 Decreased By (-0.95%)
BR30 Decreased By (-1.6%)
KSE100 Decreased By (-0.82%)
KSE30 Decreased By (-0.83%)
BAFL 56.50 Decreased By ▼ -0.37 (-0.65%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.06 Decreased By ▼ -0.29 (-0.96%)
CNERGY 12.90 Decreased By ▼ -0.22 (-1.68%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.99 Decreased By ▼ -4.46 (-2.32%)
FABL 93.89 Decreased By ▼ -0.25 (-0.27%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.48 Decreased By ▼ -0.24 (-1.63%)
GGL 19.00 Decreased By ▼ -0.56 (-2.86%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 199.00 Decreased By ▼ -2.42 (-1.2%)
HUMNL 9.99 Decreased By ▼ -0.17 (-1.67%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.11 Decreased By ▼ -0.35 (-1.32%)
MLCF 90.90 Decreased By ▼ -2.26 (-2.43%)
OGDC 313.00 Decreased By ▼ -3.73 (-1.18%)
PAEL 35.10 Decreased By ▼ -0.53 (-1.49%)
PIBTL 14.68 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIOC 238.50 Decreased By ▼ -4.71 (-1.94%)
PPL 220.99 Decreased By ▼ -5.92 (-2.61%)
PRL 90.85 Decreased By ▼ -2.17 (-2.33%)
SNGP 90.55 Decreased By ▼ -1.29 (-1.4%)
SSGC 23.21 Decreased By ▼ -0.60 (-2.52%)
TELE 7.52 Decreased By ▼ -0.28 (-3.59%)
TPLP 12.55 Decreased By ▼ -0.42 (-3.24%)
TRG 56.15 Decreased By ▼ -0.41 (-0.72%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

لائڈز نے پاکستان کو جنگی خطرات کی سمندری فہرست سے نکال دیا

  • یہ فیصلہ پاکستانی برآمدات کی مسابقت میں بہتری اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کے اعتماد کو مضبوط کرنے کا باعث بنے گا
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کے سمندری شعبے میں اہم پیش رفت کے تحت ملک اور اس کے علاقائی پانیوں کو لائڈز مارکیٹ ایسوسی ایشن کی جوائنٹ وار کمیٹی (جے ڈبلیو سی) کی فہرست میں شامل علاقوں سے نکال دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے سمندری امور محمد جنید انوار چوہدری نے بتایا کہ اس اقدام سے جنگی خطرے کے انشورنس پریمیم اور جہاز رانی کے اخراجات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔جوائنٹ وار کمیٹی کی فہرست میں شامل علاقے لندن کے میرین انشوررز کی طرف سے نامزد کردہ ہائی رسک سمندری زونز ہیں، جو خاص طور پر لائڈز مارکیٹ ایسوسی ایشن اور انٹرنیشنل انڈر رائٹنگ ایسوسی ایشن کی نمائندگی کرتے ہیں۔اس پیش رفت کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے ایک بیان میں کہا کہ اس فیصلے سے پاکستانی برآمدات کی مسابقت میں بہتری اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں، تاجروں اور سرمایہ کاروں کا ملک پر اعتماد مضبوط ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر عالمی شپنگ لائنز اور سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش بن سکتے ہیں، جس سے علاقائی تجارت، کارگو ٹرانزٹ اور ٹرانہ شپمنٹ کے مواقع پیدا ہوں گے۔

جنید چوہدری نے بتایا کہ اس معاملے کو 13 مارچ 2026 کو اٹھایا گیا تھا، جب یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان اور اس کے سمندری علاقے کئی دہائیوں سے جے ڈبلیو سی کی فہرست میں شامل علاقوں کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی شمولیت کے باعث پاکستانی جہاز رانی اور تجارت کے لیے جنگی خطرے کے اضافی انشورنس پریمیم اور سرچارجز عائد ہوتے رہے ہیں۔اس کے بعد وزیراعظم نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی، جس کی سربراہی جنید چوہدری کر رہے تھے، تاکہ اس معاملے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ کمیٹی نے لائڈز کے حکام کے ساتھ مذاکرات کیے اور تکنیکی شواہد اور حقائق پر مبنی اعداد و شمار کی بنیاد پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلسل مذاکرات کے نتیجے میں بالآخر پاکستان کو اس فہرست سے نکال دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ملک کی سمندری تجارت پر اضافی مالی بوجھ کم ہوگا اور پاکستانی برآمدات کو بین الاقوامی منڈیوں میں زیادہ مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔

Comments

200 حروف