فیڈ کی جانب سے شرح بڑھانے کا امکان، ڈالر دو ماہ کی بلند ترین سطح پر
- ڈالر انڈیکس 100.31 پر مستحکم رہا، جو بدھ کے روز مارچ کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچا تھ
امریکی ڈالر جمعرات کے روز دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب مضبوط رہا، کیونکہ عالمی منڈیوں میں امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے رواں سال شرح سود میں اضافے کے بڑھتے ہوئے امکانات پر شرطیں مزید بڑھ گئیں۔ اس صورتحال نے جاپانی ین پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جو مداخلت کی سطح کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔
امریکی مرکزی بینک نے حالیہ اجلاس میں شرح سود 3.50 سے 3.75 فیصد کے درمیان برقرار رکھی، تاہم نئے چیئرمین کیون وارش کی قیادت میں پالیسی کے وسیع جائزے کا آغاز کیا گیا ہے۔ پالیسی سازوں میں سے تقریباً نصف نے اس سال شرح سود میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے، جس کی وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خدشات ہیں۔
مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق فیڈ فنڈز فیوچرز میں دسمبر میں شرح سود میں اضافے کے 83 فیصد امکانات قیمتوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ مضبوط ریٹیل سیلز کے اعداد و شمار نے بھی ڈالر کی مضبوطی کو مزید سہارا دیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال بھی مارکیٹ جذبات پر اثر انداز ہو رہی ہے، جہاں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے باوجود نئے خدشات موجود ہیں۔ اس سے خام تیل کی قیمتیں بلند رہیں اور ڈالر کو اضافی سپورٹ ملی۔
یورو معمولی اضافے کے ساتھ 1.1511 ڈالر پر رہا جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3318 ڈالر تک مضبوط ہوا۔ آسٹریلین اور نیوزی لینڈ ڈالر میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
ڈالر انڈیکس 100.31 پر مستحکم رہا، جو بدھ کے روز مارچ کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچا تھا۔ جاپانی ین 160.760 تک گر گیا، جو 2024 کے بعد کمزور ترین سطح کے قریب ہے اور اب بھی اس حد کے آس پاس ہے جسے مارکیٹ مداخلت کی ریڈ لائن سمجھتی ہے۔
دوسری جانب بینک آف انگلینڈ ممکنہ طور پر اپنی شرح سود 3.75 فیصد پر برقرار رکھے گا، کیونکہ وہ ایران جنگ بندی کے اثرات اور مہنگائی کے خدشات کا جائزہ لے رہا ہے۔























Comments