سندھ کی زرعی پیداوار میں 14 سال میں اضافہ، پائیداری پر خدشات
- سندھ میں فصلوں اور چارے کی پیداوار میں اضافہ بنیادی طور پر زیرِ زمین پانی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے ہوا ہے،زرعی مردم شماری رپورٹ
پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) نے جمعرات کے روز رپورٹ کیا ہے کہ صوبائی زرعی شعبہ جس میں فصلیں، لائیو اسٹاک اور زرعی مشینری شامل ہیں ،گزشتہ 14 سالوں میں اضافہ کر چکا ہے، تاہم ادارے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ ترقی غیر پائیدار دکھائی دیتی ہے اور آبپاشی کے لیے سطحی پانی کی کمی کے باعث آئندہ نسلوں کی خوراک کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
پی بی ایس کے چیف اسٹیٹسٹیشن ڈاکٹر نعیم الظفر نے سندھ زرعی مردم شماری 2024 کی رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کہا کہ یہاں ایک بڑا مسئلہ موجود ہے آبپاشی کے لیے سطحی پانی کی شدید کمی۔ یہ پہلی مربوط ڈیجیٹل مردم شماری بھی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ میں فصلوں اور چارے کی پیداوار میں اضافہ بنیادی طور پر زیرِ زمین پانی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے ہوا ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں سولر ٹیوب ویلز بڑھ گئے ہیں جس کے نتیجے میں زیر زمین پانی کی سطح کم ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف زرعی پیداوار، فصلوں کا رقبہ اور لائیو اسٹاک کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے لوگ خوش ہوتے ہیں، لیکن یہ سب پانی کی بدولت ہی ممکن ہے اور پانی ہی ان تمام نتائج کو پائیدار بناتا ہے۔
اور جب ہم سولرائزڈ ٹیوب ویلز کے ذریعے نکالے گئے زیرِ زمین پانی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے فصلوں اور مویشیوں کی زیادہ پیداوار حاصل کر رہے ہیں تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ آیا ہمیں اس پر خوش ہونا چاہیے یا فکر مند ہونا چاہیے، کیونکہ خوراک کی پیداوار اور فوڈ سیکیورٹی صرف ایک یا دو سال کا مسئلہ نہیں بلکہ 25 کروڑ آبادی کے مستقبل سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔
پی بی ایس کے سربراہ نے زور دیا کہ یہ ڈیٹا پالیسی سازوں، تعلیمی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور میڈیا کی توجہ حاصل کرے تاکہ بہتر پالیسی سازی اور پائیدار پیداوار و کھپت کے لیے ذمہ داریوں کا تعین کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ سطحی پانی کی کمی ہمارے لیے ایک ویک اپ کال ہے۔
ڈاکٹر نعیم الظفر کے مطابق سندھ میں زیرِ زمین پانی پر انحصار نسبتاً کم ہے کیونکہ یہاں میٹھے پانی کی کمی ہے، جبکہ پنجاب میں صورتحال اس کے برعکس ہے اور وہاں زیرِ زمین میٹھے پانی پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی بی ایس نے سندھ کی زرعی ڈیٹا کو صوبائی زرعی شعبے کی بہتری کے لیے مرتب کیا ہے، جسے کسانوں کی مالی منصوبہ بندی اور فوڈ سیکیورٹی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب سندھ مردم شماری کے نتائج پر پریزنٹیشن دیتے ہوئے پی بی ایس کے جوائنٹ ایگریکلچرل سینسس کمشنر نوید اقبال نے بتایا کہ فصلوں کی کاشت کا رقبہ 2024 میں بڑھ کر 8.108 ملین ایکڑ ہو گیا ہے، جو 2010 میں 7.643 ملین ایکڑ تھا، یعنی 14 سال میں 6.083 فیصد اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح گندم کی کاشت کا رقبہ 13 فیصد بڑھ کر 5.3 ملین ایکڑ ہو گیا، جو 2010 میں 4.7 ملین ایکڑ تھا۔ مکئی کی کاشت دوگنی ہو کر 0.08 ایکڑ سے بڑھ گئی، جبکہ چاول کا رقبہ 2.8 ملین ایکڑ پر برقرار رہا۔
اس کے برعکس کپاس کی کاشت 28 فیصد کمی کے ساتھ 1.8 ملین ایکڑ رہ گئی، جو پہلے 2.5 ملین ایکڑ تھی۔ گنے کی پیداوار 17 فیصد کم ہو کر 0.5 ملین ایکڑ تک آ گئی، جبکہ چارے کی کاشت کا رقبہ 20 فیصد کمی کے ساتھ 0.4 ملین ایکڑ رہ گیا۔
پریزنٹیشن کے مطابق زرعی فارموں کی تعداد 1.12 ملین سے بڑھ کر 1.80 ملین ہو گئی، جس کے نتیجے میں اوسط فارم سائز کم ہو کر 8.8 ایکڑ سے 5 ایکڑ رہ گیا۔
مزید بتایا گیا کہ سندھ میں لائیو اسٹاک کی تعداد 2024 میں 5 کروڑ (50 ملین) تک پہنچ گئی، جو 2006 میں 3.2 کروڑ تھی، یعنی 3.23 فیصد سالانہ شرح سے اضافہ ہوا۔ اس میں 11.21 ملین گائے، 13.46 ملین بھینسیں، 4.74 ملین بھیڑیں، 19.01 ملین بکریاں، 0.37 ملین اونٹ اور 1.08 ملین گدھے شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق زرعی مشینری کے اہم اشاریے ٹریکٹرز کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، جو 2004 میں 36,245 سے بڑھ کر 2024 میں 84,985 یونٹس ہو گئی۔
























Comments