ٹرمپ کو دھچکا، امریکی سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت محدود کرنے کی درخواست مسترد کر دی
- 6-3 کی اکثریت سے فیصلہ، سپریم کورٹ نے رواں سال دوسری بار ٹرمپ انتظامیہ کے ایک بڑے اقدام کو کالعدم قرار دے دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑا قانونی دھچکا دیتے ہوئے امریکی سپریم کورٹ نے منگل کو امریکا میں برتھ رائٹ سٹیزن شپ (پیدائشی شہریت) محدود کرنے کی ان کی متنازع کوشش مسترد کر دی۔ یہ حق طویل عرصے سے امریکی معاشرے اور آئینی نظام کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی امیگریشن کے خلاف ٹرمپ کی سخت پالیسی کے ایک اہم ستون کو بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
3 کے مقابلے میں 6 ججوں کی اکثریت سے سنائے گئے اس فیصلے کے ساتھ رواں سال یہ دوسرا موقع ہے جب سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کے کسی بڑے اقدام کو کالعدم قرار دیا ہے۔ اس سے قبل فروری میں عدالت نے ان کے وسیع پیمانے پر عائد کیے گئے عالمی ٹیرفس بھی منسوخ کر دیے تھے۔
سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس کے تحت ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا، جس میں امریکی اداروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ اگر امریکا میں پیدا ہونے والے بچے کے والدین میں سے کوئی بھی امریکی شہری یا قانونی مستقل رہائشی (گرین کارڈ ہولڈر) نہ ہو تو ایسے بچے کو امریکی شہریت تسلیم نہ کی جائے۔
ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کو چیلنج کرنے والوں کا مؤقف تھا کہ یہ امریکی آئین کی 14ویں آئینی ترمیم کی اس شق سے متصادم ہے، جس کے تحت امریکا میں پیدا ہونے والے اور امریکی جیورسڈکشن (دائرۂ اختیار) کے تابع تمام افراد کو شہریت حاصل ہوتی ہے۔
ٹرمپ، جو ملکی اور خارجہ پالیسی میں بارہا صدارتی اختیارات کی حدود کو آزما چکے ہیں، نے گزشتہ سال اقتدار میں واپسی کے پہلے ہی روز قانونی اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کے سلسلے میں یہ ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا۔ ناقدین نے ریپبلکن صدر پر امیگریشن پالیسی میں نسلی اور مذہبی امتیاز برتنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی سپریم کورٹ پہلے ہی 1898 کے معروف مقدمے یونائیٹڈ اسٹیٹس بمقابلہ وونگ کم آرک (United States v. Wong Kim Ark) میں برتھ رائٹ سٹیزن شپ کے معاملے کا فیصلہ دے چکی ہے۔ اس فیصلے میں قرار دیا گیا تھا کہ 14ویں آئینی ترمیم کے تحت امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے بچوں کو، خواہ ان کے والدین غیر ملکی ہی کیوں نہ ہوں، پیدائشی طور پر امریکی شہریت حاصل ہوتی ہے۔
قدامت پسند چیف جسٹس جان رابرٹس، جنہوں نے منگل کے فیصلے کی تحریر لکھی، نے بھی 1898 کے اسی فیصلے کا حوالہ دیا۔
انہوں نے لکھا، ”چنانچہ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ گزشتہ 128 برسوں کے دوران ہم بارہا یہی مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ وونگ کم آرک مقدمے کا فیصلہ امریکا میں پیدا ہونے والے اور امریکی دائرۂ اختیار کے تابع تمام بچوں کو شہریت کی ضمانت دیتا ہے۔ ہمیں آج اس مؤقف سے ہٹنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔“
رابرٹس نے کہا کہ 14ویں آئینی ترمیم میں شہریت سے متعلق شق کی ایسی تشریح، جس کے ذریعے برتھ رائٹ سٹیزن شپ کو محدود کیا جائے، اس بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کے ”انتہائی نظرثانی پسندانہ مؤقف“ کی تائید کے لیے ”بہت کم شواہد“ موجود ہیں۔
انہوں نے مزید لکھا، ”اگر کانگریس کا مقصد امریکی شہریت کو صرف ان افراد کے بچوں تک محدود رکھنا ہوتا جو امریکا میں مستقل سکونت رکھتے ہیں، تو شہریت سے متعلق شق کے مختصر اور واضح متن میں ایسی کسی نیت کا کوئی اظہار موجود نہیں۔“
امریکی سپریم کورٹ نے امریکی شہری ہونے کے مفہوم پر یہ فیصلہ ایسے وقت میں دیا ہے جب 4 جولائی کی تعطیلات سے قبل امریکا اپنے قیام کی 250ویں سالگرہ منانے کی تیاری کر رہا ہے۔
فیصلے سے قبل بعض ماہرین کا اندازہ تھا کہ ٹرمپ کی ہدایت ہر سال امریکا میں پیدا ہونے والے تقریباً ڈھائی لاکھ بچوں کی قانونی حیثیت کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ لاکھوں دیگر نومولود بچوں کے خاندانوں کو بھی اپنے بچوں کی شہریت ثابت کرنے کے لیے دستاویزی ثبوت فراہم کرنا پڑ سکتے ہیں۔
اجتماعی مقدمہ (کلاس ایکشن مقدمہ)
ٹرمپ کی ہدایت کے خلاف سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت قانونی چیلنج نیو ہیمپشائر میں دائر کیے گئے ایک کلاس ایکشن مقدمے پر مبنی تھا، جو ان والدین اور بچوں کی جانب سے دائر کیا گیا تھا جن کی شہریت اس ہدایت کے باعث خطرے میں پڑ گئی تھی۔ سپریم کورٹ میں قدامت پسند ججوں کو 6 کے مقابلے میں 3 کی اکثریت حاصل ہے۔
امریکی آئین کی 14ویں آئینی ترمیم کو طویل عرصے سے اس طور پر سمجھا جاتا رہا ہے کہ وہ امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت کی ضمانت دیتی ہے، سوائے چند محدود استثنائی صورتوں کے، جیسے غیر ملکی سفارت کاروں یا کسی دشمن قابض فوج کے اہلکاروں کے بچوں کے معاملے میں۔
زیرِ بحث آئینی شق، جسے سٹیزن شپ کلاز کہا جاتا ہے، میں کہا گیا ہے: ”امریکا میں پیدا ہونے والے یا قانونی طور پر امریکی شہریت حاصل کرنے والے تمام افراد، جو امریکی دائرۂ اختیار کے تابع ہوں، ریاستہائے متحدہ امریکا اور اس ریاست کے شہری ہوں گے جہاں وہ رہائش پذیر ہوں۔“
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ”امریکی دائرۂ اختیار کے تابع“ کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ صرف امریکا میں پیدا ہونا شہریت کے لیے کافی نہیں۔ اس تشریح کے مطابق ان تارکینِ وطن کے بچوں کو، جو غیر قانونی طور پر امریکا میں مقیم ہیں یا قانونی مگر عارضی حیثیت رکھتے ہیں، جیسے یونیورسٹی کے طلبہ یا ورک ویزا پر موجود افراد، خودکار طور پر شہریت حاصل نہیں ہوتی۔
انتظامیہ کا استدلال ہے کہ امریکی شہریت صرف ان افراد کے بچوں کو ملنی چاہیے جن کی ”بنیادی وفاداری“ امریکا سے ہو، جن میں امریکی شہری اور مستقل قانونی رہائشی شامل ہیں۔ انتظامیہ کے وکلا کے مطابق ایسی وفاداری کا تعین ”قانونی مستقل رہائش“ سے ہوتا ہے، یعنی کسی ملک میں قانون کے مطابق مستقل رہائش اختیار کرنا اور وہاں مستقل طور پر رہنے کا ارادہ رکھنا۔
ٹرمپ کی تاریخی عدالتی پیشی
جب امریکی سپریم کورٹ نے یکم اپریل کو اس مقدمے کی سماعت کی تو ڈونلڈ ٹرمپ تاریخ کے پہلے حاضر سروس امریکی صدر بن گئے جنہوں نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں مقدمے کی کارروائی خود آ کر سنی۔ تاہم وہ کارروائی مکمل ہونے سے پہلے ہی، انتظامیہ کے مؤقف کی مخالفت کرنے والے وکیل کے دلائل شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد عدالت سے روانہ ہوگئے۔
’برتھ ٹورازم‘ کا معاملہ
سماعت کے دوران انتظامیہ کی نمائندگی کرنے والے امریکی سالیسٹر جنرل ڈی جان ساؤر نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے تقریباً ہر بچے کو شہریت دینے کی روایت نے ”برتھ ٹورازم“ کی ایک وسیع صنعت کو جنم دیا ہے۔
ساؤر نے کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران ”ممکنہ طور پر امریکا مخالف ممالک سے تعلق رکھنے والے بے شمار غیر ملکی“ صرف اپنے بچوں کو امریکی شہریت دلوانے کے لیے امریکا آ کر بچوں کی پیدائش کراتے رہے ہیں۔
جب عدالت نے ان سے پوچھا کہ ”برتھ ٹورازم“ کا مسئلہ کس حد تک سنگین ہے تو ساؤر نے زیادہ تر میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیا اور اعتراف کیا کہ ”حقیقت میں اس بارے میں کسی کو یقینی طور پر معلوم نہیں۔“
14ویں آئینی ترمیم کا پس منظر
امریکی آئین کی 14ویں آئینی ترمیم کو 1868 میں اس خانہ جنگی کے بعد توثیق ملی جس نے 1861 سے 1865 کے دوران امریکا میں غلامی کا خاتمہ کیا تھا۔ اس ترمیم کے ذریعے 1857 میں سپریم کورٹ کے اس بدنام زمانہ فیصلے کو بھی کالعدم کر دیا گیا تھا جس میں قرار دیا گیا تھا کہ افریقی نژاد افراد کبھی امریکی شہری نہیں بن سکتے۔
سماعت کے دوران ساؤر نے کہا کہ سٹیزن شپ کلاز کا مقصد محدود تھا اور اسے ”نئے آزاد ہونے والے غلاموں اور ان کی اولاد کو شہریت دینے کے لیے منظور کیا گیا تھا، جن کی امریکا سے وابستگی یہاں نسلوں سے مستقل رہائش کے ذریعے قائم ہو چکی تھی۔“
1898 کے فیصلے کا حوالہ
ٹرمپ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ 1898 میں وونگ کم آرک مقدمے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ دراصل ٹرمپ کے صدارتی حکم کی تائید کرتا ہے، کیونکہ اس مقدمے میں عدالت کے مطابق وونگ کم آرک کی پیدائش کے وقت ان کے والدین امریکا میں مستقل طور پر مقیم تھے۔
تاہم سماعت کے دوران بعض ججوں نے اس مؤقف سے اختلاف کیا۔ قدامت پسند جج نیل گورسچ نے ساؤر سے کہا: ”مجھے یقین نہیں کہ آپ وونگ کم آرک کے فیصلے پر زیادہ انحصار کرنا چاہیں گے۔“
ٹرمپ کا موقف
ٹرمپ کئی برسوں سے پیدائشی شہریت کے حق کو محدود کرنے کی وکالت کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے گزشتہ سال سوشل میڈیا پر لکھا: ”برتھ رائٹ سٹیزن شپ ان لوگوں کے لیے نہیں تھی جو چھٹیاں منانے کے بہانے امریکا آ کر مستقل شہریت حاصل کر لیں اور اپنے خاندانوں کو بھی ساتھ لے آئیں، جبکہ ہم جیسے ’سادہ لوح‘ لوگوں پر ہنستے رہیں۔“
انہوں نے مزید لکھا: ”منشیات فروش کارٹیلز کو یہ نظام بہت پسند ہے۔ سیاسی درستی کے نام پر ہم ایک احمق ملک بن چکے ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، اور یہی امریکا کے نظام میں خرابی کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔“
نچلی عدالت اور سپریم کورٹ کے فیصلے
نیو ہیمپشائر کے شہر کانکورڈ میں تعینات امریکی ڈسٹرکٹ جج جوزف لاپلانت نے جولائی 2025 میں درخواست گزاروں کو کلاس ایکشن کی حیثیت سے مقدمہ آگے بڑھانے کی اجازت دی، جس کے نتیجے میں ٹرمپ کی اس پالیسی پر ملک بھر میں عمل درآمد روک دیا گیا۔
گزشتہ سال امریکی سپریم کورٹ نے ایک الگ فیصلے میں ٹرمپ کو جزوی قانونی کامیابی ضرور دی تھی، جب اس نے وفاقی ججوں کے صدارتی پالیسیوں پر ملک گیر پابندی عائد کرنے کے اختیارات محدود کر دیے تھے۔ تاہم اس فیصلے میں ٹرمپ کے پیدائشی شہریت سے متعلق صدارتی حکم کی آئینی حیثیت پر کوئی فیصلہ نہیں دیا گیا تھا۔
امیگریشن سے متعلق عدالتی فیصلے
ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد امریکی سپریم کورٹ کی قدامت پسند اکثریت نے امیگریشن سے متعلق کئی اہم معاملات میں ان کی پالیسیوں کی حمایت بھی کی ہے۔
مثال کے طور پر 25 جون کو عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو یہ اجازت دے دی کہ وہ ہیٹی اور شام سے تعلق رکھنے والے لاکھوں تارکینِ وطن کو حاصل انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی قانونی حیثیت ختم کر سکتی ہے، جو انہیں ملک بدری سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اسی روز عدالت نے ایک اور مقدمے میں بھی ٹرمپ انتظامیہ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر حکام کے نزدیک امریکا۔میکسیکو سرحد پر پناہ کے متلاشی افراد کی تعداد حد سے بڑھ جائے تو امریکی حکومت مزید درخواست گزاروں کو داخل ہونے سے روکنے کا اختیار رکھتی ہے۔
دیگر مقدمات میں بھی عدالت نے عبوری طور پر ٹرمپ کو بڑے پیمانے پر ملک بدری کی پالیسیوں میں توسیع کی اجازت دی، جب تک کہ ان کے خلاف دائر قانونی درخواستوں پر حتمی فیصلہ نہ ہو جائے۔ ان اقدامات میں بعض تارکینِ وطن کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کردہ تحفظ کا خاتمہ، ایسے افراد کو ان ممالک بھیجنا جہاں ان کا کوئی تعلق نہیں، اور امیگریشن قوانین پر سخت چھاپے مارنے کی کارروائیاں شامل ہیں، جن میں افراد کو ان کی نسل یا زبان کی بنیاد پر بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
تاہم عدالت نے ہر معاملے میں ٹرمپ کے حق میں فیصلہ نہیں دیا۔ فروری میں سپریم کورٹ نے قومی ہنگامی حالات سے متعلق قانون کے تحت عائد کیے گئے ان کے وسیع پیمانے کے ٹیرفس کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ پیر کے روز عدالت نے انہیں فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کک کو عہدے سے ہٹانے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا۔
منگل کو سنایا گیا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی موجودہ عدالتی مدت (ٹرم) کا آخری فیصلہ تھا، جس کا آغاز گزشتہ اکتوبر میں ہوا تھا۔























Comments