BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
دنیا

میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد خانہ جنگی، ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک

  • اس جنگ میں ہلاکتوں کی کوئی سرکاری تعداد موجود نہیں، اور مختلف اداروں کے اندازے بھی ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں
شائع اپ ڈیٹ

میانمار میں پانچ سال قبل فوجی بغاوت کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک تمام فریقوں کے ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ انکشاف بدھ کو ایک تنازعات کی نگرانی کرنے والے ادارے نے کیا۔

آرمڈ کانفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا (ای سی ایل ای ڈی) کے سینئر تجزیہ کار سن مون تھانت کے مطابق، فروری 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے اب تک تشدد سے متعلق واقعات میں 100,114 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار میڈیا میں شائع ہونے والی پرتشدد کارروائیوں کی رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔

اس جنگ میں ہلاکتوں کی کوئی سرکاری تعداد موجود نہیں، اور مختلف اداروں کے اندازے بھی ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں سے جاری یہ خانہ جنگی اس وقت ایشیا کا سب سے خونریز فعال تنازع بن چکی ہے۔

فروری 2021 میں میانمار کی فوج نے آنگ سان سو چی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا، نوبیل امن انعام یافتہ رہنما کو گرفتار کر لیا گیا تھا، اور یوں ملک میں تقریباً ایک دہائی سے جاری جمہوری عمل کا خاتمہ ہو گیا۔

فوجی بغاوت کے خلاف ہونے والے عوامی احتجاج کو سکیورٹی فورسز نے سختی سے کچل دیا، جس کے بعد متعدد جمہوریت پسند کارکن شہروں سے نکل کر مسلح گوریلا گروپوں میں شامل ہو گئے۔ یہ گروہ ان نسلی اقلیتی مسلح تنظیموں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں جو طویل عرصے سے مرکزی حکومت کی عملداری کے خلاف مزاحمت کرتی آ رہی ہیں۔

Comments

200 حروف