پاکستان اور ایران کا زرعی تجارت کو تیز کرنے پر اتفاق
- دونوں فریقین نے اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور موجودہ معاہدوں کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ دونوں ممالک کے کسانوں، تاجروں اور صارفین کو براہِ راست فائدہ پہنچایا جا سکے
وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور ایران نے منگل کو دونوں ممالک کے درمیان زرعی تجارت کے فروغ پر اتفاق کیا ہے۔
وزارت کے مطابق یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے ایران کے وزیرِ زراعت جہاد غلام رضا نوری قزلجه کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں دوطرفہ زرعی تعاون میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور تجارت کے فروغ کے نئے امکانات پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں زراعت، لائیو اسٹاک، غذائی تحفظ، زرعی تحقیق اور تجارتی سہولت کاری کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ دونوں فریقوں نے اقتصادی روابط کو وسعت دینے اور موجودہ معاہدوں کو عملی نتائج میں ڈھالنے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ دونوں ممالک کے کسان، تاجر اور صارفین اس کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔
گفتگو کے دوران رانا تنویر حسین نے 2025 میں اپنے دورۂ ایران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس موقع پر دونوں ممالک نے اہم زرعی اجناس کی تجارت بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے اپنی بڑھتی ہوئی مقامی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستانی چاول، آم اور گوشت درآمد کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان زرعی پیداوار کے شعبے میں نمایاں استعداد رکھتا ہے اور ایرانی منڈی کو اعلیٰ معیار کی مصنوعات فراہم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی وزیر نے کہا کہ ایران پاکستان سے گوشت درآمد کرنے کا خواہاں ہے اور پاکستان ایران کی مجموعی گوشت درآمدی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد پورا کر سکتا ہے۔ وزارت کے مطابق انہوں نے پاکستانی لائیو اسٹاک مصنوعات کے معیار پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے بلاتعطل سپلائی یقینی بنانے کے لیے مؤثر تجارتی نظام وضع کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں وزراء نے گزشتہ ملاقاتوں میں طے پانے والی مفاہمت کے تحت ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا اور اتفاق کیا کہ مشترکہ اعلامیے میں کیے گئے وعدوں پر آئندہ دو ماہ کے اندر عمل درآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ضروری انتظامی کارروائی تیز کی جائے اور تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔
ایرانی وزیر نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے علاقائی افہام و تفہیم اور تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں میں سہولت فراہم کرنے پر حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
اجلاس میں پاکستان اور ایران مشترکہ ورکنگ کمیٹی برائے زراعت کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ایرانی وزیر نے کہا کہ کمیٹی پہلے ہی قائم کی جا چکی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اسے مکمل طور پر فعال بنایا جائے تاکہ طے شدہ اہداف مقررہ مدت میں حاصل کیے جا سکیں۔ دونوں فریقوں نے کمیٹی کے باقاعدہ اجلاس منعقد کرنے اور تکنیکی ماہرین و متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کا نظام قائم کرنے پر اتفاق کیا۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان زرعی تعاون میں اضافہ علاقائی غذائی تحفظ، سرمایہ کاری کے فروغ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور پائیدار اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت میں سہولت فراہم کرنے اور زراعت و لائیو اسٹاک کے شعبوں میں ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں وزراء نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے زرعی تجارت کے مکمل امکانات سے فائدہ اٹھانے، نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان روابط کو مزید مستحکم کرنے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔























Comments