قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے جمعہ کو فنانس بل 2026 میں بڑی ترمیم کو مسترد کردیا جس کے تحت ایف بی آر کو ٹیکس ڈیکلیئریشن کی معلومات اسٹیٹ بینک کے ساتھ شیئر کرنے کی اجازت دی جانی تھی تاکہ اسے اسٹیٹ بینک کے سنٹرل ڈیٹا ریپوزٹری کے ساتھ کراس چیک کیا جاسکے۔
سیکشن 175AA (ہائی رسک افراد سے متعلق بینکاری اور ٹیکس معلومات کے تبادلے) میں مجوزہ ترامیم کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے اس شق کی توثیق کردی جس کے تحت اسٹیٹ بینک کو ایک محفوظ، مرکزی اور ورچوئل ریپوزٹری قائم کرنے، اسے چلانے اور برقرار رکھنے کا اختیار دیا جائے گا جس میں شیڈولڈ بینکوں کے پاس موجود افراد کی بینکاری معلومات، ریکارڈز اور مالی لین دین شامل ہوں گے۔
کمیٹی نے ایف بی آر کو ایک اور ترمیم شامل کرنے سے بھی روک دیا جس کے تحت مرکزی بینک، مائیکرو فنانس بینکوں اور الیکٹرانک منی انسٹیٹیوشنز کو یہ اجازت دی جانی تھی کہ وہ بینکنگ ڈیٹا پر مبنی نتائج ایف بی آر کو فراہم کریں۔
ایم این اے شرمیلا فاروقی نے اس پر ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا کے ممکنہ غلط استعمال کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔
ڈائریکٹر جنرل ٹیکس پالیسی یونٹ ڈاکٹر نجیب میمن نے جواب دیا کہ ریٹرنز کا تجزیہ کمپلائنس رسک مینجمنٹ سسٹم کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا میں کسی بھی قسم کے بڑے تضاد کی معلومات صیغہ راز میں رکھی جائیں گی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 175AA میں تجویز کردہ ترامیم کا مقصد ان ٹیکس دہندگان سے باز پرس کرنا ہے جو بھاری بینکنگ لین دین میں تو ملوث ہیں لیکن اپنے گوشوارے جمع نہیں کروارہے۔
رکن قومی اسمبلی حنا ربانی کھر نے اعتراض کیا کہ حکومت بینکوں کو ٹیکس دہندگان کے خلاف ٹیکس تحقیقات کا حصہ بنارہی ہے، ایف بی آر پہلے ہی ٹیکس دہندگان کی تحقیقات کررہا ہے اور اب بینک بھی اسی نوعیت کی تحقیقات کریں گے۔
کمیٹی کے چیئرمین نوید قمر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے بینکنگ ڈیٹا کی مرکزی ورچوئل ریپوزٹری قائم کرنے کی ترمیم کو برقرار رکھا جائے گا جبکہ سیکشن 175AA میں موجود باقی تمام ترامیم کو ختم کر دیا جائے گا۔
ایف بی آر کے ممبر (اسٹریٹجک ٹرانسفارمیشن) ڈاکٹر حامد عتیق سرور نے کہا کہ بینک کھاتوں میں تقریباً 37 ٹریلین روپے گردش میں ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہم ان لوگوں تک کیسے پہنچ سکتے ہیں جو بھاری لین دین تو کررہے ہیں لیکن اپنے انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کروا رہے؟ ٹیکس کا تقریباً 76 فیصد حصہ بڑی کمپنیاں ادا کرتی ہیں ۔ کیا ہم صرف کارپوریٹ سیکٹر پر ہی انحصار جاری رکھ سکتے ہیں؟ انہوں نے سوال کیا کہ بینکنگ ڈیٹا کے کراس میچ کے بغیر ہم ان افراد کو کیسے پکڑ سکتے ہیں؟
کمیٹی نے جرائم اور سزاؤں سے متعلق بیشتر ترامیم کو کچھ تبدیلیوں کے ساتھ منظور کرلیا۔
انفرادی سطح پر گوشوارے جمع کرانے میں تاخیر پر جرمانے کو 1,000 روپے سے بڑھا کر 25,000 روپے کرنے کے معاملے پر کمیٹی کے ارکان نے اعتراض اٹھایا کہ ایف بی آر کو گوشوارے جمع کرانے والے ان اصل ٹیکس دہندگان کو جرمانہ نہیں کرنا چاہیے جو معمولی تاخیر کرتے ہیں۔
ڈاکٹر حامد عتیق سرور نے وضاحت کی کہ اس جرمانے کا اصل ہدف وہ لوگ ہیں جو صرف جائیداد اور گاڑیاں خریدنے کے وقت نان فائلر ہونے پر عائد بھاری ٹیکسوں اور سزاؤں سے بچنے کے لیے گوشوارے جمع کراتے ہیں۔ لوگ صرف جائیداد خریدنے اور ودہولڈنگ ٹیکس کی بھاری شرح سے بچنے کے لیے ریٹرنز فائل کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اصل تاخیر کرنے والوں کے پاس ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ کے بعد 15 دن کی رعایتی مدت ہوتی ہے، جس کے بعد مزید 15 دن یعنی کل 30 دن ملتے ہیں۔ درخواست دینے پر ریٹرن جمع کرانے میں توسیع خود بخود ہو جاتی ہے۔ اسی طرح قانونی طور پر معذور افراد بھی اس جرمانے کے مستحق نہیں ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایک طرف ایف بی آر لوگوں کو ریٹرن فائل کرنے پر مائل کر رہا ہے، دوسری طرف فنانس بل 2026 میں جرمانوں میں بہت زیادہ اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026



















Comments