BR100 Decreased By (-0.34%)
BR30 Decreased By (-0.04%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.35%)
BAFL 59.00 Decreased By ▼ -0.16 (-0.27%)
BIPL 27.16 Decreased By ▼ -0.10 (-0.37%)
BOP 36.37 Increased By ▲ 0.37 (1.03%)
CNERGY 11.59 Increased By ▲ 0.34 (3.02%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.12 (0.66%)
DGKC 217.35 Decreased By ▼ -2.84 (-1.29%)
FABL 100.19 Decreased By ▼ -0.36 (-0.36%)
FCCL 57.35 Increased By ▲ 0.47 (0.83%)
FFL 16.60 Increased By ▲ 0.09 (0.55%)
GGL 24.63 Increased By ▲ 0.73 (3.05%)
HBL 324.00 Decreased By ▼ -1.60 (-0.49%)
HUBC 225.00 Increased By ▲ 1.42 (0.64%)
HUMNL 10.75 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 7.34 Decreased By ▼ -0.08 (-1.08%)
LOTCHEM 27.21 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
MLCF 101.81 Decreased By ▼ -1.28 (-1.24%)
OGDC 319.35 Increased By ▲ 0.86 (0.27%)
PAEL 43.70 Decreased By ▼ -0.68 (-1.53%)
PIBTL 16.82 Decreased By ▼ -0.08 (-0.47%)
PIOC 274.02 Decreased By ▼ -1.84 (-0.67%)
PPL 221.99 Decreased By ▼ -0.49 (-0.22%)
PRL 63.76 Decreased By ▼ -0.05 (-0.08%)
SNGP 103.90 Decreased By ▼ -1.01 (-0.96%)
SSGC 27.16 Decreased By ▼ -0.09 (-0.33%)
TELE 8.61 Decreased By ▼ -0.20 (-2.27%)
TPLP 14.86 Decreased By ▼ -0.11 (-0.73%)
TRG 63.00 Increased By ▲ 0.63 (1.01%)
UNITY 11.46 Decreased By ▼ -0.44 (-3.7%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)
دنیا

تھائی بادشاہ کی بڑی صاحبزادی 47 برس کی عمر میں چل بسی

  • شہزادی باجراکیتیابھا نریندرا دیبیاوتی گزشتہ تقریباً چار برس سے شدید علالت کے باعث کومے میں تھیں
شائع اپ ڈیٹ

تھائی لینڈ کے شاہی محل نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے بادشاہ کنگ مہا وجیرالونگ کورن کی سب سے بڑی صاحبزادی شہزادی باجراکیتیابھا نریندرا دیبیاوتی 47 برس کی عمر میں انتقال کرگئی ہیں۔ وہ گزشتہ تقریباً چار برس سے شدید علالت کے باعث کومے میں تھیں اور مختلف طبی مسائل کا سامنا کر رہی تھیں۔

شاہی محل کے مطابق شہزادی کو دسمبر 2022 میں شمال مشرقی صوبے ناخون راتچاسیما کے دورے کے دوران اچانک دل کی بیماری کے باعث بے ہوشی کا دورہ پڑا تھا۔ اس کے بعد انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے فوری طور پر دارالحکومت بنکاک منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری رہا۔

محل کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ جمعرات کی شام ان کی طبیعت مزید بگڑ گئی۔ انہیں پیٹ کے اندر شدید انفیکشن، آنتوں کی سوزش، کم بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور خون جمنے سے متعلق پیچیدگیوں کا سامنا تھا، جن کے باعث وہ انتقال کر گئیں۔

شاہی محل نے ان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

شہزادی باجراکیتیابھا،جنہیں عام طور پر پرنسس پا کے نام سے جانا جاتا تھا 7 دسمبر 1978 کو اس وقت کے ولی عہد وجیرالونگ کورن اور ان کی پہلی اہلیہ شہزادی سوامساولی کے ہاں پیدا ہوئیں۔

تھائی لینڈ میں انہیں عوامی خدمات، خواتین قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام اور سفارتی ذمہ داریوں کی وجہ سے خاص طور پر یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے امریکا کی کارنیل یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی، جہاں سے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ بعد ازاں 2006 سے 2011 تک تھائی لینڈ کے اٹارنی جنرل کے دفتر میں بطور وکیل خدمات انجام دیں۔

سال 2012 سے 2014 کے دوران انہوں نے آسٹریا، سلووینیا اور سلوواکیہ میں تھائی لینڈ کی سفیر کے طور پر فرائض سرانجام دیے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ بنکاک میں اٹارنی جنرل کے دفتر سے وابستہ ہو گئیں۔

شہزادی نے ایک فلاحی ادارہ بھی قائم کیا تھا جو خواتین قیدیوں، خصوصاً جیل میں حاملہ خواتین کے حقوق اور ان کی فلاح کے لیے کام کرتا تھا۔

2017 میں اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسداد جرائم اور فوجداری انصاف نے انہیں جنوب مشرقی ایشیا میں قانون کی حکمرانی کے لیے خیرسگالی سفیر مقرر کیا تھا۔

2021 میں انہوں نے فوج میں شمولیت اختیار کی جہاں انہیں جنرل کا عہدہ دیا گیا اور وہ رائل سیکیورٹی کمانڈ میں چیف آف اسٹاف کے طور پر بھی خدمات انجام دیتی رہیں۔

تھائی لینڈ کے آئین کے مطابق شہزادی باجراکیتیابھا بادشاہ کی ان تین اولاد میں شامل تھیں جنہیں باضابطہ شاہی حیثیت حاصل تھی اور جو تخت کے جانشین بننے کی اہل سمجھی جاتی تھیں۔

گزشتہ سال اکتوبر میں تھائی لینڈ کی ملکہ والدہ کا بھی 93 برس کی عمر میں انتقال ہوا تھا۔

اب شاہی محل نے اعلان کیا ہے کہ شہزادی کی شاہی اعزاز کے ساتھ آخری رسومات ادا کی جائیں گی، جبکہ حکومت کی جانب سے قومی سوگ کی مدت کا اعلان کیے جانے کی بھی توقع ہے۔

Comments

200 حروف