جرمنی کی نظریں ایکواڈور کے خلاف مسلسل تیسری فتح پر
- شلوٹربیک کے متبادل کے طور پر گزشتہ میچ میں کھیلنے والے انتونیو روڈیگر کے ٹورنامنٹ میں پہلی بار ابتدائی ٹیم میں شامل کیے جانے کا امکان ہے
گروپ ای سے پہلے ہی اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرنے والی جرمنی کی ٹیم جمعرات کو ایکواڈور کے خلاف میدان میں اترے گی اور اس کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنے تینوں گروپ میچ جیت کر مسلسل فتوحات کی تعداد 12 تک پہنچاتے ہوئے ورلڈ کپ میں اپنی شاندار پیش قدمی برقرار رکھے۔
تاہم کوچ یولیان ناگلسمان کو دفاعی لائن میں تبدیلی کرنا پڑے گی، کیونکہ مرکزی دفاعی کھلاڑی نیکو شلوٹربیک گزشتہ ہفتے آئیوری کوسٹ کے خلاف 2-1 کی سنسنی خیز فتح کے دوران ٹخنے کے لیگامنٹ کی انجری کا شکار ہو گئے تھے اور اب ٹورنامنٹ کے باقی تمام میچز سے باہر ہو چکے ہیں۔
اس میچ میں شلوٹربیک کی جگہ میدان میں آنے والے انتونیو روڈیگر کے ٹورنامنٹ میں پہلی مرتبہ ابتدائی الیون میں شامل ہونے کا امکان ہے، جہاں وہ جرمن دفاع کے مرکز میں جوناتھن تاہ کے ساتھ ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
ناگلسمان کی دفاعی لائن اگرچہ اب تک مجموعی طور پر مؤثر رہی ہے، تاہم بعض مواقع پر اس میں کمزوریاں بھی سامنے آئی ہیں، اور شلوٹربیک کی عدم موجودگی ایکواڈور کے خلاف اس دفاع کے لیے مزید کڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ایکواڈور کی ٹیم کے لیے یہ میچ بقا کی جنگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ کیوراساؤ کے خلاف بغیر کسی گول کے برابری پر اکتفا کرنے اور افتتاحی میچ میں آئیوری کوسٹ سے شکست کے بعد دباؤ کا شکار ہے۔
جنوبی امریکی ٹیم نے کیوراساؤ کے خلاف 28 مرتبہ گول کی کوشش کی، لیکن ایک بھی موقع کو جال میں تبدیل نہ کر سکی۔ ایکواڈور ایک پوائنٹ کے ساتھ گروپ میں تیسرے نمبر پر ہے، جبکہ کیوراساؤ بھی ایک پوائنٹ رکھتا ہے تاہم بہتر گول فرق کی بنیاد پر ایکواڈور اس سے آگے ہے۔
ایکواڈور کی ٹیم 19 میچوں کی ناقابلِ شکست سیریز کے ساتھ اس ٹورنامنٹ میں پہنچی تھی اور جنوبی امریکی کوالیفائنگ مرحلے میں موجودہ عالمی چیمپئن ارجنٹینا کے بعد دوسرے نمبر پر رہی تھی، تاہم اب اگلے مرحلے تک رسائی کی امیدیں برقرار رکھنے کے لیے اسے جرمنی کو شکست دینا ہوگی۔ آئیوری کوسٹ تین پوائنٹس کے ساتھ گروپ میں دوسرے نمبر پر ہے۔
دوسری جانب جرمنی چھ پوائنٹس کے ساتھ پہلے ہی گروپ میں سرفہرست پوزیشن یقینی بنا چکا ہے اور میچ کے نتیجے سے قطع نظر راؤنڈ آف 32 کا مقابلہ بوسٹن میں کھیلے گا۔ تاہم اسے اب بھی اپنے اگلے حریف کا انتظار ہے۔
اس کے باوجود جرمن ٹیم کے ناک آؤٹ مرحلے سے قبل رفتار کم کرنے یا اہم کھلاڑیوں کو آرام دینے کا امکان کم ہے، کیونکہ وہ اپنی فتوحات کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتی ہے۔
جرمن اٹیکنگ مڈفیلڈر نادیم امیری نے کہا کہ ”ہمیں اسی روانی کو برقرار رکھنا ہے کیونکہ ہر فتح ہمارے لیے فائدہ مند ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ”یہ ہمارے لیے انتہائی اہم میچ ہے۔ جرمنی سے بڑی تعداد میں شائقین ہماری حوصلہ افزائی کے لیے آئیں گے، اس لیے ہم ہر صورت یہ میچ جیتنا چاہتے ہیں اور پوری شدت کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔“
ناگلسمان بھی اپنی ٹیم میں اسی شدت اور عزم کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، خصوصاً اس کے بعد جب جرمنی نے 12 برس میں پہلی مرتبہ ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کی ہے۔ 2018 اور 2022 کے ورلڈ کپ میں پہلے ہی مرحلے سے باہر ہونے کے بعد جرمن ٹیم کی یہ کامیابی اس کے مداحوں میں پانچویں عالمی اعزاز کی امیدیں بھی تازہ کر چکی ہے۔























Comments