راک وول فاؤنڈیشن برلن کی ایک تحقیق کے مطابق خواتین کی نسبت مردوں میں یہ رجحان زیادہ پایا جاتا ہے کہ وہ اپنی موجودہ ملازمتوں میں تنخواہ بڑھوانے کے لیے باہر ملنے والے ملازمت کے مواقع کو بطور دباؤ استعمال کرتے ہیں جو کہ مرد و خواتین کی اجرتوں میں پائے جانے والے مستقل فرق کو بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔
تحقیق کے مطابق تنخواہ پر دوبارہ مذاکرات کا عمل مرد و خواتین کی اجرتوں میں پائے جانے والے فرق کی تقریباً نصف وجہ ہے۔
یورپی یونین کی پے ٹرانسپیرنسی ڈائریکٹو جون میں نافذ العمل ہو چکی ہے جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ کمپنیوں کے اندر تنخواہوں کے فرق کے بارے میں معلومات کو مزید شفاف بنائے گی۔
تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ تنخواہوں میں شفافیت کا اقدام تنہا مرد و خواتین کی اجرتوں کے فرق کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔
ایک ہی کام کی جگہ اور شعبے میں کام کرنے والے افراد کے درمیان مرد، خواتین کی نسبت اوسطاً 8 فیصد زیادہ کماتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ باہر سے ملنے والے ملازمت کے مواقع مردوں کی اپنی موجودہ ملازمتوں میں تنخواہ بڑھانے میں مدد کرتے ہیں جبکہ اسی طرح کی صورتحال میں خواتین کو اس کے مساوی کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا حالانکہ وہ بھی مردوں کی طرح ملازمت تبدیل کرنے کی اتنی ہی صلاحیت رکھتی ہیں۔
خواتین عام طور پر اپنی ملازمتوں کو تنخواہ بڑھوانے کے لیے بطورِ حربہ استعمال کرنے کے بجائے ملازمت تبدیل کر لیتی ہیں، اس کے برعکس مردوں میں ملازمت چھوڑے بغیر ہی تنخواہ میں اضافہ حاصل کر لینے کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے۔
























Comments