پاکستان کی نئی بیرونی فنانسنگ حکمت عملی: جی ایم ٹی اینز اور بین الاقوامی صکوک کی تیاری
- حکومت نے عالمی مالیاتی منڈیوں سے ضرورت پڑنے پر فنڈز کے حصول کے لیے پیشگی انتظامات مکمل کر لیے، یورو بانڈز، بین الاقوامی صکوک اور جی ایم ٹی اینز کے اجرا کی راہ ہموار
پاکستان کی جانب سے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (جی ایم ٹی این) اور بین الاقوامی صکوک پروگراموں کے لیے بین الاقوامی بینکوں کے کنسورشیمز کی تقرری محض مالیاتی مشیروں کے انتخاب تک محدود نہیں۔ یہ اس بات کا اہم اشارہ ہے کہ ملک ضرورت پڑنے پر دوبارہ عالمی قرض مارکیٹوں سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
یہ تقرریاں، جو تین سال کے لیے مؤثر ہوں گی، حکومت کو عالمی سرمایہ کاری بینکوں کے ساتھ مل کر یورو بانڈز، بین الاقوامی صکوک اور روپے مالیت مگر امریکی ڈالر میں تصفیہ ہونے والے بانڈز سمیت خودمختار قرضہ جاتی سیکیورٹیز کے ممکنہ اجرا کی تیاری کا موقع فراہم کریں گی۔
اس حکمتِ عملی کا محور گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (جی ایم ٹی این) پروگرام ہے۔
جی ایم ٹی این پروگرام دراصل ایک ایسا پہلے سے منظور شدہ فریم ورک ہوتا ہے، جس کے تحت حکومتیں اور کمپنیاں ہر مرتبہ قرض لینے کے لیے نئی قانونی اور دستاویزی کارروائی مکمل کیے بغیر عالمی مالیاتی منڈیوں میں بانڈز جاری کر سکتی ہیں۔ ایک مرتبہ یہ پروگرام قائم ہو جائے اور تمام ریگولیٹری تقاضے پورے کر لیے جائیں تو موزوں مارکیٹ حالات میں عالمی سرمایہ کاروں تک رسائی زیادہ تیزی اور مؤثر انداز میں ممکن ہو جاتی ہے۔
جی ایم ٹی این بذاتِ خود نہ قرض ہے اور نہ ہی بانڈ، بلکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کے تحت کئی برسوں کے دوران مختلف کرنسیوں، مختلف مدتِ میعاد اور مختلف حجم کے بانڈز جاری کیے جا سکتے ہیں۔
روایتی قرض کے حصول کے ساتھ ساتھ پاکستان بین الاقوامی صکوک کے اجرا کی تیاری بھی کر رہا ہے۔
صکوک اسلامی مالیاتی دستاویز ہے، جو معاشی اعتبار سے روایتی بانڈ جیسا کردار ادا کرتا ہے، تاہم اسے شریعت کے اصولوں کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے، جہاں سود کی ادائیگی ممنوع ہے۔ سود وصول کرنے کے بجائے سرمایہ کاروں کو بنیادی اثاثوں یا معاہداتی نقد بہاؤ سے منسلک منافع حاصل ہوتا ہے۔
بین الاقوامی صکوک کے ذریعے پاکستان جیسے ممالک خصوصاً مشرقِ وسطیٰ اور اسلامی مالیاتی منڈیوں کے ان سرمایہ کاروں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جہاں شریعت سے ہم آہنگ سرمایہ کاری کی طلب نمایاں ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق حالیہ تقرریوں کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان فوری طور پر عالمی مالیاتی منڈیوں سے فنڈز حاصل کرنے جا رہا ہے، بلکہ اس کا مقصد مستحکم، متنوع اور پائیدار بیرونی مالیاتی فریم ورک قائم کرنا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر حکومت بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں سے بروقت رجوع کر سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بہتر ہوتے ہوئے معاشی اشاریوں، مضبوط زرمبادلہ ذخائر، مالیاتی نظم و ضبط اور ساختی اصلاحات میں پیش رفت کا عکاس بھی ہے، جن کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان کے لیے دوبارہ عالمی قرض مارکیٹوں میں واپسی کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔























Comments