BR100 Decreased By (-0.67%)
BR30 Decreased By (-0.99%)
KSE100 Decreased By (-0.41%)
KSE30 Decreased By (-0.54%)
BAFL 60.83 Decreased By ▼ -0.27 (-0.44%)
BIPL 26.99 Increased By ▲ 0.14 (0.52%)
BOP 35.45 Increased By ▲ 0.25 (0.71%)
CNERGY 8.26 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 20.18 Increased By ▲ 0.14 (0.7%)
DGKC 216.00 Increased By ▲ 0.71 (0.33%)
FABL 96.95 Decreased By ▼ -0.13 (-0.13%)
FCCL 56.78 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
FFL 18.13 No Change ▼ 0.00 (0%)
GGL 22.90 Increased By ▲ 0.21 (0.93%)
HBL 298.99 Increased By ▲ 0.59 (0.2%)
HUBC 232.51 Increased By ▲ 1.21 (0.52%)
HUMNL 11.20 Increased By ▲ 0.02 (0.18%)
KEL 8.23 Increased By ▲ 0.08 (0.98%)
LOTCHEM 28.81 Increased By ▲ 0.35 (1.23%)
MLCF 101.17 Increased By ▲ 0.65 (0.65%)
OGDC 334.25 Increased By ▲ 2.97 (0.9%)
PAEL 42.90 Increased By ▲ 0.15 (0.35%)
PIBTL 18.05 Increased By ▲ 0.11 (0.61%)
PIOC 275.50 Decreased By ▼ -2.35 (-0.85%)
PPL 243.50 Increased By ▲ 1.56 (0.64%)
PRL 36.13 Increased By ▲ 0.16 (0.44%)
SNGP 121.99 Increased By ▲ 5.15 (4.41%)
SSGC 32.14 Increased By ▲ 0.82 (2.62%)
TELE 9.15 Increased By ▲ 0.08 (0.88%)
TPLP 10.90 Increased By ▲ 0.66 (6.45%)
TRG 65.99 Decreased By ▼ -0.69 (-1.03%)
UNITY 11.32 Increased By ▲ 0.03 (0.27%)
WTL 1.29 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

وزیر خزانہ آج بجٹ تقریر سمیٹیں گے

  • محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں 40.742 کھرب روپے کے اخراجات بھی پیش کریں گے
شائع June 20, 2026 اپ ڈیٹ June 20, 2026 11:29am

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب آج (ہفتہ) قومی اسمبلی میں 40.742 کھرب روپے کے اخراجات پیش کریں گے جو وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے ادا کیے جائیں گے، اس سے قبل وہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر اپنی اختتامی تقریر بھی کریں گے۔

ایجنڈے کے مطابق وزیرِ خزانہ بجٹ 27-2026 پر اپنی اختتامی تقریر کے دوران سینیٹ کی جانب سے دی گئی سفارشات بھی پیش کریں گے۔

وزیرِخزانہ 30 جون 2027 کو ختم ہونے والے مالی سال کیلئے گرانٹس اور مختص رقوم کے مطالبات میں شامل وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ (وفاقی مجموعی فنڈ) پر عائد 40.742 ٹریلین روپے کے اخراجات بھی ایوان میں بحث کیلئے پیش کریں گے۔

اس تفصیل میں ملکی قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے 6.983 ٹریلین روپے، ملکی قرضوں کی واپسی کے لیے 25.992 ٹریلین روپے، غیر ملکی قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے 1.071 ٹریلین روپے، غیر ملکی قرضوں کی واپسی کے لیے 5.836 ٹریلین روپے اور محکمہ پاکستان پوسٹ آفس کے لیے 5 ملین روپے شامل ہیں۔

دیگر مختص کردہ رقوم میں ریٹائرمنٹ کے وظائف اور پنشن کے لیے 6.936 ارب روپے، گرانٹس، سبسڈی اور متفرق اخراجات کے لیے 57 ارب روپے، غیر ملکی مشنز کے لیے 500 ملین روپے، ڈویژن برائے قانون و انصاف کے لیے 539.407 ملین روپے، قومی اسمبلی کے لیے 7.969 ارب روپے اور سینیٹ کے لیے 6.453 ارب روپے شامل ہیں۔

اس تفصیل میں وفاقی حکومت کی جانب سے بیرونی ترقیاتی قرضوں اور ایڈوانسز کے لیے 607.309 ارب روپے، صدر کے عملے، گھریلو اخراجات اور الاؤنسز (عوامی) کے لیے 963.799 ملین روپے، صدر کے عملے، گھریلو اخراجات اور الاؤنسز (ذاتی) کے لیے 1.837 ارب روپے اور قلیل مدتی غیر ملکی قرضوں کی واپسی کے لیے 130.292 ارب روپے بھی شامل ہیں۔

مزید مختص کردہ رقوم میں آڈٹ کے لیے 9.820 ارب روپے، سپریم کورٹ کے لیے 7.441 ارب روپے، وفاقی آئینی عدالت کے لیے 6.048 ارب روپے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے 2.367 ارب روپے اور انتخابات سے متعلق اخراجات کے لیے 10.578 ارب روپے شامل ہیں۔

دیگر مختص کردہ رقوم میں کام کی جگہوں پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے وفاقی محتسب سیکرٹریٹ کے لیے 258.541 ملین روپے، وفاقی محتسب کے لیے 2.124 ارب روپے اور وفاقی ٹیکس محتسب کے لیے 645.572 ملین روپے شامل ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف