ڈیجیٹل گورننس میں تبدیلی کے لیے نیشنل ڈیٹا گورننس پالیسی 2026 متعارف
- پالیسی ڈیجیٹل نیشن پاکستان اقدام کے فریم ورک کے تحت تیار کی گئی ہے
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے ملکی ڈیجیٹل گورننس کے نظام کو جدید بنانے کے لیے نیشنل ڈیٹا گورننس پالیسی 2026 متعارف کرا دی ہے۔
اس پالیسی کے تحت سرکاری ڈیٹا کو اسٹریٹجک قومی اثاثہ قرار دیا گیا ہے اور ڈیٹا کی خود مختاری، پرائیویسی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی )، سرحد پار ڈیٹا کی منتقلی اور شہریوں کے ڈیجیٹل حقوق سے متعلق جامع قوانین وضع کیے گئے ہیں۔ڈیجیٹل نیشن پاکستان اقدام کے فریم ورک کے تحت تیار کی جانے والی یہ پالیسی پہلی بار پبلک سیکٹر کے ڈیٹا کے لیے ایک جامع گورننس نظام قائم کرتی ہے۔ اس کے تحت تمام وفاقی وزارتوں، محکموں، ریگولیٹرز، پبلک سیکٹر کمپنیوں اور ان کے کنٹریکٹرز کے لیے سرکاری ڈیٹا اکٹھا کرنے، اسٹور کرنے، شیئر کرنے اور اسے تلف کرنے کے حوالے سے یکساں معیارات پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔
یہ پالیسی پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کرتی ہے جو سخت ڈیجیٹل خود مختاری کے اقدامات اپنا رہے ہیں۔ پالیسی میں واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری ڈیٹا ملک کے قانونی دائرہ اختیار اور موثر کنٹرول میں رہنا چاہیے۔ حساس سرکاری اور ذاتی ڈیٹا کو عام طور پر پاکستان کے اندر ہی ہوسٹ اور پروسیس کرنا لازمی ہوگا، جبکہ بیرونِ ملک کسی بھی قسم کی پروسیسنگ کے لیے پیشگی منظوری اور اضافی حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔
ایک اہم شق کے تحت سرکاری اداروں کو شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کی متعدد کاپیاں بنانے سے روک دیا گیا ہے۔ اس کے بجائے اداروں کو معلومات کے واحد مستند ذریعے کے طور پر نامزد کردہ پرائمری ڈیٹا رجسٹرز پر انحصار کرنا ہوگا اور ڈیٹا کا تبادلہ وصل نامی نیشنل ڈیٹا ایکسچینج پلیٹ فارم کے ذریعے کیا جائے گا۔
پالیسی میں ونس اونلی پرنسپل (صرف ایک بار کی فراہمی کا اصول) بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت شہریوں سے مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے بار بار ایک ہی معلومات فراہم کرنے کا تقاضا نہیں کیا جائے گا، جس سے ڈیجیٹل عوامی خدمات کی فراہمی آسان ہو جائے گی۔
شہریوں کے حقوق کو ترجیح دیتے ہوئے اس فریم ورک میں وسیع ڈیجیٹل حقوق تسلیم کیے گئے ہیں۔ ان میں یہ جاننے کا حق کہ کس سرکاری اہلکار نے ان کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کی، غلط ریکارڈ کی درستگی کا حق، ڈیٹا پورٹیبلٹی، قانونی طور پر جائز ہونے کی صورت میں ڈیٹا کو مٹانے کا حق اور حکومت کے خودکار فیصلوں پر انسانی نظرثانی کا حق شامل ہیں۔ جہاں ڈیٹا پروسیسنگ کی بنیاد رضامندی پر ہوگی، وہاں شہریوں کی تفصیلی رضامندی حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
پرائیویسی کے تحفظ کو نمایاں طور پر مضبوط کیا گیا ہے، جس کے تحت ہائی رسک پروسیسنگ کے لیے پرائیویسی امپیکٹ اسیسمنٹس کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ حساس ذاتی ڈیٹا اور بچوں کی معلومات کے لیے سخت حفاظتی اقدامات اور پبلک اداروں کے لیے ڈیٹا ہیک یا لیک ہونے کی صورت میں فوری مطلع کرنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کو بھی پالیسی میں نمایاں جگہ دی گئی ہے۔ قانونی نوعیت کے فیصلے کرنے والے اے آئی سسٹمز استعمال کرنے والے سرکاری اداروں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ان فیصلوں کی وضاحت، مسلسل نگرانی، مؤثر انسانی نظرثانی اور عوامی شفافیت کو یقینی بنائیں۔ پبلک باڈیز کو ایسے خودکار نظاموں کی تفصیلات پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی (پی ڈی اے) کے پبلک رجسٹر میں شائع کرنی ہوں گی۔ پالیسی میں حکومت کی جانب سے جنریٹو اے آئی کے استعمال پر بھی کنٹرول متعارف کرایا گیا ہے، تاکہ غلط معلومات، دانشورانہ ملکیت (آئی پی) کی خلاف ورزیوں اور ڈیٹا کے اخراج کو روکا جا سکے۔
یہ دستاویز اسٹرکچرڈ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، ڈیٹا ٹرسٹس، محققین اور جدت پسندوں کے لیے کنٹرولڈ رسائی اور سرکاری ڈیٹا سیٹس کی لائسنسنگ کی اجازت دے کر قومی ڈیٹا اکانومی کی بنیاد بھی رکھتی ہے۔ تاہم یہ واضح کیا گیا ہے کہ تجارتی مقاصد کے لیے شہریوں کے پرائیویسی حقوق یا اہم سرکاری ڈیٹا بیسز پر پاکستان کے خودمختار کنٹرول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
ادارتی سطح پر پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کو اس پالیسی کے نفاذ کی نگرانی، لازمی معیارات کے اجراء، تعمیل کی مانیٹرنگ اور نیشنل ڈیٹا گورننس کونسل قائم کرنے کا مرکزی کردار سونپا گیا ہے، جس میں وفاقی وزارتیں، صوبائی حکومتیں، ریگولیٹرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں گے۔ ہر سرکاری ادارے کے لیے ایک چیف ڈیٹا آفیسر کا تقرر کرنا بھی لازمی ہوگا جو اس فریم ورک کے نفاذ کا ذمہ دار ہوگا۔
پالیسی پر عملدرآمد کی جانچ سالانہ خود تشخیصی رپورٹس، آڈٹس اور ایک نئے نیشنل ڈیٹا میچورٹی انڈیکس کے ذریعے کی جائے گی، جو گورننس، سیکیورٹی، ڈیٹا کوالٹی، شفافیت اور شہریوں کے بااختیار ہونے کے لحاظ سے سرکاری اداروں کی درجہ بندی کرے گا۔ مستقل خلاف ورزی کی صورت میں پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کی جانب سے قانونی کارروائی اور نفاذ کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
یہ پالیسی وفاقی کابینہ کی منظوری اور آفیشل گزٹ میں نوٹیفکیشن کے بعد نافذ العمل ہوگی۔ اس کے بعد سرکاری اداروں کے لیے لازم ہوگا کہ وہ اپنے موجودہ نظاموں، معاہدوں اور طریقہ کار کو نئی نیشنل ڈیٹا اسٹریٹجی کے تحت جاری ہونے والے ٹائم لائنز کے مطابق ڈھالیں۔ سرکاری ڈیٹا سے متعلق موجودہ معاہدوں کو پالیسی کے نفاذ کے 12 ماہ کے اندر اپ ڈیٹ کرنا لازمی ہوگا۔






















Comments