ایران جنگ اور دیگر اخراجات کے لیے پینٹاگون کو 80 ارب ڈالر درکار، امریکی قانون سازوں کو آگاہ کر دیا گیا، وال اسٹریٹ جرنل
- پینٹاگون کے ایک عہدیدار کے مطابق ایران جنگ پر اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کو ایران جنگ اور جنگ سے غیر متعلق دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے 80 ارب ڈالر درکار ہیں۔ نائب وزیر دفاع اسٹیفن فین برگ نے اس ہفتے ٹیلیفونک رابطوں کے دوران امریکی قانون سازوں کو اس ضرورت سے آگاہ کیا۔
رپورٹ میں باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی حکومت آئندہ چند روز میں ایک اضافی مالیاتی پیکج (سپلیمنٹری بجٹ درخواست) کانگریس کو بھیج سکتی ہے، جس میں پینٹاگون کے لیے فنڈز کے علاوہ زراعت اور قدرتی آفات سے متعلق امدادی پروگراموں سمیت دیگر غیر دفاعی ترجیحات کے لیے بھی رقوم شامل ہوں گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ پینٹاگون نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ وائٹ ہاؤس سے بھی کاروباری اوقات کے بعد رابطے پر فوری ردعمل موصول نہیں ہوا۔
رائٹرز کے مطابق پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے اپریل میں پہلی بار ایران جنگ کی لاگت کا سرکاری تخمینہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ اس جنگ پر اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔
تاہم 28 فروری کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی گئی اس جنگ کی مجموعی لاگت اب بھی امریکی کانگریس میں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے، جبکہ اضافی فنڈنگ کے لیے ابتدائی 200 ارب ڈالر کی درخواست کو قانون سازوں کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے بجٹ ڈائریکٹر رسل ووٹ نے اپریل میں ایوانِ نمائندگان کی بجٹ کمیٹی کے ایک اجلاس کے دوران کہا تھا کہ ان کے پاس جنگ کی مجموعی لاگت کا کوئی تخمینہ موجود نہیں، جبکہ وہ ٹرمپ کی جانب سے 1.5 کھرب ڈالر کے سالانہ دفاعی بجٹ کی درخواست کا دفاع کر رہے تھے۔
مجوزہ بجٹ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔ پارٹی کانگریس پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم اسے بڑھتی ہوئی مہنگائی، توانائی کی بلند قیمتوں اور ایران جنگ کے مالی بوجھ کے باعث ووٹرز کی بڑھتی ہوئی تشویش کا سامنا ہے۔
























Comments