سی این جی اسٹیشنز کی بندش: ایسوسی ایشن کا وزیراعلیٰ اور گورنر سندھ سے مداخلت کا مطالبہ
- امریکہ-ایران تنازع شروع ہونے کے بعد سے گیس پمپ گزشتہ چار ماہ سے بند پڑے ہیں، سمیر نجم الحسن
آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے سندھ زون نے پیر کو وزیراعلیٰ اور گورنر سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سی این جی فلنگ اسٹیشنز کو سوئی سدرن گیس کمپنی کی جانب سے گیس کی فراہمی بحال کروانے کے لیے مداخلت کریں۔ ایسوسی ایشن کا دعویٰ ہے کہ فروری کے آخر میں امریکہ-ایران تنازع شروع ہونے کے بعد سے گیس پمپ گزشتہ چار ماہ سے بند پڑے ہیں۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے کوآرڈینیٹر سمیر نجم الحسن نے کہا کہ ایران جنگ نے پاکستان کو درآمدی گیس کی سپلائی متاثر کی تھی لیکن اب اپریل 2026 سے آر ایل این جی بردار جہازوں کی ملک آمد دوبارہ شروع ہو چکی ہے لہذا حکومت کو سی این جی اسٹیشنز کو گیس کی فراہمی بحال کردینی چاہیے۔
ایس ایس جی سی سندھ میں سی این جی اسٹیشنز کو درآمدی گیس (آر ایل این جی) فراہم کرتی ہے۔
صوبائی ایسوسی ایشن کی مینجنگ کمیٹی کے رکن فرحان نسیم نے پریس کانفرنس کے موقع پر بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اپریل اور مئی 2026 کے دوران ملک کو سی این جی کے 7 کارگوز موصول ہوئے ہیں۔
انہوں نے تخمینہ لگایا کہ جون میں گیس لانے والے کل تین جہاز ملک میں پہنچ چکے ہوں گے۔
سمیر نجم الحسن نے مزید کہا کہ سندھ میں چلنے والے سی این جی فلنگ اسٹیشنز کے لیے گیس کی مانگ کم ہو کر صرف 1.5 ملین مکعب فٹ یومیہ رہ گئی ہے جو ایس ایس جی سی کے پورے نیٹ ورک پر روزانہ کی جانے والی گیس سپلائی کا تقریباً 0.1 فیصد بنتی ہے۔
اے پی سی این جی اے سندھ زون کے سابق چیئرمین سمیر گلزار نے دعویٰ کیا کہ گیس یوٹیلٹی کمپنی شہر کے تین سے چار بڑے شاپنگ مالز کو تقریباً 5 ملین مکعب فٹ یومیہ گیس فراہم کررہی ہے۔
سمیر گلزار نے کہا، کہ ان مالز کو کی جانے والی سپلائی کا حجم صوبے کے سی این جی اسٹیشنز کی 1.5 ملین مکعب فٹ یومیہ کی کم شدہ مانگ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے جبکہ ان سی این جی اسٹیشنز نے چار ماہ کی بندش کے باوجود ہزاروں ملازمین کو ملازمت پر برقرار رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر گیس کی سپلائی معطل رہی تو ہم مستقبل میں ان ہزاروں ملازمین کو ملازمت پر برقرار رکھنے کے قابل نہیں رہیں گے۔























Comments