BR100 Increased By (1.82%)
BR30 Increased By (1.76%)
KSE100 Increased By (2.08%)
KSE30 Increased By (2.29%)
BAFL 61.65 Increased By ▲ 4.98 (8.79%)
BIPL 27.40 Increased By ▲ 0.39 (1.44%)
BOP 36.36 Increased By ▲ 1.27 (3.62%)
CNERGY 8.18 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
DFML 20.02 Increased By ▲ 0.35 (1.78%)
DGKC 227.40 Increased By ▲ 4.13 (1.85%)
FABL 101.11 Increased By ▲ 1.87 (1.88%)
FCCL 59.30 Increased By ▲ 1.75 (3.04%)
FFL 17.86 Decreased By ▼ -0.02 (-0.11%)
GGL 24.20 Increased By ▲ 0.83 (3.55%)
HBL 306.56 Increased By ▲ 14.35 (4.91%)
HUBC 233.30 Decreased By ▼ -0.15 (-0.06%)
HUMNL 11.50 Increased By ▲ 0.33 (2.95%)
KEL 8.33 Decreased By ▼ -0.21 (-2.46%)
LOTCHEM 28.15 Increased By ▲ 0.08 (0.29%)
MLCF 107.75 Increased By ▲ 0.84 (0.79%)
OGDC 334.94 Increased By ▲ 0.07 (0.02%)
PAEL 45.38 Decreased By ▼ -0.07 (-0.15%)
PIBTL 18.88 Decreased By ▼ -0.20 (-1.05%)
PIOC 281.39 Decreased By ▼ -1.98 (-0.7%)
PPL 244.00 Increased By ▲ 1.38 (0.57%)
PRL 36.36 Increased By ▲ 0.69 (1.93%)
SNGP 119.85 Decreased By ▼ -1.08 (-0.89%)
SSGC 31.91 Decreased By ▼ -0.17 (-0.53%)
TELE 8.98 Increased By ▲ 0.11 (1.24%)
TPLP 10.62 Decreased By ▼ -0.11 (-1.03%)
TRG 64.41 Increased By ▲ 0.74 (1.16%)
UNITY 11.02 Increased By ▲ 0.20 (1.85%)
WTL 1.30 Increased By ▲ 0.05 (4%)
دنیا

میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد خانہ جنگی، ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک

  • اس جنگ میں ہلاکتوں کی کوئی سرکاری تعداد موجود نہیں، اور مختلف اداروں کے اندازے بھی ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں
شائع July 1, 2026 اپ ڈیٹ July 1, 2026 12:33pm

میانمار میں پانچ سال قبل فوجی بغاوت کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک تمام فریقوں کے ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ انکشاف بدھ کو ایک تنازعات کی نگرانی کرنے والے ادارے نے کیا۔

آرمڈ کانفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا (ای سی ایل ای ڈی) کے سینئر تجزیہ کار سن مون تھانت کے مطابق، فروری 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے اب تک تشدد سے متعلق واقعات میں 100,114 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار میڈیا میں شائع ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کی رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔

اس جنگ میں ہلاکتوں کی کوئی سرکاری تعداد موجود نہیں، اور مختلف اداروں کے اندازے بھی ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں سے جاری یہ خانہ جنگی اس وقت ایشیا کا سب سے خونریز فعال تنازع بن چکی ہے۔

فروری 2021 میں میانمار کی فوج نے آنگ سان سو چی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا، نوبیل امن انعام یافتہ رہنما کو گرفتار کر لیا گیا تھا، اور یوں ملک میں تقریباً ایک دہائی سے جاری جمہوری عمل کا خاتمہ ہو گیا۔

فوجی بغاوت کے خلاف ہونے والے عوامی احتجاج کو سکیورٹی فورسز نے سختی سے کچل دیا، جس کے بعد متعدد جمہوریت پسند کارکن شہروں سے نکل کر مسلح گوریلا گروپوں میں شامل ہو گئے۔ یہ گروہ ان نسلی اقلیتی مسلح تنظیموں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں جو طویل عرصے سے مرکزی حکومت کی عملداری کے خلاف مزاحمت کرتی آ رہی ہیں۔

Comments

200 حروف