قطر انرجی کا ایل این جی ٹینکر تین ہفتوں بعد آبنائے ہرمز سے نکل کر پاکستان روانہ
- ایل ایس ای جی کے ڈیٹا کے مطابق ایل این جی بردار ٹینکر اس وقت پورٹ قاسم کی جانب گامزن ہے، جہاں اس کی متوقع آمد 31 جولائی کو ہوگی
قطر انرجی کے زیرِ انتظام ایک مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار ٹینکر راتوں رات آبنائے ہرمز سے نکل آیا ہے اور اس کے 31 جولائی کو پاکستان کی پورٹ قاسم بندرگاہ پہنچنے کی توقع ہے۔ تجزیاتی اداروں کے جمعرات کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 11 جولائی کے بعد یہ پہلا قطر انرجی کے زیرِ انتظام ایل این جی بردار جہاز ہے، جسے جہازوں کی نقل و حرکت کے ریکارڈ میں آبنائے ہرمز سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
کپلر اور ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق ”العرائش“ نامی ٹینکر نے قطر کے راس لفان ٹرمینل سے 4 سے 6 جولائی کے درمیان ایل این جی کا کارگو لوڈ کیا تھا اور 29 جولائی کی شب آبنائے ہرمز سے باہر نکل گیا۔
ایل ایس ای جی کے مطابق ٹینکر اس وقت پورٹ قاسم کی جانب گامزن ہے اور اس کی متوقع آمد 31 جولائی کو ہے۔ ”الرقیات“ نامی ٹینکر پر جولائی کے اوائل میں حملے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ قطر انرجی کے زیرِ انتظام کوئی ایل این جی بردار جہاز آبنائے ہرمز سے باہر نکلا ہے۔
کپلر کے مطابق اس سے قبل آبنائے ہرمز سے نکلنے والا آخری ایل این جی بردار جہاز ”الحمرا“ تھا، جو 11 جولائی کو متحدہ عرب امارات کے داس آئی لینڈ سے ایل این جی کا کارگو لے کر روانہ ہوا تھا۔
دریں اثنا ”مروہ“ نامی ایل این جی بردار ٹینکر، جسے آخری بار 24 جولائی کو خالی حالت (بیلَسٹ) میں آبنائے ہرمز سے باہر دیکھا گیا تھا، جمعرات کو دوبارہ آبنائے ہرمز کے اندر دیکھا گیا۔
کپلر اور ایل ایس ای جی کے مطابق اے ڈی نوک گیس کے زیرِ انتظام یہ جہاز اب بھی خالی حالت میں ہے۔
قطر انرجی اور اے ڈی نوک نے دفتری اوقات ختم ہونے کے باعث تبصرے کی درخواست پر فوری ردِعمل نہیں دیا۔
آبنائے ہرمز
کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو 12 کموڈیٹی بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں چھ جہاز آبنائے میں داخل ہوئے جبکہ چھ وہاں سے باہر نکلے۔ یہ تعداد گزشتہ دو روز کے مقابلے میں زیادہ رہی۔
باب المندب
کپلر کے مطابق بدھ کو 19 کموڈیٹی بردار جہاز باب المندب سے گزرے، جو پیر اور منگل کے مقابلے میں کم تعداد ہے، جبکہ ایل ایس ای جی نے اس روز گزرنے والے جہازوں کی تعداد 26 بتائی۔
کپلر کے مطابق گزرنے والے 19 جہازوں میں سے آٹھ آبنائے میں داخل ہوئے جبکہ 11 وہاں سے باہر نکلے۔ باہر نکلنے والے جہازوں میں چار خام تیل بردار ٹینکر بھی شامل تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بعض جہاز اپنے ٹرانسپونڈر (شناختی سگنل) بند رکھ کر بھی سفر کرتے ہیں، اس لیے انہیں ان اعداد و شمار میں شامل نہیں کیا جاتا۔
کپلر اور اے ایکس ایس میرین کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی ناکہ بندی کا اعلان کیے جانے کے بعد گزشتہ ہفتے بحیرہ احمر کی ینبع بندرگاہ سے خام تیل کی نمایاں لوڈنگ میں کم از کم 30 فیصد کمی آئی۔
تاہم، تجزیاتی ادارے ورٹیکسا کے مطابق خام تیل کی مجموعی برآمدات بڑی حد تک مستحکم رہیں، کیونکہ نام نہاد ”ڈارک ٹینکرز“ (ایسے جہاز جو اپنی شناختی نشریات بند کر کے سفر کرتے ہیں) کے ذریعے لوڈنگ میں اضافہ دیکھا گیا۔
ورٹیکسا کے تجزیہ کار جارج مورس نے کہا:”ہم نے بحیرہ احمر سے خام تیل اور کنڈینسیٹ لوڈ کرنے کے بعد شمال کی جانب روانہ ہونے والے ٹینکروں کی تعداد میں واضح اضافہ دیکھا ہے۔ یہ رجحان باب المندب کے گرد سکیورٹی خطرات میں دوبارہ اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔“
انہوں نے کہا:”جون کے دوران ینبع بندرگاہ سے لوڈ ہونے والے کارگو ایشیا کی سمندری راستے سے درآمد کی جانے والی خام تیل اور کنڈینسیٹ کی مجموعی درآمدات کا تقریباً 15 فیصد تھے، لہٰذا اگر اس سپلائی میں طویل عرصے تک رکاوٹ برقرار رہی تو اس کے ایشیائی ریفائنریوں پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔“


Comments