پاکستان میں ایکویٹی سرمایہ کاری کی گنجائش، مگر مالکان کو کنٹرول کھونے کا خوف
- پاکستان کا مسئلہ سرمایہ کاروں کی کمی نہیں، بلکہ کاروباری مالکان کا جوابدہی اور ملکیت میں شراکت سے گریز ہے
پاکستان برسوں سے سرمایہ کی کمی کا رونا روتا آ رہا ہے۔ کاروباری ادارے کہتے ہیں کہ بینکوں سے قرض لینا حد درجہ مہنگا ہو چکا ہے، حکومت نجی سرمایہ کاری کی سست روی پر تشویش کا اظہار کرتی ہے، جبکہ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ ملک کا مالیاتی نظام قرض پر ضرورت سے زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ لیکن دوسری جانب جب بھی کوئی معتبر کمپنی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اپنے حصص عوام کے لیے پیش کرتی ہے تو سرمایہ کار بڑھ چڑھ کر اس میں سرمایہ لگانے کے لیے سامنے آ جاتے ہیں۔
اس لیے اب یہ تاثر چھوڑ دینا چاہیے کہ مسئلہ صرف سرمایہ کی کمی کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی خواہش موجود ہے، مگر فروخت کے لیے معیاری ایکویٹی دستیاب نہیں۔
زیادہ درست الفاظ میں کہا جائے تو پاکستان میں ایسے کاروباری مالکان کی کمی ہے جو اپنے کاروبار میں بامعنی حصہ فروخت کرنے، کنٹرول میں شراکت داری قبول کرنے اور مضبوط کارپوریٹ گورننس کو اپنانے پر آمادہ ہوں۔
حالیہ عرصے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والی نئی لسٹنگز اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں۔ جب مضبوط کاروباری بنیاد رکھنے والی کمپنیاں مارکیٹ میں آئیں تو سرمایہ کاروں نے بھرپور دلچسپی دکھائی۔ ٹائرز، تکافل، ڈیری، پولٹری، لاجسٹکس، پیٹرولیم ریٹیل اور آرای آئی ٹیز(REITs) سے متعلق کمپنیوں کے آئی پی اوز میں سرمایہ کاروں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ متعدد ایشوز حد سے زیادہ سبسکرائب ہوئے، جبکہ بعض میں طلب پیش کردہ حصص سے کئی گنا زیادہ رہی۔ مارکیٹ نے منہ نہیں موڑا، بلکہ اصل ہچکچاہٹ کمپنیوں کے مالکان نے دکھائی۔
اس کی نمایاں مثال سروس لانگ مارچ ٹائرز (ایس ایل ایم) ہے۔ کمپنی ایک مضبوط صنعتی منصوبہ لے کر مارکیٹ میں آئی، جس کی بنیاد مقامی پیداوار، درآمدی متبادل، برآمدات، بڑے پیمانے پر پیداوار، ٹیکنالوجی شراکت داری اور ترقی کے واضح امکانات پر تھی۔ کمپنی نے تقریباً 38 کروڑ 97 لاکھ حصص فروخت کرکے لگ بھگ 7.77 ارب روپے جمع کیے۔ اطلاعات کے مطابق سرمایہ کاروں کی طلب پیشکش سے کئی گنا زیادہ تھی، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق مجموعی دلچسپی تقریباً 70 ارب روپے تک جا پہنچی۔
اس کے باوجود کمپنی نے آئی پی او کے بعد اپنے مجموعی حصص کا صرف 5 فیصد ہی عوام کو فروخت کیا۔
اگر سرمایہ کار اتنی آسانی سے اس پیشکش کو جذب کرنے کے لیے تیار تھے تو پھر صرف 5 فیصد حصص ہی کیوں فروخت کیے گئے؟ 10، 15 یا 20 فیصد کیوں نہیں؟ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کمپنی کو حقیقی معنوں میں ایک وسیع عوامی ملکیت والی کمپنی کیوں نہ بنایا گیا؟ آخر بازار میں دعوت تو بھرپور دی گئی، مگر پلیٹ میں چند لقمے ہی کیوں رکھے گئے؟
اس کا جواب سادہ ہے۔ پاکستان کے کاروباری خاندان اسٹاک مارکیٹ کے فوائد تو چاہتے ہیں، مگر اس کے تقاضے قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔
انہیں اپنی کمپنی کی بہتر قدر (ویلیوایشن) چاہیے، حصص میں لیکویڈیٹی چاہیے، وقار چاہیے، نسبتاً کم لاگت پر سرمایہ چاہیے اور لسٹڈ کمپنی ہونے کی ساکھ بھی درکار ہے۔ لیکن وہ اپنی ملکیت میں کمی (ڈائلوشن) نہیں چاہتے۔ وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ آزاد شیئر ہولڈرز سخت سوالات کریں، تجزیہ کار ان کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیں، ادارہ جاتی سرمایہ کار نظم و ضبط پر زور دیں، بورڈ آف ڈائریکٹرز حقیقی معنوں میں بااختیار ہو جائے، یا کاروبار کا کنٹرول ڈرائنگ روم سے نکل کر بورڈ روم تک منتقل ہو۔
بیشتر اسپانسر گروپس کے نزدیک اسٹاک ایکسچینج ملکیت میں شراکت داری کا پلیٹ فارم نہیں بلکہ محض سرمایہ اکٹھا کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
حالیہ لسٹنگز کے اعداد و شمار بھی اسی رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔ سروس لانگ مارچ ٹائرز نے آئی پی او کے بعد صرف تقریباً 5 فیصد ایکویٹی عوام کو فروخت کی۔ ستارہ پیٹرولیم نے اپنے عوامی آئی پی او میں تقریباً 10 فیصد حصص پیش کیے، اگرچہ پری آئی پی او پلیسمنٹ سمیت مجموعی ایشو اس سے بڑا تھا۔ بلو-ایکس کی مین بورڈ پر منتقلی کے دوران صرف 3.5 فیصد سرمایہ عوام کو پیش کیا گیا۔ وحدت پولٹری نے تقریباً 15.8 فیصد، غنی ڈیریز نے 24.3 فیصد، جبکہ پاک قطر فیملی تکافل اور پاک قطر جنرل تکافل نے بالترتیب 21.7 فیصد اور 29.7 فیصد حصص عوام کے لیے جاری کیے۔ آرای آئی ٹیز کے معاملے میں صورتحال نسبتاً بہتر رہی، جہاں امیج آرای آئی ٹی نے 33.4 فیصد جبکہ جے ایس رینٹل آرای آئی ٹی اور سگنیچر ریذیڈنسی آرای آئی ٹی نے تقریباً 25، 25 فیصد فری فلوٹ فراہم کیا۔
مجموعی طور پر ان حالیہ لسٹنگز کے ذریعے تقریباً 18.6 ارب روپے اکٹھے کیے گئے، جبکہ پیشکش کی قیمتوں کے مطابق ان کمپنیوں کی مجموعی مالیت تقریباً 220 ارب روپے بنتی تھی۔
سادہ الفاظ میں، تقریباً 220 ارب روپے مالیت کے کاروبار اسٹاک ایکسچینج میں آئے، مگر عوام کو ان میں سے صرف 18.6 ارب روپے کے حصص خریدنے کا موقع ملا۔ یعنی مارکیٹ میں آنے والی ہر 100 روپے مالیت میں سے بمشکل 8 روپے کے حصص بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے دستیاب تھے، جبکہ باقی 92 روپے کی ملکیت اسپانسرز، اصل مالکان یا کنٹرولنگ شیئر ہولڈرز کے پاس ہی برقرار رہی۔
یہی وہ فرق ہے جو ایک حقیقی کیپیٹل مارکیٹ اور محض علامتی لسٹنگ والی مارکیٹ کے درمیان ہوتا ہے۔
ایک حقیقی کیپیٹل مارکیٹ ملکیت کا دائرہ وسیع کرتی ہے۔ یہ ایسی کمپنیوں کو جنم دیتی ہے جن کے حصص میں مناسب خرید و فروخت ممکن ہو، ادارہ جاتی نگرانی کو فروغ دیتی ہے، معلومات کے انکشاف (ڈسکلوزر) کو بہتر بناتی ہے اور اقلیتی شیئر ہولڈرز کو مؤثر آواز فراہم کرتی ہے۔ اس کے ذریعے پنشن فنڈز، میوچل فنڈز، انشورنس کمپنیاں اور عام سرمایہ کار ترقی کرتی ہوئی کمپنیوں میں شراکت دار بن سکتے ہیں۔ اس سے کمپنیوں کو بینک قرضوں پر انحصار بڑھانے کے بجائے ایکویٹی کے ذریعے سرمایہ حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ انہیں اپنی حکمت عملی کی وضاحت، کارکردگی کا دفاع اور کارپوریٹ گورننس بہتر بنانے کا بھی پابند ہونا پڑتا ہے۔
اس کے برعکس، محض علامتی لسٹنگ اس کے الٹ نتائج دیتی ہے۔ اس سے کمپنی کو تو مارکیٹ ویلیو مل جاتی ہے، مگر حقیقی معنوں میں مارکیٹ کا احتساب نہیں ہوتا۔ اسپانسرز کو لیکویڈیٹی تو حاصل ہو جاتی ہے، مگر جوابدہی نہیں آتی۔ مارکیٹ میں صرف اتنے ہی حصص لائے جاتے ہیں جن کی محدود خرید و فروخت ممکن ہو، جبکہ کنٹرول بدستور مالکان کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ یوں کمپنی لسٹڈ ہونے کی ساکھ تو حاصل کر لیتی ہے، لیکن اس کا طرزِ عمل ایک نجی خاندانی کاروبار جیسا ہی رہتا ہے۔
یہ صورتحال کم شرح سود کے مسلسل مطالبے کی حقیقت بھی بے نقاب کرتی ہے۔ کاروباری حلقے بارہا کہتے ہیں کہ مہنگے قرضوں کی وجہ سے سرمایہ کاری ممکن نہیں رہی۔ اس شکایت میں کچھ وزن ضرور ہے، مگر پوری حقیقت یہی نہیں۔ اگر قرض لینا واقعی اتنا ناقابلِ برداشت ہے تو پھر کاروباری مالکان زیادہ مقدار میں ایکویٹی کیوں نہیں فروخت کرتے؟ اگر بینکوں سے قرض لینا مہنگا ہے تو کمپنی کے 20 یا 30 فیصد حصص مارکیٹ میں فروخت کرکے توسیعی منصوبوں کے لیے سرمایہ کیوں نہیں اکٹھا کیا جاتا؟
اس کا جواب قدرے تلخ ہے: بہت سے مالکان کنٹرول میں شراکت قبول کرنے کے بجائے سود ادا کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔
وہ قرض لینا، حکومتی رعایتیں مانگنا، رعایتی شرح پر قرض حاصل کرنے کی کوشش کرنا، مالی سہولتوں کا مطالبہ کرنا اور تمام ذمہ داری مانیٹری پالیسی پر ڈالنا تو قبول کر لیتے ہیں، مگر اپنی ملکیت میں بامعنی کمی (ڈائلوشن) برداشت نہیں کرنا چاہتے۔ وہ قرض کی قیمت پر تو اعتراض کرتے ہیں، مگر جس قیمت سے وہ سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں، وہ کنٹرول میں کمی ہے۔ پاکستان میں حقیقی شرح سود شاید بلند ہو، لیکن بظاہر کاروباری مالکان کے نزدیک کنٹرول بانٹنے کی ”جذباتی قیمت“ اس سے بھی زیادہ ہے۔
اسی لیے پاکستان میں ایکویٹی کی فراہمی محدود ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ پاکستانی سرمایہ کار سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتے۔ حالیہ لسٹنگز اس کے برعکس تصویر پیش کرتی ہیں۔ سرمایہ کاروں نے صنعتی، مالیاتی، خدمات اور رئیل اسٹیٹ سے منسلک کمپنیوں میں نمایاں دلچسپی دکھائی ہے۔ طلب موجود ہے، کمی صرف اسپانسرز کی جانب سے حصص کی فراہمی میں ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کا محدود حجم اور اس کی ساختی کمزوریاں بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہیں۔ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ اب بھی نسبتاً چھوٹی، جذباتی رجحانات سے متاثر اور حکومتی پالیسیوں، زرِ مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ، ٹیکس قوانین میں تبدیلی، سیاسی بے یقینی اور شرح سود سے متعلق توقعات میں اچانک تبدیلیوں کے لیے انتہائی حساس ہے۔ چند شعبے اور بڑی کمپنیاں ہی زیادہ تر لین دین پر حاوی رہتی ہیں، جبکہ متعدد لسٹڈ کمپنیوں کے حصص طویل عرصے تک غیر فعال رہتے ہیں۔
اس سے ایک شیطانی چکر جنم لیتا ہے۔ اسپانسرز حصص کا بڑا حصہ مارکیٹ میں لانے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ انہیں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سیکنڈری مارکیٹ کی محدود گہرائی کا خدشہ ہوتا ہے، جبکہ مارکیٹ اسی لیے اتھلی رہتی ہے کہ اسپانسرز صرف معمولی مقدار میں حصص فروخت کرتے ہیں۔ نتیجتاً آئی پی او کے وقت تو مارکیٹ میں جوش و خروش دکھائی دیتا ہے، مگر طویل المدتی سرمایہ سازی کے لیے درکار گہرائی، وسعت اور استحکام پیدا نہیں ہو پاتا۔ محدود فری فلوٹ اتار چڑھاؤ کو بڑھاتا ہے، اور یہی اتار چڑھاؤ مزید محدود فری فلوٹ کا جواز بن جاتا ہے۔ پاکستان برسوں سے اسی دائرے میں پھنسا ہوا ہے۔
یہ مسئلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان کا مالیاتی نظام شدید عدم توازن کا شکار ہے۔ کارپوریٹ فنانسنگ پر بینکوں کا غلبہ ہے، حکومتی قرض گیری نجی شعبے کے لیے سرمایہ کی دستیابی محدود کر دیتی ہے، کمپنیاں قرض پر انحصار کرتی رہتی ہیں، نجی سرمایہ کاری کمزور رہتی ہے، اسٹاک مارکیٹ مطلوبہ وسعت حاصل نہیں کر پاتی، جبکہ ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے بڑی، فعال اور بہتر کارپوریٹ گورننس رکھنے والی کمپنیوں کی تعداد محدود رہتی ہے۔ دوسری جانب عام بچت کنندگان کے پاس بھی ایسی سنجیدہ سرمایہ کاری کے مواقع کم رہ جاتے ہیں جن کے ذریعے وہ کارپوریٹ ترقی میں شریک ہو سکیں۔
پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ملک میں سرمایہ سازی کیوں کمزور ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے ایسا مالیاتی نظام تشکیل دیا ہے جہاں کاروباری مالکان سرمایہ تو چاہتے ہیں مگر ملکیت بانٹنے پر آمادہ نہیں، بینک نجی شعبے کے بجائے حکومت کو قرض دینا زیادہ پسند کرتے ہیں، اور اسٹاک مارکیٹ کو اسپانسرز کی میز سے صرف بچا کھچا حصہ ہی ملتا ہے۔
اسی لیے ریگولیٹرز اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو اپنی کامیابی صرف نئی لسٹنگز کی تعداد سے نہیں ناپنی چاہیے۔ زیادہ اہم سوالات یہ ہیں: کمپنی نے حقیقت میں کتنی ایکویٹی عوام کو فروخت کی؟ حاصل ہونے والا کتنا سرمایہ کمپنی میں گیا اور کتنا فروخت کنندہ شیئر ہولڈرز کو ملا؟ فری فلوٹ کتنا ہے؟ کیا اس لسٹنگ سے کارپوریٹ گورننس بہتر ہوگی؟ کیا اقلیتی شیئر ہولڈرز کا کردار مؤثر ہوگا؟ کیا بورڈ آف ڈائریکٹرز مزید مضبوط ہوگا؟ کیا معلومات کے انکشاف کا معیار بہتر ہوگا؟ اور کیا ابتدائی چند تجارتی سیشنز کے بعد بھی حصص میں حقیقی لیکویڈیٹی برقرار رہے گی؟
جو کمپنی اپنے صرف 5 فیصد حصص عوام کو فروخت کرتی ہے، اسے اس کمپنی کے برابر نہیں سمجھا جا سکتا جو 25 یا 30 فیصد حصص مارکیٹ میں پیش کرتی ہے۔ دونوں کو مارکیٹ کی ترقی میں یکساں کردار ادا کرنے والا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ محدود فری فلوٹ شاید آئی پی او کی سرخیاں تو بنا دے، لیکن اس سے ایک مضبوط اور حقیقی سرمایہ بازار وجود میں نہیں آتا۔
لسٹنگ سے متعلق مراعات بھی ایسی ہونی چاہییں جو حقیقی معنوں میں عوام کو زیادہ حصص فروخت کرنے والی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ جو کمپنیاں اپنے کاروبار کا بڑا حصہ عوام کے لیے پیش کریں، انہیں لسٹنگ کی تیز تر منظوری، زیادہ نمایاں مقام، اشاریوں (انڈائسز) میں شامل ہونے کے بہتر مواقع اور مسلسل تعمیل (کمپلائنس) کی کم لاگت جیسی سہولتیں ملنی چاہییں۔ اس کے برعکس، جو کمپنیاں محض علامتی مقدار میں حصص فروخت کریں، انہیں بھی صرف علامتی پذیرائی ہی ملنی چاہیے۔ مارکیٹ کو نمائشی لسٹنگز کی نہیں، بلکہ ایسی کمپنیوں کی ضرورت ہے جن میں حقیقی سرمایہ کاری کی جا سکے۔
اسی اصول کا اطلاق نجکاری پر بھی ہونا چاہیے۔ سرکاری اثاثے خاموشی سے چند پہلے سے طاقتور نجی کاروباری گروپوں کے حوالے نہیں کیے جانے چاہییں۔ جہاں بھی ممکن ہو، نجکاری وسیع عوامی شیئر آفرنگ، لازمی لسٹنگ، حصص کی وسیع تقسیم اور مضبوط کارپوریٹ گورننس کی شرائط کے تحت کی جانی چاہیے۔ بصورت دیگر، ملک صرف سرکاری اجارہ داری کو نجی ارتکاز میں تبدیل کرے گا۔ یہ اصلاحات نہیں، بلکہ صرف مالک کی تبدیلی ہوگی۔
پاکستان کو خاندانی کنٹرول کے کلچر کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خاندانی کاروبار بہترین کمپنیاں قائم کر سکتے ہیں، اور پاکستان میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ لیکن جو کمپنیاں عوامی سرمایہ حاصل کرنا چاہتی ہیں، انہیں عوامی احتساب بھی قبول کرنا ہوگا۔ ملکیت کے تصور کو کارپوریٹ گورننس میں ڈھالنا ہوگا۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانا ہوگا۔ آزاد ڈائریکٹرز صرف نام کے نہیں بلکہ عملی طور پر بھی آزاد ہونے چاہییں، نہ کہ رشتے داروں کو مختلف عنوانات دے کر یہ تقاضا پورا کیا جائے۔ اقلیتی شیئر ہولڈرز کے حقوق صرف کاغذی نہیں بلکہ قابلِ نفاذ ہونے چاہییں۔ پیشہ ور انتظامیہ کو حقیقی اختیارات ملنے چاہییں، جبکہ معلومات کے انکشاف (ڈسکلوزر) کو محض رسمی کارروائی کے بجائے ایک مستقل ادارہ جاتی ذمہ داری بنایا جانا چاہیے۔
کاروبار میں ملکیت کا کچھ حصہ فروخت کرنا کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اکثر یہی کسی کمپنی کے بڑے پیمانے پر ترقی کرنے کی قیمت ہوتی ہے۔ سنجیدہ کاروباری افراد وسعت کے لیے اپنی ملکیت میں کمی قبول کرتے ہیں۔ مضبوط کمپنیاں سرمایہ، باصلاحیت افراد اور ساکھ حاصل کرنے کے لیے ایکویٹی فروخت کرتی ہیں، جبکہ ترقی یافتہ سرمایہ بازار چند ہاتھوں میں مرتکز ملکیت کو وسیع عوامی خوشحالی میں تبدیل کرتے ہیں۔
جو کاروباری مالک اپنی ملکیت میں کمی قبول کرنے سے انکار کرتا ہے، وہ شاید اپنا کنٹرول تو برقرار رکھ لے، مگر اکثر اس کی قیمت کمپنی کی ترقی کی صورت میں ادا کرتا ہے۔ پاکستان میں بہت سی کمپنیاں عوامی کمپنی جیسی قدر (ویلوایشن) تو چاہتی ہیں، مگر ان کا انتظام نجی خاندانی کاروبار ہی کی طرز پر چلانا چاہتی ہیں۔ اس سوچ کے ساتھ جدید سرمایہ بازار تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔
اسی لیے سروس لانگ مارچ ٹائرز (ایس ایل ایم) کی لسٹنگ ایک لحاظ سے حوصلہ افزا اور دوسرے لحاظ سے چشم کشا ہے۔ اس نے ثابت کیا کہ سرمایہ کار مضبوط صنعتی منصوبوں پر اعتماد کرتے ہیں، پاکستان میں ایکویٹی سرمایہ حاصل کرنے کی گنجائش موجود ہے اور بچت کرنے والے سرمایہ کار ترقی کی صلاحیت رکھنے والی کمپنیوں میں سرمایہ لگانے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس نے یہ حقیقت بھی آشکار کی کہ پاکستان کی بہترین کمپنیوں کی ملکیت کا بہت معمولی حصہ ہی عوام کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کو صرف زیادہ لسٹنگز کی ضرورت نہیں، بلکہ ایسے سرمایہ بازار کی ضرورت ہے جہاں فری فلوٹ زیادہ ہو، کارپوریٹ گورننس مضبوط ہو، حصص میں گہری لیکویڈیٹی موجود ہو، پیشہ ور انتظامیہ کو اختیارات حاصل ہوں اور کاروباری مالکان مارکیٹ کو حقیقی معنوں میں اپنا شراکت دار بنانے پر آمادہ ہوں۔
پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ سرمایہ کاروں میں سرمایہ کاری کا جذبہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے کاروباری مالکان میں جوابدہی قبول کرنے کا جذبہ موجود نہیں۔
کاپی رائٹ ، بزنس ریکارڈر، 2026























Comments