امریکی نئی ٹیرف دھمکی کے بعد کینیڈا تمام آپشنز پر غور میں مصروف
- ٹرمپ کی کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی منصوبہ بندی، کینیڈین وزیراعظم کا ہر ممکن آپشن پر غور
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے منگل کے روز کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آئندہ 30 روز کے دوران متعدد کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد نئے ٹیرف عائد کرنے کے منصوبے کے بعد ان کی حکومت ”تمام ممکنہ آپشنز“ پر غور کر رہی ہے۔
کارنی نے بتایا کہ ان کا اور ٹرمپ کا اس بات پر بھی اتفاق رائے ہوا ہے کہ ممکنہ تجارتی معاہدے کے لیے آئندہ چند ہفتوں میں مذاکرات کو مزید تیز کیا جائے گا، تاہم انہوں نے یہ عندیہ نہیں دیا کہ وہ اس سلسلے میں واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔
صحافیوں سے گفتگو میں کارنی نے کہا، ”اگر یہ ٹیرف نافذ کیے جاتے ہیں تو ہم اپنے ردعمل کے حوالے سے تمام ممکنہ آپشنز کا جائزہ لیں گے۔“
نئے امریکی ٹیرف کا اطلاق کینیڈین شراب، ہاکی اسٹکس اور سیمنٹ سمیت متعدد مصنوعات پر ہوگا، تاہم توانائی، پوٹاش اور وہ اشیا جو پہلے ہی شعبہ وار ٹیرف کی زد میں ہیں، ان پر یہ محصولات لاگو نہیں ہوں گے۔
تاہم یہ محصولات امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے آزاد تجارتی معاہدے (یو ایس ایم سی اے) کے تحت آنے والی مصنوعات پر بھی لاگو ہوں گے۔ اس معاہدے پر بھی نئے مذاکرات متوقع ہیں، کیونکہ واشنگٹن نے یکم جولائی کو اعلان کیا تھا کہ وہ موجودہ شکل میں اس معاہدے میں توسیع نہیں کرے گا۔
مارک کارنی نے کہا، ”ہماری پہلی ترجیح ایک جامع تجارتی معاہدہ طے کرنا ہے۔“
دوسری جانب کینیڈا کی قدامت پسند اپوزیشن نے نئی تجارتی شراکت داریاں طے کرنے کی حکومتی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کو ٹرمپ کے تجارتی اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے قدرتی وسائل سے متعلق رکاوٹیں دور کرنی چاہییں۔























Comments