بھارتی پولیس نے بھوک ہڑتالی کارکن کو زبردستی اسپتال منتقل کر دیا
- وانگچک 28 جون سے تعلیمی وزیر کے استعفے کے مطالبے پر بھارت کی نوجوانوں کی تنظیم ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بھوک ہڑتال پر ہیں
بھارتی دارالحکومت دہلی میں حکام نے سماجی کارکن سونم وانگچک کو ہفتہ کے روز ان کی مرضی کے خلاف اسپتال منتقل کر دیا، کیونکہ وفاقی وزیرِ تعلیم کے استعفے کے مطالبے کے لیے جاری ان کی بھوک ہڑتال کے اکیسویں روز طبیعت بگڑ گئی تھی۔
59 سالہ وانگچک 28 جون سے بھارت کی نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔ یہ تنظیم مئی میں ہونے والے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر، جس سے لاکھوں طلبہ متاثر ہوئے، وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
وانگچک کی مہم وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے عوامی سطح پر سامنے آنے والے چند نمایاں چیلنجز میں سے ایک بن گئی ہے۔ اس مہم کو بھارت بھر سے حمایت حاصل ہوئی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر لاکھوں مرتبہ دیکھے اور شیئر کیے جانے کے بعد ان کے مطالبات کو بھی وسیع توجہ ملی ہے۔
ٹیلی وژن پر نشر ہونے والی فوٹیج میں ہفتہ کو دیکھا گیا کہ درجنوں سکیورٹی اہلکار، جن میں بعض سادہ لباس میں بھی تھے، احتجاج کے لیے قائم اسٹیج کے گرد بڑے سفید کپڑے بطور پردہ تھامے کھڑے تھے، جس کے بعد سونم وانگچک کو وہاں سے منتقل کر دیا گیا۔
وانگچک نے جمعہ کو سرکاری ڈاکٹروں کو بتایا تھا کہ وہ اسپتال منتقل ہونا نہیں چاہتے۔
مظاہرین کو مقام خالی کرنے کی ہدایت
ڈپٹی کمشنر پولیس سچن شرما نے موقع پر صحافیوں کو بتایا، ”عدالت کے حکم، طبی حالت اور ڈاکٹروں کے مشورے کی روشنی میں سونم وانگچک کو ضروری طبی علاج کے لیے ایک مناسب سرکاری اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔“
سرکاری صفدر جنگ اسپتال نے اپنے بیان میں کہا کہ طویل بھوک ہڑتال اور جسم میں پانی کی شدید کمی کے باعث وانگچک کمزور ہو چکے ہیں۔ اسپتال کے مطابق، ”اگرچہ ان کی حالت اس وقت مستحکم ہے، تاہم انہیں مسلسل نگرانی، طبی مشاہدے اور علاج کی ضرورت ہے۔“
وانگچک کے ذاتی معالج ستیش لامبا نے بتایا کہ اس وقت سب سے بڑا خدشہ ہائپوکلیمیا کا ہے، جس کی نشاندہی اسپتال میں ان کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر نے بھی کی ہے۔
ہائپوکلیمیا خون میں پوٹاشیم کی خطرناک حد تک کمی کو کہا جاتا ہے، جو اگر شدید یا اچانک ہو جائے تو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ اسپتال میں پوٹاشیم کی کمی کو وریدی محلول (ڈرِپ) کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے۔
جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ نے ایک درخواست کی سماعت کے دوران، جس میں وانگچک کی بگڑتی ہوئی صحت کے باعث انہیں زبردستی خوراک دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا، حکام کو ہدایت دی تھی کہ وہ ان کی صحت پر کڑی نظر رکھیں اور ضرورت پڑنے پر مداخلت کریں۔
پولیس نے احتجاجی مقام پر دھرنا دینے والے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بعض حامیوں کو بھی علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا، تاہم چند گھنٹوں بعد سینکڑوں افراد دوبارہ وہاں جمع ہو گئے، جب پارٹی کے بانی ابھجیت دپکے نے وانگچک کی منتقلی کے بعد غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی۔
دپکے نے صحافیوں سے کہا، ”وہ سونم سر کو گھسیٹ کر لے گئے… ہمیں نہیں معلوم انہیں کہاں منتقل کیا گیا ہے۔“
سی جے پی کے مظاہرین نے اعلان کیا کہ وہ 20 جولائی کو، جب پارلیمنٹ کا مون سون اجلاس شروع ہوگا، پارلیمنٹ کی جانب مارچ کریں گے تاکہ وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے اور امتحانی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ دہرایا جا سکے۔
موجودہ احتجاج سے قبل بھی بھوک ہڑتال
وانگچک اس احتجاج کا مرکزی چہرہ تھے اور اسٹیج کے وسط میں بچھے گدے پر لیٹے رہتے تھے، جبکہ ان کے حامی اور دیگر لوگ احتجاجی مقام پر آتے جاتے رہے۔
گزشتہ سال مودی حکومت نے وانگچک پر اپنے آبائی علاقے لداخ میں پرتشدد مظاہروں کے دوران اشتعال انگیز بیانات دے کر لوگوں کو اکسانے کا الزام عائد کیا تھا۔
وانگچک، جنہوں نے اس وقت بھی بھوک ہڑتال کی تھی، تقریباً چھ ماہ جیل میں رہے اور رواں سال مارچ میں رہا ہوئے۔ انہوں نے اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پرتشدد مظاہرے دراصل وفاقی حکومت سے عوامی مایوسی کا اظہار تھے۔
اپنی موجودہ بھوک ہڑتال کے تیسرے روز وانگچک نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ان کی بھوک ہڑتال چھ ہفتے تک جاری رہے گی، ”یا پھر میری موت تک“۔
انہوں نے کہا تھا، ”لیکن امید ہے کہ بات وہاں تک نہیں پہنچے گی۔ ایک جمہوری حکومت عوام کے دکھ درد سنتی ہے، اور مجھے امید ہے کہ وہ ضرور کوئی اقدام کرے گی۔“
وانگچک کی بھوک ہڑتال کو سوشل میڈیا پر بھی غیرمعمولی توجہ ملی، جہاں صارفین نے انہیں احتجاج ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زائد انسٹاگرام ریلز پوسٹ کیں۔

























Comments