مون سون، محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں بارشوں کا الرٹ جاری کردیا
- پی ایم ڈی کے مطابق 18 سے 25 جولائی کے دوران کشمیر اور گلگت بلتستان میں کہیں کہیں موسلادھار اور انتہائی شدید بارش متوقع ہے
محکمہ موسمیات پاکستان (پی ایم ڈی) نے خبردار کیا ہے کہ بحیرہ عرب سے آنے والی مون سون ہوائیں مسلسل ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں، جبکہ ہفتہ وار تعطیلات کے دوران ان میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔ محکمہ کے مطابق پیر سے مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ بھی ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہوگا، جس کے باعث بیشتر علاقوں میں بارش، آندھی اور گرج چمک کا امکان ہے۔
پی ایم ڈی کے مطابق 18 سے 25 جولائی کے دوران کشمیر اور گلگت بلتستان میں کہیں کہیں موسلادھار اور انتہائی شدید بارش متوقع ہے۔ اسی طرح 19 سے 23 جولائی کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، ایبٹ آباد، لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ سمیت خیبرپختونخوا اور وسطی پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ جنوبی پنجاب کے ملتان، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور میں 20 سے 24 جولائی تک بارش کا امکان ہے۔
بلوچستان کے شمالی اور شمال مشرقی اضلاع ژوب، لورالائی، سبی اور خضدار میں 19 سے 23 جولائی کے دوران بارش اور آندھی چلنے کا امکان ہے۔ سندھ کے بیشتر علاقے گرم اور مرطوب رہیں گے، تاہم تھرپارکر، مٹھی، سکھر، لاڑکانہ اور دادو میں 20 سے 24 جولائی کے دوران کہیں کہیں بارش اور گرج چمک متوقع ہے، جبکہ کراچی میں ہفتے اور اتوار کے دوران ہلکی بارش یا بوندا باندی اور جزوی طور پر ابر آلود موسم رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 28 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ تیز ہوائیں اور آسمانی بجلی کمزور انفراسٹرکچر، سولر پینلز، بجلی کے کھمبوں اور بل بورڈز کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، جبکہ بالائی خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔
مزید برآں، 20 سے 23 جولائی کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، فیصل آباد، پشاور اور ملتان کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب، جبکہ ڈیرہ غازی خان اور شمال مشرقی بلوچستان کے برساتی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات نے سیاحوں، مسافروں اور کسانوں کو احتیاط برتنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور موسمی پیش گوئی کے مطابق زرعی سرگرمیاں انجام دینے کی ہدایت کی ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کو بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔
























Comments