بالآخر دنیا ہماری بات سن رہی ہے
- بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم امتیاز پر عالمی برادری کی خاموشی اب اقوامِ متحدہ کی مداخلت کے بعد ختم ہو رہی ہے
برسوں تک بھارت کی مسلم اقلیت کے خلاف منظم امتیازی سلوک کے الزامات کو کئی عالمی حکومتوں کی جانب سے محض اندرونی سیاسی نعرے بازی یا دوطرفہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کہہ کر مسترد کیا جاتا رہا۔ اب اس موقف کو برقرار رکھنا مسلسل مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
جب خود اقوامِ متحدہ (یو این) کے انسانی حقوق کے ماہرین لاکھوں ووٹرز کو انتخابی عمل سے باہر نکالنے، سرکاری سطح پر امتیازی بیانات اور بنیادی سیاسی حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں تو یہ بحث علاقائی سفارت کاری سے نکل کر بین الاقوامی احتساب کے دائرے میں داخل ہو جاتی ہے۔حالیہ خدشات مغربی بنگال میں بڑے پیمانے پر انتخابی فہرستوں کی نظرثانی (ووٹر لسٹوں کی پڑتال) سے متعلق ہیں، جہاں اقوامِ متحدہ کے خصوصی مبصرین نے ووٹر لسٹوں سے لاکھوں نام خارج کیے جانے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس عمل سے مسلمان اور دیگر اقلیتی برادریاں غیر متناسب طور پر بہت زیادہ متاثر ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ خاص طور پر یہ الزامات انتہائی تشویشناک ہیں کہ کچھ حلقوں میں نکالے گئے ووٹرز کی ایک بہت بڑی تعداد مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھتی تھی، جبکہ مقامی ووٹرز میں ان کا تناسب بہت کم تھا۔ ماہرین نے مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی اور متنبہ کیا کہ اگر مناسب حفاظتی انتظامات کے بغیر ان مبہم تکنیکی نظاموں کو استعمال کیا جائے تو یہ پہلے سے موجود تعصبات کو مزید ہوا دے سکتے ہیں۔
اسی طرح سینئر بھارتی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر استعمال کی جانے والی زبان بھی اتنی ہی پریشان کن تھی۔ اقوامِ متحدہ کے مراسلے کے مطابق عوامی سطح پر ”غیر قانونی بنگلادیشی تارکینِ وطن“ کی شناخت کے حوالے اور ”تلاش کرو، خارج کرو اور ملک بدر کرو“ (ڈیٹیکٹ، ڈیلیٹ اینڈ ڈیپورٹ) جیسی پالیسی کی وکالت کرنے والے نعرے بھارتی مسلمان شہریوں کو غیر ملکی باشندوں کے ساتھ گڈ مڈ کرنے کا سبب بنتے ہیں، جس سے پوری مذہبی برادری کے خلاف امتیازی رویوں کو جواز ملتا ہے۔ ایسی نعرے بازی کے اثرات انتخابی انتظام و انصرام سے کہیں آگے تک جاتے ہیں۔ جب حکومتیں شہریت کی تعریف مذہب یا نسل کے چشمے سے کرنے لگیں تو عوامی اداروں کے خود بھی برابر تحفظ فراہم کرنے کے بجائے تفریق پیدا کرنے کا ذریعہ بن جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔
ان واقعات کو الگ تھلگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ جب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) برسرِ اقتدار آئی ہے، مذہبی اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے خدشات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے)، مجوزہ نیشنل رجسٹر آف سیٹیزنز (این آر سی)، مسلم برادریوں پر اثر انداز ہونے والی پابندیاں، انتہا پسند گروپوں کے حملے، مسلم محلوں کو نشانہ بنانے والی مسماری مہم (بلڈوزر کارروائیاں) اور بار بار کی جانے والی فرقہ وارانہ نعرے بازی نے مل کر ایک ایسا سلسلہ بنا دیا ہے جس پر اب بین الاقوامی سطح پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ انفرادی طور پر تو حکومت ہر اقدام کا انتظامی یا قانونی بنیادوں پر دفاع کر سکتی ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ ایک ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جسے نظر انداز کرنا اب کئی مبصرین کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
پاکستان بین الاقوامی فورمز پر بار بار ان خدشات کو اٹھاتا رہا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ بھارت کا اندرونی رخ انسانی حقوق کے سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ ان انتباہات کو اکثر علاقائی دشمنی کے روایتی تناظر میں مسترد کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم جب اقوامِ متحدہ کے آزاد ماہرین بالکل اسی طرح کے خدشات اٹھاتے ہیں تو گفتگو کا رخ لازمی طور پر بدل جاتا ہے۔ اس مسئلے کو اب محض دوطرفہ سیاسی تنازع کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اقوامِ متحدہ کے ایک رکن ملک کی جانب سے رضاکارانہ طور پر قبول کی گئی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کا معاملہ بن جاتا ہے۔بھارت طویل عرصے سے خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر پیش کرتا رہا ہے، یہ ایک ایسا اعزاز ہے جو وقار کے ساتھ ساتھ ذمہ داریاں بھی لاتا ہے۔ جمہوری جواز صرف وقتاً فوقتاً انتخابات کرانے پر منحصر نہیں ہوتا۔ اس کے لیے یکساں شہریت، غیر جانبدار ادارے، آزاد عدالتی نگرانی اور اس یقین دہانی کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہر اہل شہری مذہب، نسل یا سیاسی شناخت کی بنیاد پر کسی بھی امتیاز کے بغیر انتخابی عمل میں حصہ لے سکے۔ انتخابی نظام اس وقت اپنی ساکھ کھو دیتے ہیں جب معاشرے کا ایک بڑا حصہ یہ سمجھنے لگے کہ انتظامی طریقہ کار کو چن چن کر ان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔اس کے اثرات بھارت کی سرحدوں سے باہر تک پھیلے ہوئے ہیں۔ جنوبی ایشیا اب بھی ایک ایسا خطہ ہے جہاں فرقہ وارانہ تناؤ قومی سرحدوں کے پار علاقائی استحکام، سفارتی تعلقات اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایسی پالیسیاں جن کے بارے میں یہ تاثر ہو کہ وہ مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، پڑوسی ممالک میں لازمی طور پر ردِعمل پیدا کرتی ہیں اور پہلے سے نازک علاقائی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔حتمی طور پر اقوامِ متحدہ کے ماہرین کی اس مداخلت کی اہمیت فوری قانونی نتائج سے زیادہ اس وسیع تر پیغام میں ہے جو یہ دے رہی ہے۔ بین الاقوامی ادارے شاذ و نادر ہی ایسی زبان ہلکے میں استعمال کرتے ہیں۔ ان کے خدشات مسترد کیے جانے کے بجائے سنجیدہ توجہ، شفاف تحقیقات اور معتبر جوابات کے مستحق ہیں۔
بھارت دنیا کو اپنی جمہوری ریت اور آئینی اقدار کی یاد اکثر دلاتا رہتا ہے۔ یہ روایات اس وقت سب سے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں جب ادارے اقلیتوں کا تحفظ اسی عزم کے ساتھ کریں جس عزم کے ساتھ وہ اکثریت کا کرتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا حالیہ مراسلہ بھارت کے لیے ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ کھلے پن، احتساب اور یکساں شہریت کے احترام کے ذریعے اس عزم کی تجدید کرے۔ ایسے انتباہات کو نظر انداز کرنا صرف انھی خدشات کو مزید تقویت دے گا جو اب بین الاقوامی اسٹیج تک پہنچ چکے ہیں۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026
























Comments