BR100 Decreased By (-1.08%)
BR30 Decreased By (-1.33%)
KSE100 Decreased By (-0.64%)
KSE30 Decreased By (-0.81%)
BAFL 57.00 Decreased By ▼ -1.79 (-3.04%)
BIPL 26.82 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 35.00 Decreased By ▼ -0.38 (-1.07%)
CNERGY 8.16 Decreased By ▼ -0.04 (-0.49%)
DFML 19.35 Decreased By ▼ -0.42 (-2.12%)
DGKC 220.88 Decreased By ▼ -1.06 (-0.48%)
FABL 97.50 Increased By ▲ 0.59 (0.61%)
FCCL 57.51 Decreased By ▼ -0.85 (-1.46%)
FFL 17.66 Decreased By ▼ -0.18 (-1.01%)
GGL 23.69 Increased By ▲ 0.15 (0.64%)
HBL 289.80 Decreased By ▼ -4.30 (-1.46%)
HUBC 227.88 Decreased By ▼ -3.53 (-1.53%)
HUMNL 10.90 Decreased By ▼ -0.17 (-1.54%)
KEL 8.56 Decreased By ▼ -0.19 (-2.17%)
LOTCHEM 27.54 Decreased By ▼ -0.53 (-1.89%)
MLCF 106.59 Decreased By ▼ -0.56 (-0.52%)
OGDC 334.00 Decreased By ▼ -5.96 (-1.75%)
PAEL 44.95 Increased By ▲ 0.46 (1.03%)
PIBTL 18.28 Decreased By ▼ -0.36 (-1.93%)
PIOC 270.00 Decreased By ▼ -3.85 (-1.41%)
PPL 243.50 Decreased By ▼ -4.48 (-1.81%)
PRL 34.91 Decreased By ▼ -0.38 (-1.08%)
SNGP 118.55 Decreased By ▼ -4.62 (-3.75%)
SSGC 30.75 Decreased By ▼ -1.29 (-4.03%)
TELE 8.69 Decreased By ▼ -0.18 (-2.03%)
TPLP 10.22 Decreased By ▼ -0.35 (-3.31%)
TRG 63.15 Decreased By ▼ -1.25 (-1.94%)
UNITY 10.81 Decreased By ▼ -0.31 (-2.79%)
WTL 1.25 Decreased By ▼ -0.01 (-0.79%)
اداریہ

خون کی کمی کا چیلنج

  • دہائیوں سے زچگی میں خون بہنا اموات کی بڑی وجہ مانا گیا، مگر نئی عالمی تحقیق کے مطابق اصل وجہ اینیمیا ہے
شائع June 29, 2026 اپ ڈیٹ June 29, 2026 04:54pm

دستیاب شواہد، خون کی کمی، زچگی کے بعد خون کا بہاؤ اور ماؤں کی اموات سے متعلق رپورٹ میں سامنے آنے والے ویمن 2 تحقیق کے نتائج ترقی پذیر ممالک اور بالخصوص پاکستان کے پالیسی سازوں، ماہرینِ صحتِ عامہ اور حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں۔

کئی دہائیوں سے زچگی کے بعد ہونے والے شدید خون کے بہاؤ (پوسٹ پارٹم ہیمرج) کو زچگی کے دوران ماؤں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ تاہم لندن اسکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے زیرِ اہتمام ہونے والی اس تاریخی اور کثیر الملکی تحقیق نے اس مفروضے کو چیلنج کیا ہے اور ایسے ٹھوس شواہد پیش کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں ماؤں کی اموات کی ایک بہت بڑی تعداد کے پیچھے اصل وجہ اینیمیا (خون کی کمی) ہو سکتی ہے۔

اس تحقیق کی اہمیت نہ صرف اس کے بڑے پیمانے پر ہونے میں ہے، بلکہ ان ممالک کے لیے اس کی افادیت میں بھی ہے جہاں زچگی کے دوران ماؤں کی اموات کی شرح اب بھی تشویشناک حد تک بلند ہے۔ اس تحقیق میں شامل 15,000 خواتین میں سے 11,000 سے زائد کا تعلق پاکستان سے تھا، جس کی وجہ سے یہ نتائج صحتِ عامہ کے ایک ایسے سنگین بحران کی گہری عکاسی کرتے ہیں جسے طویل عرصے سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ نتیجہ کہ عالمی سطح پر ماؤں کی زیادہ تر اموات کا سبب اینیمیا ہو سکتا ہے، زچگی کے دوران صحت کی ترجیحات پر نئے سرے سے بنیادی غور و خوض کا تقاضا کرتا ہے۔ اینیمیا کی وجہ سے عورت کے جسم میں اتنی سکت نہیں رہتی کہ وہ زچگی کے دوران عام سے خون کے بہاؤ کو بھی برداشت کر سکے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خون کا وہ بہاؤ جو ایک صحت مند عورت کے لیے قابلِ گرفت ہوتا ہے، شدید اینیمیا کی شکار خاتون کے لیے جان لیوا ثابت ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ آمدنی والے (ترقی یافتہ) ممالک میں زچگی کے بعد خون کا بہاؤ شاذ و نادر ہی جان لیوا ثابت ہوتا ہے لیکن جنوبی ایشیا اور سب صحارا افریقہ میں یہ اب بھی ہزاروں جانیں لے رہا ہے۔ یہ تحقیق ایک تلخ حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ اینیمیا کے بنیادی مرض کو حل کیے بغیر صرف خون کے بہاؤ کا علاج کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے بیماری کو نظر انداز کرکے صرف اس کی علامات کا علاج کیا جائے۔

پاکستان کی صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔ 2024 کی ایک مقامی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ملک میں 70 فیصد تک حاملہ خواتین اینیمیا کا شکار ہیں۔ غربت، غذائی قلت، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، پیٹ کے کیڑوں کے انفیکشن، یکے بعد دیگرے حمل اور تولیدی صحت کی ناقص سہولیات اس وبائی صورتحال کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے نتائج صرف ماؤں کی اموات تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ تحقیق اینیمیا کو قبل از وقت زچگی (پری میچور برتھ)، مردہ بچوں کی پیدائش (اسٹل برتھ)، نوزائیدہ بچوں کی اموات اور ماؤں و بچوں دونوں کے لیے طویل مدتی طبی پچیدگیوں سے بھی جوڑتی ہے۔ تحقیق کا یہ انکشاف کہ شدید اینیمیا کی شکار 17 فیصد خواتین کو مردہ بچوں کی پیدائش کا سامنا کرنا پڑا، فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

اینیمیا کے خاتمے کے لیے ایک جامع اور مستقل حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ بارآور عمر کی تمام خواتین کے لیے آئرن اور فولک ایسڈ کے سپلیمنٹس تک رسائی کو ممکن بنایا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ غذائیت کے حوالے سے آگاہی مہم، پیٹ کے کیڑے مارنے کے پروگرام، صفائی ستھرائی کے نظام میں بہتری اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی اتنی ہی ضروری ہیں۔ متواتر حمل سے جڑے صحت کے خطرات کو کم کرنے کے لیے فیملی پلاننگ کی خدمات کو مضبوط بنانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ طبی عملے کو زچگی کے دوران روایتی طور پر دیے جانے والے کٹ (روٹین ایپیسی اوٹومی) جیسے طریقوں پر نظرثانی کرنی ہوگی، کیونکہ تحقیق کے مطابق یہ عمل کسی بڑے فائدے کے بغیر ماں میں اینیمیا کی شدت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ زچگی کے وقت ٹرانیکسامک ایسڈ (ٹی ایکس اے) کے استعمال کے حق میں ملنے والے شواہد پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے کیونکہ اس کا وسیع استعمال ماؤں کی اموات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ ویمن 2 اسٹڈی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ماؤں کی اموات محض ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ یہ وسیع تر سماجی اور اقتصادی عدم مساوات کا عکس بھی ہے۔ ماؤں کی جانیں بچانے کے لیے صرف ہنگامی طبی امداد ہی کافی نہیں بلکہ خواتین کی غذائیت، تعلیم اور صحت کے شعبے میں طویل مدتی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ ان نتائج کے بعد حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اینیمیا کی روک تھام اور اس کے علاج کو ماؤں کی صحت کی حکمتِ عملیوں کے مرکز میں رکھیں۔ اگر پالیسی ساز ان شواہد پر عمل کرتے ہیں تو بے شمار ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کو بقا کا ایک بہتر موقع اور صحت مند مستقبل دیا جا سکتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف