BR100 Increased By (0.44%)
BR30 Increased By (1.39%)
KSE100 Increased By (0.62%)
KSE30 Increased By (0.61%)
BAFL 59.20 Increased By ▲ 0.06 (0.1%)
BIPL 26.85 Increased By ▲ 0.23 (0.86%)
BOP 35.41 Increased By ▲ 0.29 (0.83%)
CNERGY 8.20 Increased By ▲ 0.05 (0.61%)
DFML 19.75 Increased By ▲ 0.06 (0.3%)
DGKC 220.33 Increased By ▲ 1.71 (0.78%)
FABL 97.07 Increased By ▲ 0.01 (0.01%)
FCCL 58.15 Increased By ▲ 1.40 (2.47%)
FFL 17.90 Increased By ▲ 0.02 (0.11%)
GGL 23.60 Decreased By ▼ -0.06 (-0.25%)
HBL 295.60 Increased By ▲ 2.61 (0.89%)
HUBC 230.95 Decreased By ▼ -0.86 (-0.37%)
HUMNL 11.10 Decreased By ▼ -0.02 (-0.18%)
KEL 8.56 Increased By ▲ 0.14 (1.66%)
LOTCHEM 28.20 Decreased By ▼ -0.02 (-0.07%)
MLCF 105.65 Increased By ▲ 2.35 (2.27%)
OGDC 339.90 Increased By ▲ 1.73 (0.51%)
PAEL 44.42 Increased By ▲ 0.95 (2.19%)
PIBTL 18.75 Increased By ▲ 1.05 (5.93%)
PIOC 270.25 Increased By ▲ 0.25 (0.09%)
PPL 248.10 Increased By ▲ 3.78 (1.55%)
PRL 35.35 Decreased By ▼ -0.08 (-0.23%)
SNGP 123.05 Decreased By ▼ -2.61 (-2.08%)
SSGC 32.04 Decreased By ▼ -0.90 (-2.73%)
TELE 8.93 Increased By ▲ 0.02 (0.22%)
TPLP 10.76 Decreased By ▼ -0.07 (-0.65%)
TRG 64.21 Decreased By ▼ -0.69 (-1.06%)
UNITY 11.21 Increased By ▲ 0.18 (1.63%)
WTL 1.27 Increased By ▲ 0.02 (1.6%)
رائے

اعلیٰ کارکردگی دکھانے والوں کے مشکل ادوار سے نمٹنے کا ہنر

  • اعلیٰ کارکردگی صرف اس بات کا نام نہیں کہ آپ نے کیا حاصل کیا، بلکہ اس کا حقیقی معیار یہ بھی ہے کہ آپ نے اسے کس انداز سے حاصل کیا۔ جب ادارے نتائج اور رویے، دونوں کو یکساں اہمیت دیتے ہیں، تبھی ایک ایسی ثقافت جنم لیتی ہے جو صرف کامیاب نہیں بلکہ پائیدار بھی ہوتی ہے۔
شائع June 24, 2026 اپ ڈیٹ June 24, 2026 04:09pm

وہ بہت ذہین ہے۔ نہیں، حد سے زیادہ ذہین ہے۔ کیا غیر معمولی صلاحیت پائی ہے! لیکن اس کے ساتھ کام کرنا بھی کسی آزمائش سے کم نہیں۔ وہ کمپنی کا ستارہ ہے۔ ایک معمہ ہے۔ کسی ادارے کے ”ہائی پرفارمرز“ یا غیر معمولی کارکردگی دکھانے والے افراد کا ذکر چھیڑ دیجیے، عموماً کچھ ایسی ہی متضاد آرا سننے کو ملتی ہیں۔اکثر کاروباری اداروں کے لیے اپنی بہترین صلاحیتوں کے حامل افراد کو سنبھالنا اولین ترجیحات میں شامل ہوتا ہے، اور اس کی وجہ بھی بالکل واضح ہے۔ یہی لوگ کاروبار کو آگے بڑھاتے ہیں، نئے خیالات اور جدت کو جنم دیتے ہیں اور ترقی کی رفتار تیز کرتے ہیں۔

عالمی مشاورتی ادارے میکِنزی کے مطابق، اہم اور پیچیدہ نوعیت کی ذمہ داریوں پر کام کرنے والے غیر معمولی کارکردگی کے حامل افراد، اسی عہدے پر کام کرنے والے اوسط درجے کے ملازمین کے مقابلے میں دو سو سے چار سو فی صد تک زیادہ قدر اور نتائج پیدا کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، بعض اوقات ایک ہی فرد کی کارکردگی پورے ادارے کی سمت اور رفتار بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

تھامس کی تحقیق کے مطابق، غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ملازمین اپنے دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں کاروباری حکمتِ عملی اور مستقبل کی قیادت کی منصوبہ بندی کے حوالے سے 91 فیصد زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ نتیجہ معروف پیریٹو اصول سے بھی مطابقت رکھتا ہے، جس کے مطابق کسی ادارے کے 80 فیصد نتائج عموماً اس کے 20 فیصد ملازمین کی کوششوں کا حاصل ہوتے ہیں۔ یہ واقعی چونکا دینے والے اعداد و شمار ہیں۔ ذرا تصور کیجیے، ایک ایسا ملازم جو دوسروں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ پیداواریت کا مظاہرہ کرے، واقعی حیران کن بات ہے۔

یہی خصوصیات انہیں ایک طرح کے ممتاز اور منتخب طبقے کا حصہ بنا دیتی ہیں۔ ادارے ایسے افراد کو اپنی جانب راغب کرنے، انہیں برقرار رکھنے اور ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے بے تاب رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے ملازمین ادارے کے اہداف اور منصوبوں کے لیے تقریباً ناگزیر حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ بظاہر تو وہ خصوصی توجہ اور منفرد اندازِ سلوک کے مستحق دکھائی دیتے ہیں، لیکن اصل مخمصہ یہیں سے جنم لیتا ہے۔

آخر ان کے ساتھ برتاؤ کیسے کیا جائے؟ انہیں کس انداز سے سنبھالا جائے؟ کون سی غلطیاں کرنے سے گریز کیا جائے؟ انہیں ادارے سے وابستہ کیسے رکھا جائے؟ ان کی حوصلہ افزائی کیسے کی جائے؟ انہیں اختیار اور خودمختاری کس حد تک دی جائے؟ کب ان کی بے لگام روش کو حدود کا پابند بنانا ضروری ہو جاتا ہے؟ انہیں متاثر اور متحرک رکھنے کا نسخہ کیا ہے، اور کب ان پر لگام کھینچنے کی ضرورت پیش آتی ہے؟

یہ وہ پیچیدہ اور بظاہر بے جوڑ سوالات ہیں جن کے جواب تلاش کرنے میں بیشتر کمپنیاں سرگرداں رہتی ہیں۔ یہ محض انسانی وسائل (ایچ آر) کے شعبے کا ایک معمول کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایسی کشمکش ہے جو کسی بھی ادارے کی مجموعی ثقافت، اقدار اور کام کے ماحول کو متاثر کر سکتی ہے۔

اگرچہ اعلیٰ کارکردگی ان سب کی مشترکہ پہچان ہے، لیکن اس ممتاز طبقے کے افراد ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے نہیں ہوتے۔ ان کے مزاج، شخصیت، محرکات اور کام کرنے کے انداز ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ”ہائی پرفارمرز“ کی یہ دنیا جتنی شاندار دکھائی دیتی ہے، اتنی ہی پیچیدہ بھی ہے۔

ان غیر معمولی کارکردگی کے حامل افراد کی چند نمایاں اقسام یہ ہیں:

ہائی پرفارمر: آگے بڑھ کر قیادت کرنے والے

یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہر محاذ پر سب سے آگے دکھائی دیتے ہیں۔ کسی نئے یا مشکل کام کی ذمہ داری اٹھانی ہو تو سب سے پہلے خود کو پیش کرتے ہیں، اور نتائج بھی عموماً سب سے پہلے یہی دے کر دکھاتے ہیں۔ انہیں اپنی صلاحیتوں کا پورا ادراک ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کو آگے بڑھانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔ انہیں قیادت کرنا پسند ہوتا ہے، بلکہ بعض اوقات دوسروں کی رائے پر اپنی رائے کو فوقیت دینے کا رجحان بھی رکھتے ہیں۔

لیکن ان کے ساتھ اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اکثر ہر کام اپنی گرفت میں رکھنا چاہتے ہیں۔ توجہ کا مرکز بھی خود بننا چاہتے ہیں اور اختیار بھی مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ ٹیم کا توازن متاثر ہو جائے اور وہ خاموش مزاج مگر باصلاحیت ملازمین، جنہیں ابھی نکھرنے کے مواقع درکار ہوتے ہیں، پس منظر میں چلے جائیں۔

ہائی پرفارمر: کبھی نہ تھکنے والے

یہ وہ لوگ ہیں جو مسلسل متحرک رہتے ہیں۔ دوسروں سے زیادہ کام کرتے ہیں، ہر نئی ذمہ داری کے لیے فوراً ”ہاں“ کہہ دیتے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دن کے چوبیس گھنٹے دستیاب ہوں۔

مگر ہر کام اپنے ذمے لینے کی یہی عادت انہیں ذہنی دباؤ اور برن آؤٹ کا شکار بنا سکتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی ترجیحات طے کرنے کی صلاحیت متاثر ہونے لگتی ہے اور وہ بعض اہم منصوبوں میں بھی الجھاؤ یا کوتاہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ہائی پرفارمر: تعلقات استوار کرنے والے

یہ لوگوں سے تعلقات بنانے اور نبھانے کا غیر معمولی ہنر رکھتے ہیں۔ ٹیم کے ساتھی ہوں یا دیگر متعلقہ فریق، یہ سب کے ساتھ آسانی سے گھل مل جاتے ہیں۔ میل جول بڑھاتے ہیں، نیٹ ورک بناتے ہیں اور مختلف لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

بلاشبہ سماجی مہارتیں کام کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، لیکن بعض اوقات سب کو خوش رکھنے کی خواہش اتنی غالب آ جاتی ہے کہ مؤثر عمل درآمد کی صلاحیت متاثر ہونے لگتی ہے۔ یوں نتائج حاصل کرنے کے بجائے لوگوں کو ناراض نہ کرنے کی فکر حاوی ہو جاتی ہے۔

ہائی پرفارمر: ہر مسئلے کا حل نکالنے والے

یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں مشکل گھڑی کا آدمی کہا جا سکتا ہے۔ ہنگامی صورتِ حال ہو یا بحران، یہ پیچیدہ مسائل کا حل نکال لیتے ہیں اور کام کو انجام تک پہنچا دیتے ہیں۔

تاہم ہر مسئلے کا فوری حل نکالنے اور تیزی سے نتائج حاصل کرنے کا یہی انداز بعض اوقات معیار، طے شدہ طریقۂ کار اور ادارہ جاتی اصولوں پر سمجھوتے کا باعث بن جاتا ہے۔ رفتار کی خواہش میں وہ بعض ضروری تقاضوں کو نظر انداز کر بیٹھتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ کوئی بھی ہائی پرفارمر ہر اعتبار سے مکمل نہیں ہوتا، اور نہ ہی اوسط درجے کی کارکردگی دکھانے والا ہر فرد صلاحیتوں سے یکسر محروم ہوتا ہے۔

کسی ادارے کی اصل کامیابی اس بات میں پوشیدہ ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی طاقتوں اور کمزوریوں کو کس حد تک سمجھتا ہے اور ان کے مطابق ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے۔ یہی فہم اس بات کا تعین کرتی ہے کہ کسی فرد کی صلاحیت غیر معمولی کارکردگی میں ڈھلے گی یا خود ادارے کے لیے رکاوٹ بن جائے گی۔

ہائی پرفارمرز ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے افراد نہیں ہوتے، اس لیے انہیں سنبھالنے کے لیے بھی ایک ہی نسخہ کارآمد نہیں ہو سکتا۔ ان کے لیے ایک ایسے لچکدار اور متوازن طرزِ عمل کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کی مختلف شخصیات، محرکات اور کمزوریوں کو مدنظر رکھ سکے۔

حکمتِ عملی نمبر 1: قابلیت کو سزا نہ بننے دیں

غیر معمولی کارکردگی دکھانے والے ملازمین کے ساتھ ہونے والی سب سے عام ناانصافیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ان پر کام کا بوجھ مسلسل بڑھا دیا جاتا ہے۔ اداروں میں ایک غیر تحریری اصول کارفرما ہوتا ہے: کام وہیں جاتا ہے جہاں وہ مکمل ہوتا ہو۔ چونکہ ہائی پرفارمرز کام کو بخوبی انجام دیتے ہیں، اس لیے انہی کی صلاحیت ان کے لیے سزا بن جاتی ہے۔

انہیں مزید ذمہ داریاں سونپ دی جاتی ہیں۔ جن اجلاسوں میں قائدین خود شریک نہیں ہو سکتے، وہاں انہیں بھیج دیا جاتا ہے۔ ٹیم کے دوسرے ارکان کی ناقص کارکردگی یا ادھورے کام کی درستی بھی انہی کے ذمے لگا دی جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ یہ توقع ایک خاموش مفروضے میں بدل جاتی ہے کہ ہر مشکل کام، ہر اضافی ذمہ داری اور ہر ہنگامی صورتحال کا حل یہی لوگ نکالیں گے۔

مگر ہر انسان کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔

بالآخر وہ حد عبور ہو جاتی ہے اور نتیجہ عموماً دو صورتوں میں سامنے آتا ہے: یا تو ملازم شدید ذہنی و جسمانی تھکن، یعنی برن آؤٹ، کا شکار ہو جاتا ہے، یا پھر ایک دن خاموشی سے استعفیٰ دے کر چلا جاتا ہے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ ہائی پرفارمرز کو ازخود دستیاب اور ہمیشہ موجود سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے۔ ضرورت سے زیادہ انحصار اور حد سے بڑھی ہوئی ذمہ داریاں بالآخر الٹا نقصان پہنچاتی ہیں۔ ایسے کلیدی ملازم کی رخصتی ادارے کے منصوبوں، رفتار اور مستقبل کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔

قائدانہ کردار ادا کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کام کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں، اضافی ذمہ داریوں کے لیے مناسب وسائل اور معاونت فراہم کریں، اور ساتھ ہی ٹیم میں موجود کسی اور باصلاحیت فرد کو مستقبل کے متبادل یا جانشین کے طور پر تیار کرتے رہیں۔

حکمتِ عملی نمبر 2: رویے سے عاری کارکردگی

یہ عموماً وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس احساس سے توانائی حاصل کرتے ہیں کہ کمپنی کے نتائج بہتر بنانے اور اہداف حاصل کرنے میں اصل کردار انہی کا ہے۔ وہ نہ صرف کارکردگی دکھاتے ہیں بلکہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ سب اس کارکردگی کو دیکھیں اور تسلیم کریں۔

وہ توجہ کا مرکز بنے رہنا چاہتے ہیں۔ اجلاسوں میں دوسروں پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ کم کارکردگی دکھانے والے ساتھیوں کو خاطر میں نہیں لاتے، گویا ان کا وجود ہی بے معنی ہو۔ رفتہ رفتہ ساتھی ملازمین انہیں متکبر، خود پسند یا ناقابلِ برداشت سمجھنے لگتے ہیں۔ شکایات اعلیٰ انتظامیہ تک پہنچتی ہیں، مگر اکثر قائدین کندھے اچکا کر نظریں چرا لیتے ہیں۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں ادارہ اندر سے کھوکھلا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

جب کارکردگی کو صرف اعدادوشمار اور نتائج تک محدود کر دیا جائے اور اسے رویے، اقدار اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل سے الگ کر دیا جائے تو ماحول تیزی سے زہریلا ہو سکتا ہے۔ پھر یہی ”نتائج دینے والے“ افراد دوسروں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرنے، ادارہ جاتی اقدار پامال کرنے اور اخلاقی حدود سے تجاوز کرنے کے باوجود بچ نکلتے ہیں۔

یہ معمولی بات نہیں۔ اس سے ٹیم کے اندر دراڑیں پڑتی ہیں، اعتماد مجروح ہوتا ہے اور اجتماعی ماحول متاثر ہوتا ہے۔

اسی لیے ضروری ہے کہ اداروں میں ترقی اور اعتراف کا نظام صرف نتائج پر نہیں بلکہ رویے پر بھی استوار ہو۔ کارکردگی کو دو زاویوں سے جانچا جانا چاہیے: کیا حاصل کیا گیا؟ اور کس انداز سے حاصل کیا گیا؟

پہلا پہلو نتائج سے متعلق ہے، جبکہ دوسرا رویے، طرزِ عمل اور پیشہ ورانہ رویوں سے۔

ملازمین کو واضح طور پر یہ پیغام ملنا چاہیے کہ ”کس طرح“ اتنا ہی اہم ہے جتنا ”کیا“۔ اور جب بھی کسی ملازم کی جانب سے ادارہ جاتی اقدار یا قابلِ قبول رویے کی خلاف ورزی ہو، تو اس کا اثر فوری طور پر اس کی کارکردگی کی درجہ بندی پر بھی پڑنا چاہیے۔

حکمتِ عملی نمبر 3: رہنمائی اور اصلاح

غیر معمولی کارکردگی دکھانے والے افراد عموماً اہداف حاصل کرنے میں مہارت رکھتے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ وہ ٹیم کے ساتھ مل کر کام کرنے یا دوسروں کی قیادت کرنے کا ہنر بھی جانتے ہوں۔ بہترین نتائج دینا اور ایک مؤثر رہنما ہونا، دونوں الگ صلاحیتیں ہیں، اور ایک کا ہونا دوسرے کی ضمانت نہیں۔

اسی لیے اداروں کو چاہیے کہ وہ ایسے افراد کے لیے تیز رفتار ترقی کے خصوصی راستے ترتیب دیں، جہاں انہیں مستقبل کی قیادت کے لیے تیار کیا جا سکے۔ اس عمل کو اس انداز میں تشکیل دیا جانا چاہیے کہ یہ خود ان کے لیے باعثِ کشش اور اعزاز محسوس ہو۔ انہیں تربیت دی جائے، تجربہ کار افراد کی سرپرستی میسر ہو، اور باقاعدہ کوچنگ کے ذریعے یہ سکھایا جائے کہ ٹیموں کے ساتھ مؤثر انداز میں کیسے کام کیا جاتا ہے اور دوسروں سے بہترین کارکردگی کیسے حاصل کی جاتی ہے۔

قیادت کی نشوونما کے ایسے سفر انہیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ پیشہ ورانہ ترقی کے لیے صرف ذاتی کارکردگی کافی نہیں ہوتی۔ آگے بڑھنے کے لیے دوسروں کو ساتھ لے کر چلنا، اعتماد پیدا کرنا اور اجتماعی کامیابی میں اپنا کردار ادا کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر ادارہ بہترین کارکردگی دکھانے والے افراد کا خواہش مند ہوتا ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے ایک ہائی پرفارمر سمجھا جائے۔ ہر کمپنی اپنے غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ملازمین کو سراہنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں اپنے ساتھ برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ اس میں کوئی برائی نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ آپ کے نزدیک ”اعلیٰ کارکردگی“ کی تعریف کیا ہے، اور آپ ایسے افراد کے ساتھ برتاؤ کیسے کرتے ہیں؟

اس کی واضح تعریف ادارے کو متعین کرنی چاہیے، قائدین کو اسے سمجھنا چاہیے، اور ہائی پرفارمرز کو بھی اس کا ادراک ہونا چاہیے۔

آخرکار، ایک مضبوط، پائیدار اور متحرک اعلیٰ کارکردگی کی ثقافت اسی وقت جنم لیتی ہے جب آپ کا طرزِ عمل اور آپ کی کامیابیاں ایک دوسرے کی توثیق کریں۔ صرف یہ اہم نہیں کہ آپ نے کیا حاصل کیا، بلکہ یہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ آپ نے اسے کس انداز میں حاصل کیا۔

Comments

200 حروف