پاکستان کی صنعتی پالیسی درست سمت سے ہٹ گئی؟
- پاکستان میں تقریباً 7,589 کسٹمز ٹیرف لائنز میں سے 7,476 پر پہلے سے موجود بلند کسٹمز ڈیوٹی کے علاوہ اضافی کسٹمز ڈیوٹی بھی نافذ ہے
صنعتی پالیسی ایک بار پھر مقبول ہو رہی ہے، اور اب وہی ادارہ جس نے گزشتہ 30 برس تک ہمیں یہ بتایا کہ صنعتی پالیسی کتنی خراب چیز ہے، اپنی رائے میں مکمل یوٹرن لے چکا ہے۔
ورلڈ بینک کی نئی مرکزی رپورٹ ”انڈسٹریل پالیسی فار ڈولپمنٹ“ تسلیم کرتی ہے کہ صنعتی پالیسی کے بارے میں بینک کی سابقہ پالیسی وقت کی کسوٹی پر پوری نہیں اتری۔ بینک کے چیف اکانومسٹ انڈرمٹ گل کے مطابق اب اس کی عملی افادیت ایک فلاپی ڈسک جتنی رہ گئی ہے۔
بظاہر یہ پاکستان جیسے ملک کے لیے ایک طرح کی توثیق معلوم ہو سکتی ہے، جو ہمیشہ ایسی پالیسی کی تلاش میں رہا ہے جس کے ذریعے ملک میں مسلسل معاشی ترقی حاصل کی جا سکے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔
اگر اس رپورٹ کو غور سے پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ریاست کی سرگرم مداخلت کی وکالت نہیں کرتی، بلکہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ پالیسی کے عزائم کو ریاستی صلاحیت کے مطابق ڈھالا جائے۔ اور اس پیمانے پر دیکھا جائے تو پاکستان اس معیار سے بہت پیچھے ہے۔
رپورٹ سفارش کرتی ہے کہ صنعتی پالیسی کے مختلف آلات کو اختیار کرتے وقت سب سے پہلے ان کی عملی افادیت اور قابلِ عمل ہونے کا جائزہ لیا جائے۔ حکومتوں کو ابتدا ایسے ادارہ جاتی ڈھانچے اور عوامی سہولتوں سے کرنی چاہیے، جیسے صنعتی پارکس، معیاری انفراسٹرکچر، منڈیوں تک رسائی کے لیے معاونت، اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتوں کی فراہمی۔
یہ اقدامات مالی اور انتظامی لحاظ سے نسبتاً کم لاگت والے ہوتے ہیں اور سب سے پہلے منڈی کی ناکامیوں کو دور کرتے ہیں۔ اس کے بعد، جب ریاستی صلاحیت اور مالی وسائل مضبوط ہو جائیں، تب حکومتوں کو زیادہ بلند ہدف رکھنے والے اقدامات، مثلاً ٹیرف، سبسڈیز اور مخصوص مراعات کی طرف جانا چاہیے، کیونکہ ان کے لیے مسلسل نگرانی اور پالیسی کی غلطیوں کو بروقت درست کرنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔
رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ حکومتیں حقیقت میں کیا کچھ کر سکتی ہیں، اس کا انحصار تین عوامل پر ہے:انتظامی استعداد،ملکی منڈی کا حجم اورمالی گنجائش۔ اس سیڑھی کو معیار بنایا جائے تو پاکستان اوپر سے نیچے کی طرف سفر کر رہا ہے، حالانکہ اسے نیچے سے اوپر جانا چاہیے تھا۔
پاکستان میں تقریباً 7,589 کسٹمز ٹیرف لائنز میں سے 7,476 پر پہلے سے موجود بلند کسٹمز ڈیوٹی کے علاوہ اضافی کسٹمز ڈیوٹی بھی نافذ ہے، اور اکثر صورتوں میں اس کے ساتھ ریگولیٹری ڈیوٹی بھی عائد ہے۔
گزشتہ مالی سال کے دوران وفاقی حکومت کی ٹیکس اخراجات، یعنی ٹیکس چھوٹ اور رعایتوں کے باعث حاصل نہ ہونے والی آمدنی، تقریباً 2.35 کھرب روپے رہی۔ یہ رقم حکومت کے مجموعی ٹیکس ہدف کے تقریباً چھٹے حصے کے برابر اور وفاق کی مجموعی سبسڈی اخراجات سے تقریباً دوگنی ہے۔
صرف بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ جون میں 1.6 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا، جبکہ اس شعبے کو ہر سال ایک کھرب روپے سے زائد سبسڈی دی جاتی ہے۔
یعنی پاکستان کسی بھی لحاظ سے کم مداخلت کرنے والی ریاست نہیں، بلکہ ترقی پذیر دنیا میں سب سے زیادہ مہنگے صنعتی پالیسی نظاموں میں سے ایک رکھتا ہے۔
اور یہ پورا نظام ایسی ریاست چلا رہی ہے جس کے پاس، خود ورلڈ بینک کے مطابق، ان مہنگے پالیسی آلات کے لیے درکار تین بنیادی عناصر میں سے دو موجود ہی نہیں۔
ورلڈ بینک کے گورنمنٹ ایفیکٹیونس انڈیکس میں پاکستان دنیا کے نچلے ایک تہائی ممالک میں شامل ہے۔
اسی طرح پاکستان کا وفاقی ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریباً 10 فیصد پر رکا ہوا ہے، جبکہ خود وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے کم از کم 14 فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی ضروری ہے۔
اتنی محدود صلاحیت رکھنے والی حکومت نہ تو اپنی دی گئی مراعات کی مؤثر نگرانی کر سکتی ہے، اور نہ ہی اس کے پاس اتنی مالی گنجائش ہے کہ وہ ناکام ثابت ہونے والی مراعات کا بوجھ مسلسل اٹھا سکے۔اس کے نتائج صنعتی اعداد و شمار میں صاف دکھائی دیتے ہیں۔
مینوفیکچرنگ کا شعبہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 12 فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے، جبکہ بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) کی پیداوار مسلسل تیسرے سال بھی سکڑ گئی ہے۔اگر ان اعداد و شمار کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو مسئلہ واضح ہو جاتا ہے۔سب سے زیادہ ترقی آٹوموبائل صنعت (40 فیصد پلس) میں ہوئی، جبکہ برآمدات پر مبنی صنعتیں، جیسے کیمیکل، اسٹیل اور برقی آلات نمایاں زوال کا شکار رہیں۔
یعنی معیشت کا سب سے زیادہ تحفظ یافتہ شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے، جبکہ عالمی مسابقت رکھنے والی صنعتیں سکڑ رہی ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ پالیسی آلات مسابقت پیدا کرنے میں مدد نہیں دے رہے، بلکہ صرف پہلے سے موجود کاروباری اداروں کے مفادات کو محفوظ بنا رہے ہیں۔
یہاں تین بڑی ناکامیاں ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔پہلی ناکامی یہ ہے کہ پالیسی آلات کی ترجیحی ترتیب الٹ گئی ہے۔ سب سے مہنگے اور پیچیدہ آلات سب سے اوپر رکھ دیے گئے ہیں، جبکہ کم لاگت والے عوامی اقدامات، جو زیادہ فائدہ پہنچا سکتے تھے، نظر انداز کر دیے گئے ہیں۔دوسری، اور سب سے زیادہ نقصان دہ ناکامی، یہ ہے کہ مراعات کسی شرط کے بغیر دی جا رہی ہیں۔ورلڈ بینک واضح کرتا ہے کہ جہاں باصلاحیت ادارے، جو مفاداتی گروہوں کے اثر سے محفوظ ہوں، کارکردگی کی نگرانی کر سکیں اور ناکام پروگراموں کو بند کر سکیں، وہاں مراعات مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔لیکن پاکستان میں مراعات کسی واضح شرط، کارکردگی کے جائزے یا احتساب کے بغیر دی جاتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خود حکومت کی قومی ٹیرف پالیسی بھی تسلیم کرتی ہے کہ اضافی اور ریگولیٹری ڈیوٹیوں کی موجودہ پالیسی غیر منصفانہ، غیر شفاف اور بااثر طبقوں کے مفادات کے تابع بنتی جا رہی ہے۔
اسی طرح ٹیکس چھوٹیں عارضی سہولت کے بجائے مستقل استحقاق کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔تیسری ناکامی مالیاتی ہے۔ایسے بجٹ میں جہاں زیادہ تر وسائل قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتے ہیں، وہاں ہر وہ روپیہ جو بغیر کسی حد کے سبسڈی پر خرچ کیا جاتا ہے، وہ دراصل اسکولوں، سائنسی تجربہ گاہوں (لیبارٹریوں) اور سڑکوں جیسے کم لاگت مگر زیادہ فائدہ دینے والے منصوبوں سے چھین لیا جاتا ہے۔
یہ تمام باتیں اس امر کا جواز نہیں بنتیں کہ صنعتی پالیسی کو ترک کر دیا جائے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ صنعتی پالیسی کو درست ترتیب میں لایا جائے۔اصلاح کا آغاز پانچ بنیادی اقدامات سے ہونا چاہیے۔قومی ٹیرف پالیسی میں پہلے ہی منظور کی جا چکی ٹیرف اصلاحات پر فوری عمل درآمد کیا جائے، اور اس کے مقررہ وقت کو ان مفاداتی گروہوں کے دباؤ سے محفوظ رکھا جائے جو اب تک ہر ممکن کوشش کرتے رہے ہیں کہ ان اصلاحات کو واپس پلٹ دیا جائے۔ برآمدات، روزگار اور پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر دی جانے والی تمام ٹیکس چھوٹوں اور سبسڈیز کے ساتھ واضح، قابلِ پیمائش شرائط منسلک کی جائیں، اور ہر بار ان کی تجدید سے پہلے ان کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔اس آمدنی کا ایک حصہ، جو اس وقت مختلف رعایتیں اور مراعات دینے پر خرچ کیا جا رہا ہے، اسے مخصوص صنعتی کلسٹرز کے لیے معیاری انفراسٹرکچر اور مہارتوں کی ترقی پر منتقل کیا جائے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ اور دیگر اداروں میں بکھرے ہوئے اختیارات کو ایک ایسے پیشہ ورانہ اور سیاسی و مفاداتی دباؤ سے محفوظ ادارے کے تحت جمع کیا جائے، جو مؤثر پالیسی سازی اور عمل درآمد کی صلاحیت رکھتا ہو۔ پانچواں قدم، ترجیحی شعبوں کو محدود اور منظم کیا جائے، اور 13 شعبوں پر مشتمل ایک طویل خواہشاتی فہرست کی بجائے صرف چند ایسے شعبوں کی معاونت کی جائے جو ملک کے موجودہ وسائل، صلاحیتوں اور مسابقتی برتری پر مبنی ہوں۔
جن ممالک نے اس شعبے میں کامیابی حاصل کی جنوبی کوریا کی برآمدات سے مشروط معاونت، کوسٹا ریکا کی نظم و ضبط پر مبنی سرمایہ کاری ایجنسی، اور مراکش کی آٹوموبائل صنعت پر مرکوز حکمت عملی ان سب میں ایک مشترک خصوصیت تھی۔انہوں نے اپنے وسائل کو اپنے پالیسی آلات کے مطابق ڈھالا۔پاکستان میں مسئلہ کبھی عزم یا پالیسی آلات کی کمی نہیں رہا۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ پالیسی آلات درست ترتیب میں نہیں ہیں۔جب تک اس ترتیب کو درست نہیں کیا جاتا، مزید صنعتی پالیسی صرف اخراجات میں اضافہ کرے گی، فوائد میں نہیں۔
The writer is Director Economic Affairs at the Centre for Aerospace & Security Studies (CASS), Lahore, Pakistan. He can be reached at [email protected]























Comments