کے الیکٹرک کی صنعتی بجلی کھپت مالی سال 2026 میں 20 فیصد بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس ہو گئی
- پیش رفت کراچی اور ملک کے معاشی انجن کو توانائی فراہم کرنے میں یوٹیلیٹی کے کردار کو اجاگر کرتی ہے
کے الیکٹرک (کے ای) کے صنعتی فیڈرز کی بجلی کھپت مالی سال 2026 میں ریکارڈ بلند سطح پر پہنچ کر 6.08 ارب یونٹس ہو گئی، جبکہ اسی مالی سال کے دوران پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو بڑھ کر 3.7 فیصد رہی۔ یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں بتائی۔
انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت کراچی، جو ملک کا معاشی انجن ہے، کو توانائی فراہم کرنے میں کے الیکٹرک کے کردار کو اجاگر کرتی ہے۔
خرم شہزاد نے لکھا، ”یہ وہ بنیادی اشاریے ہیں جو صرف نمایاں اعداد و شمار سے آگے بڑھ کر معاشی سرگرمیوں میں بہتری کی عکاسی کرتے ہیں۔“
”کراچی پاکستان کی معیشت کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ جب یہاں کی صنعتیں زیادہ بجلی استعمال کرتی ہیں تو یہ اکثر اس بات کا مضبوط اشارہ ہوتا ہے کہ معاشی ترقی کی رفتار تیز ہو رہی ہے۔“
ایک الگ بیان میں کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طٰہٰ نے کہا، ”اس کامیابی کو الگ تھلگ دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے، جن کی مسلسل معاونت نے سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے لیے ایک مستحکم اور سازگار کاروباری ماحول تشکیل دینے میں مدد دی۔“
انہوں نے کہا، ”کراچی پاکستان کی صنعتی اور تجارتی ترقی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ کے الیکٹرک 2013 سے صنعتوں کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ بجلی فراہم کر رہا ہے اور ہم قابلِ اعتماد اور پائیدار توانائی کے ذریعے اس ترقی میں اپنا کردار جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔“
کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز مختلف صنعتی زونز میں پھیلی ہوئی متعدد مینوفیکچرنگ اور صنعتی یونٹس کو بجلی فراہم کرتے ہیں۔
کے الیکٹرک کے بیان کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کھپت بی تھری کیٹیگری میں رہی، جس میں 501 سے 5,000 کلو واٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل اور ٹیکسٹائل سمیت دیگر شعبوں کے صنعتی یونٹس شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر صنعتی بجلی کا سب سے زیادہ استعمال جون 2026 میں ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اپریل 2026 کا نمبر آتا ہے۔
اس سے قبل سالانہ بنیاد پر سب سے زیادہ صنعتی بجلی کھپت مالی سال 2022 میں ریکارڈ کی گئی تھی، جب گرڈ سے صنعتی استعمال 5.84 ارب یونٹس تک پہنچ گیا تھا اور اسی سال جی ڈی پی کی شرح نمو بھی 6 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی۔
کے الیکٹرک نے کہا، ”مالی سال 2022 کے بعد معاشی مشکلات کے باعث صنعتی بجلی کھپت معتدل رہی، تاہم مالی سال 2026 میں اس میں سالانہ بنیاد پر نمایاں 20 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مالی سال 2025 میں بجلی استعمال 5.04 ارب یونٹس رہا تھا۔“
ادارے کے مطابق، ”حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور سے گرڈ پر منتقل کرنے کی ترغیب اور جی ڈی پی نمو میں بہتری کے باعث صنعتی بجلی کھپت میں اضافہ ہوا۔ کے الیکٹرک نے 349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم کیے، جبکہ مزید 273 صارفین نے اپنے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر گرڈ پر 168 میگاواٹ طلب کا اضافہ ہوا۔“
یوٹیلیٹی کے مطابق صنعتی فیڈرز اور اس شعبے میں بلوں کی وصولی کی شرح تمام صارفین کے زمروں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر رہی ہے، جو بروقت بلوں کی ادائیگی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کیونکہ یہی لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ حاصل کرنے کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔






















Comments