BR100 Decreased By (-0.95%)
BR30 Decreased By (-1.6%)
KSE100 Decreased By (-0.82%)
KSE30 Decreased By (-0.83%)
BAFL 56.50 Decreased By ▼ -0.37 (-0.65%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.06 Decreased By ▼ -0.29 (-0.96%)
CNERGY 12.90 Decreased By ▼ -0.22 (-1.68%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.99 Decreased By ▼ -4.46 (-2.32%)
FABL 93.89 Decreased By ▼ -0.25 (-0.27%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.48 Decreased By ▼ -0.24 (-1.63%)
GGL 19.00 Decreased By ▼ -0.56 (-2.86%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 199.00 Decreased By ▼ -2.42 (-1.2%)
HUMNL 9.99 Decreased By ▼ -0.17 (-1.67%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.11 Decreased By ▼ -0.35 (-1.32%)
MLCF 90.90 Decreased By ▼ -2.26 (-2.43%)
OGDC 313.00 Decreased By ▼ -3.73 (-1.18%)
PAEL 35.10 Decreased By ▼ -0.53 (-1.49%)
PIBTL 14.68 No Change ▼ 0.00 (0%)
PIOC 238.50 Decreased By ▼ -4.71 (-1.94%)
PPL 220.99 Decreased By ▼ -5.92 (-2.61%)
PRL 90.85 Decreased By ▼ -2.17 (-2.33%)
SNGP 90.55 Decreased By ▼ -1.29 (-1.4%)
SSGC 23.21 Decreased By ▼ -0.60 (-2.52%)
TELE 7.52 Decreased By ▼ -0.28 (-3.59%)
TPLP 12.55 Decreased By ▼ -0.42 (-3.24%)
TRG 56.15 Decreased By ▼ -0.41 (-0.72%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

مالی سال 26 میں جی ڈی پی گروتھ تخمینے سے زائد رہنے کا امکان، گورنر اسٹیٹ بینک

  • مرکزی بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جمیل احمد
شائع اپ ڈیٹ

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے جمعہ کو پیش گوئی کی ہے کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی معاشی شرح نمو حکومت کے عارضی تخمینے 3.7 فیصد سے بھی زیادہ رہے گی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ مالی سال 26-2025 کے دوران ملک کی جی ڈی پی نمو 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ہمیں 4 فیصد سے زائد جی ڈی پی نمو کی توقع تھی لیکن مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث نمو اس سے کم رہنے کا امکان ہے۔

مالی سال 26-2025 کے دوران مرکزی بینک کے پاس موجود زرمبادلہ ذخائر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو مالی سال 25-2024 میں 13 ارب ڈالر تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صرف جون میں 8 ارب ڈالر کی قرض ادائیگی کے باوجود زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔

جمیل احمد نے کہا کہ ابتدائی اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ مالی سال 26-2025 میں ترسیلاتِ زر کا حجم 41.5 ارب ڈالر سے تجاوز کرجائے گا جو کہ خطے میں حالیہ جغرافیائی سیاسی بحران کے باوجود گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

مجموعی طور پر مالی سال 26-2025 کے دوران جولائی سے مئی تک ترسیلات 9.2 فیصد اضافے کے ساتھ 38.1 ارب ڈالر رہی جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 34.9 ارب ڈالر موصول ہوئے تھے۔

مرکزی بینک کے سربراہ نے کہا کہ ہم نے مالی سال 27-2026 میں ورکرز ریمیٹینس (ترسیلاتِ زر) کے 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے۔

دریں اثنا انہوں نے بتایا کہ مالی سال 26-2025 کے لیے افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح 7.05 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے جو کہ 5 سے 7 فیصد کے مقرر کردہ ہدف سے کچھ زیادہ ہے۔

دوسری جانب مالی سال 27-2026 میں برآمدی آمدن میں اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے جس سے گزشتہ مالی سال میں دیکھی گئی کمی کا رجحان تبدیل ہو جائے گا۔

ادارہ شماریات کی جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 26-2025 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 21.57 فیصد اضافے کے ساتھ 39.47 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

جمیل احمد نے بتایا کہ مرکزی بینک نے سبسڈی اسکیموں یعنی سوہنی دھرتی ریمیٹینس پروگرام اور ’ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسینٹو اسکیم کو ختم کر دیا ہے۔

تاہم کمرشل بینک اور ایکسچینج کمپنیاں ترسیلاتِ زر کی آمد کو بڑھانے کے لیے مراعات دینا جاری رکھیں گی جس کے باعث مستقبل میں اس (سبسڈی ختم کرنے) کا کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

Comments

200 حروف