BR100 Decreased By (-0.3%)
BR30 Decreased By (-0.14%)
KSE100 Decreased By (-0.41%)
KSE30 Decreased By (-0.46%)
BAFL 59.50 Decreased By ▼ -0.34 (-0.57%)
BIPL 27.10 Decreased By ▼ -0.08 (-0.29%)
BOP 35.00 Decreased By ▼ -0.28 (-0.79%)
CNERGY 13.33 Increased By ▲ 0.20 (1.52%)
DFML 18.47 Increased By ▲ 0.39 (2.16%)
DGKC 214.65 Decreased By ▼ -2.36 (-1.09%)
FABL 99.99 Increased By ▲ 0.04 (0.04%)
FCCL 57.81 Decreased By ▼ -0.16 (-0.28%)
FFL 16.36 Decreased By ▼ -0.06 (-0.37%)
GGL 24.09 Decreased By ▼ -0.27 (-1.11%)
HBL 324.00 Decreased By ▼ -2.21 (-0.68%)
HUBC 212.80 Decreased By ▼ -0.62 (-0.29%)
HUMNL 10.79 Decreased By ▼ -0.02 (-0.19%)
KEL 7.65 Increased By ▲ 0.17 (2.27%)
LOTCHEM 28.00 Increased By ▲ 0.25 (0.9%)
MLCF 101.10 Decreased By ▼ -1.88 (-1.83%)
OGDC 322.89 Decreased By ▼ -0.89 (-0.27%)
PAEL 43.70 Decreased By ▼ -0.20 (-0.46%)
PIBTL 16.63 Decreased By ▼ -0.05 (-0.3%)
PIOC 273.81 Decreased By ▼ -2.38 (-0.86%)
PPL 231.40 Increased By ▲ 1.93 (0.84%)
PRL 71.90 Increased By ▲ 1.79 (2.55%)
SNGP 103.80 Increased By ▲ 0.14 (0.14%)
SSGC 27.25 Increased By ▲ 0.14 (0.52%)
TELE 8.76 Increased By ▲ 0.04 (0.46%)
TPLP 15.45 Decreased By ▼ -0.23 (-1.47%)
TRG 60.81 Decreased By ▼ -0.32 (-0.52%)
UNITY 12.37 Increased By ▲ 0.33 (2.74%)
WTL 1.21 Decreased By ▼ -0.02 (-1.63%)
دنیا

ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایرانی وفد کا مذاکراتی مقام سے واک آؤٹ

  • ایرانی وفد نے ثالثی کرنے والے قطر کے وفد سے ملاقات کے بعد مذاکراتی عمارت چھوڑ دی، ایرانی میڈیا
شائع اپ ڈیٹ

امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطح مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہوگئے جب ایرانی وفد نے مبینہ طور پر مذاکراتی مقام سے واک آؤٹ کیا، جبکہ تہران اور واشنگٹن نے ایک دوسرے کیخلاف سخت بیانات اور دھمکیاں بھی جاری رکھیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا نے کہا کہ ایرانی وفد نے ثالثی کرنے والے قطر کے وفد سے ملاقات کے بعد مذاکراتی عمارت چھوڑ دی، یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنان میں ایران کے اتحادی حزب اللہ کے خلاف کارروائی کی دھمکیوں کے بعد سامنے آیا۔ تاہم ایک سفارتی ذریعے نے دعویٰ کیا کہ ایرانی وفد اب بھی مذاکرات کا حصہ ہے اور اس نے باضابطہ طور پر مذاکرات چھوڑنے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔

مذاکرات کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امریکا و ایران کے تعلقات میں دیرینہ تنازعات کو حل کرنے کے لیے 60 روزہ روڈ میپ طے کرنا ہے، تاہم لبنان میں جاری جنگ اور ایران کی علاقائی اتحادی پالیسیوں پر اختلافات نے بات چیت کو مشکل بنا دیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے لبنان میں اپنے اتحادیوں کی حمایت بند نہ کی تو اس پر مزید سخت حملے کیے جائیں گے، جبکہ ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار نے جواب میں کہا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی کارروائی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اس کی فوج جنوبی لبنان میں اس وقت تک موجود رہے گی جب تک ضروری ہوگا، جبکہ ایران نے کہا ہے کہ جوہری پروگرام پر بات چیت نہیں ہوئی بلکہ مذاکرات کا فوکس لبنان کی صورتحال اور مفاہمتی معاہدے پر عمل درآمد تھا۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ان مذاکرات کو تاریخی ملاقات قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین تعلقات میں بہتری کے لیے نئے دور کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق لبنان میں جاری لڑائی اور آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی نے امن عمل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

Comments

200 حروف