BR100 Decreased By (-0.38%)
BR30 Decreased By (-0.46%)
KSE100 Decreased By (-0.42%)
KSE30 Decreased By (-0.52%)
BAFL 55.50 Decreased By ▼ -0.70 (-1.25%)
BIPL 26.90 Increased By ▲ 0.13 (0.49%)
BOP 32.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.03%)
CNERGY 10.29 Increased By ▲ 0.19 (1.88%)
DFML 17.81 Increased By ▲ 0.09 (0.51%)
DGKC 195.18 Decreased By ▼ -1.49 (-0.76%)
FABL 98.68 Decreased By ▼ -0.30 (-0.3%)
FCCL 51.74 Increased By ▲ 0.49 (0.96%)
FFL 16.49 Increased By ▲ 0.31 (1.92%)
GGL 25.06 Increased By ▲ 0.07 (0.28%)
HBL 292.00 Decreased By ▼ -3.49 (-1.18%)
HUBC 213.97 Decreased By ▼ -0.21 (-0.1%)
HUMNL 10.45 Increased By ▲ 0.09 (0.87%)
KEL 7.14 Increased By ▲ 0.08 (1.13%)
LOTCHEM 26.81 Decreased By ▼ -2.31 (-7.93%)
MLCF 88.17 Decreased By ▼ -0.65 (-0.73%)
OGDC 310.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.5%)
PAEL 40.85 Decreased By ▼ -0.14 (-0.34%)
PIBTL 15.85 Decreased By ▼ -0.11 (-0.69%)
PIOC 283.69 Increased By ▲ 0.85 (0.3%)
PPL 211.10 Decreased By ▼ -1.56 (-0.73%)
PRL 53.14 Increased By ▲ 0.60 (1.14%)
SNGP 98.25 Decreased By ▼ -1.11 (-1.12%)
SSGC 24.85 Decreased By ▼ -0.25 (-1%)
TELE 8.29 Decreased By ▼ -0.03 (-0.36%)
TPLP 12.97 Decreased By ▼ -0.25 (-1.89%)
TRG 58.97 Increased By ▲ 2.08 (3.66%)
UNITY 9.88 Decreased By ▼ -0.06 (-0.6%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)

یہ ایکس پر مایوسی اور غصے کے عالم میں لکھے گئے چند الفاظ تھے:

تمام کاکروچ اکٹھے ہوجائیں تو کیا ہوگا؟

اب ان چند الفاظ کے 30 سالہ مصنف ابھیجیت دیپکے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ہونے والے ممکنہ طور پر سب سے بڑے عوامی احتجاج کا چہرہ بن چکے ہیں۔

ابھیجیت دیپکے کی 16 مئی کو کی گئی پوسٹ ابتدا میں سپریم کورٹ کے جج سوریا کانت کے ایک بیان پر طنزیہ ردعمل تھی جس میں انہوں نے ایک تقریر کے دوران بھارت کے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ سے تشبیہ دی تھی۔

سوریا کانت نے بعد میں کہا کہ ان کے ریمارکس کو غلط سمجھا گیا تھا۔

لیکن اس وقت تک ڈپکے کی پوسٹ وائرل ہوچکی تھی۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے نام سے ایک طنزیہ پلیٹ فارم وجود میں آ گیا جو لاکھوں نوجوان بھارتیوں کے لیے ایک متحد ہونے کا مرکز بن گیا۔ یہ نوجوان بڑھتی بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے لیک ہونے اور حکومت سے جواب دہی کے مطالبے پر مایوسی کا شکار تھے۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران نئی دہلی میں ہزاروں افراد نے بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ مئی میں ہونے والے میڈیکل داخلہ ٹیسٹ کے پرچے لیک ہونے سے تقریباً 20 لاکھ طلبہ متاثر ہوئے جبکہ اس معاملے کو متعدد طلبہ کی خودکشیوں سے بھی جوڑا گیا ہے۔ دھرمیندر پردھان نے ہفتے کو استعفیٰ دے دیا جو نوجوان مظاہرین کے لیے ایک بڑی کامیابی اور نریندر مودی حکومت کی بڑی ناکامیوں میں سے ایک قرار دی جارہی ہے۔

ملک کے دیگر حصوں میں بھی احتجاج کی اطلاعات ملی ہیں جن میں ممبئی بھی شامل ہے۔

ان تمام صورتحال کے مرکز میں ابھیجیت دیپکے ہیں۔

سادہ پس منظر

جون کے اوائل تک امریکا کے شہر بوسٹن میں مقیم رہنے والے ڈپکے دہلی کے قلب میں واقع جنتر منتر کے قریب احتجاج شروع کرنے کے لیے واپس بھارت روانہ ہوئے۔

اس کے بعد سے اور خاص طور پر پیر کو مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کے بعد پیدا ہونے والے عوامی غم و غصے کے نتیجے میں ابھیجیت دیپکے احتجاجی مقام پر قائم ایک بلند اسٹیج پر مسلسل موجود رہے ہیں۔

داڑھی رکھے اور ٹی شرٹ و جینز پہنے ابھیجیت دیپکے سیکڑوں افراد کے مجمع سے خطاب کرتے ہیں، انہیں پُرامن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہیں۔

اگرچہ کاکروچ جنتا پارٹی کے کئی منتظمین ہیں تاہم ابھیجیت دیپکے اس کا سب سے نمایاں چہرہ بن چکے ہیں جنہیں حمایت اور تنقید دونوں کا سامنا ہے۔

ابھیجیت دیپکے مغربی بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر اورنگ آباد میں ایک دلت خاندان میں پیدا ہوئے جو بھارت کی تاریخ میں طویل عرصے سے محروم رہنے والی برادریوں میں شمار ہوتی ہے۔

ابھیجیت دیپکے نے مئی میں رائٹرز کو بتایا کہ میرے والد کا تعلق ایک انتہائی معمولی پس منظر سے ہے۔ انہوں نے شدید غربت میں زندگی گزاری۔ میرے دادا ایک کسان تھے۔

ان کی دلت شناخت نے طویل عرصے سے ان کی سیاسی سوچ کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

جب وہ 6 جون کو دہلی پہنچے تو دپکے نے اپنے گرد ہجوم بنائے حامیوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان دلت حقوق کے علمبردار اور بھارت کے جمہوری آئین کے اہم معمار بی آر امبیڈکر کی کتاب مائی آٹو بائیوگرافی کی ایک کاپی بلند کی ہوئی تھی۔

2020 میں ڈپکے نے عام آدمی پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم میں شمولیت اختیار کی جہاں ان کے مطابق انہوں نے سیاسی پیغام رسانی کا ایسا انداز تیار کیا جو میمز، مزاح اور طنز پر مبنی تھا۔

اب وہ اس جماعت سے وابستہ نہیں ہیں تاہم عام آدمی پارٹی اور بھارت کی کئی دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اس تحریک کی حمایت کی ہے۔

2023 میں ڈپکے پبلک ریلیشنز میں ماسٹرز ڈگری حاصل کرنے کے لیے امریکا منتقل ہوگئے اور بوسٹن میں مقیم رہے، تاہم وہ بھارتی سیاست پر گہری نظر رکھتے رہے۔

سوشل میڈیا پوسٹ سے تحریک تک

ابھیجیت دیپکے کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اپنی اچانک مقبولیت اور نمایاں حیثیت کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اس تحریک کو ابتدائی طور پر فروغ دینے والوں میں دہلی سے تعلق رکھنے والے یوٹیوبر میگھناد ایس بھی شامل تھے۔ ابھیجیت دیپکے کی پوسٹ کے فوراً بعد انہوں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر اے آئی کے ٹولز استعمال کرتے ہوئے ایک طنزیہ ویب سائٹ تیار کی جس میں کاکروچ جنتا پارٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا۔

میگھناد نے کہا کہ میں نے وہ صفحہ دیکھا تو مجھے لگا کہ یہ انتہائی مزاحیہ ہے۔

انسٹاگرام اکاؤنٹ نے چند ہی دنوں میں 2 کروڑ 20 لاکھ فالوورز حاصل کرلیے جبکہ حال ہی میں یہ تعداد مزید بڑھ کر 2 کروڑ 50 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

میگھناد کا کہنا تھا کہ یہ تحریک مکمل طور پر عوامی اور فطری انداز میں ابھری۔

لیکن جیسے جیسے یہ آن لائن تحریک بڑھتی گئی ویسے ویسے اس کی اہمیت بھی بڑھتی گئی۔

مئی میں بوسٹن سے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیجیت دیپکے نے کہا

یہ بھارت کے سیاسی بیانیے کو تبدیل کرنے کی ایک تحریک ہے۔ بھارت کے نوجوان بڑی حد تک مرکزی سیاسی گفتگو سے غائب ہوچکے ہیں۔

اپنے اور اپنے خاندان کو ملنے والی دھمکیوں کے باوجود ابھیجیت دیپکے نے بھارت واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کم از کم اس وقت تک یہاں موجود رہیں گے جب تک طلبہ کو انصاف نہیں مل جاتا۔

6 جون سے ابھیجیت دیپکے احتجاجی مقام پر موجود ہیں جہاں مظاہروں کا دائرہ وسیع ہوتا جارہا ہے، انہیں اکثر مظاہرین سے تحریک کو پُرامن رکھنے کی اپیل کرتے، میڈیا سے گفتگو کرتے یا مختصر وقفوں میں آرام کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

Comments

200 حروف