احتساب کا معمہ
- جوابدہی کے بغیر میرٹ نہیں ہوتا۔ میرٹ کے بغیر اعتماد نہیں ہوتا۔ اعتماد کے بغیر وابستگی پیدا نہیں ہوتی اور وابستگی کے بغیر ترقی ممکن نہیں
- یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے بیشتر سروے ملازمین کی وابستگی میں تاریخی کمی کی نشاندہی کر رہے ہیں
ہر کوئی جوابدہی کی تعریف کرتا ہے۔ ہر کوئی جوابدہی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ہر کوئی جوابدہی کی بات کرتا ہے۔ لیکن بہت کم لوگ اس سے مؤثر طور پر نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جوابدہی قیادت کی مہارتوں میں اب بھی سب سے کمزور مہارت سمجھی جاتی ہے۔ حال ہی میں گیلپ ( تحقیقی ادارہ ) نے رہنماؤں کا ایک سروے کیا جس میں ان سے پوچھا گیا کہ وہ قیادت کی سات بنیادی صلاحیتوں میں اپنی کارکردگی کو کس حد تک مؤثر سمجھتے ہیں۔ ایک الگ نمونے میں منیجرز سے بھی اپنے رہنماؤں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کہا گیا۔
نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں گروہ جوابدہی کو فروغ دینے کی صلاحیت کو سب سے کم درجہ بندی والی مہارت قرار دیتے ہیں۔ نصف سے بھی کم رہنما (صرف 46 فیصد) یہ کہتے ہیں کہ وہ جوابدہی پیدا کرنے میں غیر معمولی یا بہترین کارکردگی رکھتے ہیں، جس کی تعریف یہ ہے کہ ہر فرد کو اعلیٰ درجے کی کارکردگی فراہم کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ گیلپ کے اعداد و شمار مزید بتاتے ہیں کہ منیجرز اس حوالے سے اور بھی زیادہ مایوس کن رائے رکھتے ہیں؛ صرف 30 فیصد کا کہنا ہے کہ ان کے رہنما اپنی ٹیموں کو جوابدہ بنانے میں مؤثر ہیں۔ یہ اعداد و شمار حیران کن بھی ہیں اور بہت کچھ بیان بھی کرتے ہیں۔
جوابدہی کے بغیر میرٹ نہیں ہوتا۔ میرٹ کے بغیر اعتماد نہیں ہوتا۔ اعتماد کے بغیر وابستگی پیدا نہیں ہوتی اور وابستگی کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے بیشتر سروے ملازمین کی وابستگی میں تاریخی کمی کی نشاندہی کر رہے ہیں، یعنی 70 فیصد سے زیادہ ملازمین مختلف سطحوں پر اپنی تنظیموں سے غیر وابستہ ہیں۔ اگرچہ وابستگی ایک اہم موضوع ہے، لیکن جوابدہی، جو قیادت اور تنظیمی ترقی کا بنیادی عنصر ہے، مرکزی مباحث میں اکثر پس منظر میں رہتی ہے۔
میں جب رہنماؤں اور منیجرز سے پوچھتی ہوں کہ کمزور کارکردگی یا نامناسب رویے کو کیوں برداشت کیا جا رہا ہے، تو مجھے اکثر ایسے جواب ملتے ہیں: ”میں نے کئی بار کوشش کی، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔“ میرا اگلا سوال ہوتا ہے: ”آپ نے کب کب کوشش کی؟“ اس کا جواب عموماً مبہم اور غیر اطمینان بخش ہوتا ہے: ”ہم نے ششماہی جائزہ لیا تھا اور زیادہ تر اجلاسوں میں ہم لوگوں کو ذمہ دار بھی ٹھہراتے ہیں۔“
کوئی اور رہنما کہتا ہے: ”مجھے معلوم ہے کہ وہ اچھا کام نہیں کر رہا، لیکن یہ بھی جانتا ہوں کہ اسے اعلیٰ قیادت کی حمایت حاصل ہے، اس لیے اسے جوابدہ بنانے کی کوشش بے سود ہے۔“
ایک اور پراسرار جواب یہ ہوتا ہے: ”وہ سینئر شخص ہے اور نتائج بھی لاتا رہتا ہے، اس لیے اگر اس کا رویہ کچھ نامناسب بھی ہو تو کوئی مسئلہ نہیں۔“
یہ وہ ذہنیتیں ہیں جو بہت سی تنظیموں میں جوابدہی کے حوالے سے پائی جاتی ہیں، ہچکچاہٹ پر مبنی، غیر مستقل اور معذرت خواہانہ۔ جوابدہی کو قیادت کی بنیادی مہارت بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:
جوابدہی کا پہلا اصول: جوابدہی کی ثقافت قائم کریں
ثقافت لوگوں کو طے شدہ اصولوں اور اقدار پر عمل کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ مثال کے طور پر اکثر دیکھا جاتا ہے کہ پاکستان میں لوگ قطاروں کی پابندی نہیں کرتے، لیکن جیسے ہی دبئی پہنچتے ہیں فوراً قطار میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ تنظیموں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ ان کے لیے جوابدہی کا کیا مطلب ہے۔ کیا اس سے مراد پالیسیوں کی پابندی ہے؟ کیا اس کا مطلب سالانہ کارکردگی جائزے ہیں؟ یا ایسا ضابطۂ اخلاق جو کسی صورت قابلِ سمجھوتہ نہ ہو؟
ان سوالات کے جوابات یہ طے کریں گے کہ لوگ کمپنی میں جوابدہی کے حوالے سے کس نوعیت کا رویہ اختیار کریں گے۔ ثقافت دراصل ان اقدار کا مجموعہ ہے جو کمپنی کے رہنماؤں کے عقائد اور ترجیحات کی عکاسی کرتی ہیں۔ رہنماؤں کو غور و فکر کے بعد یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ کن اقدار کو اپنی تنظیم میں فروغ دینا چاہتے ہیں۔
اگر اعتماد ایک بنیادی قدر ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو عمر، عہدے اور ملازمت کے دورانیے سے قطع نظر جوابدہ ٹھہرایا جائے گا؟ اگر ایسا ہے تو کیا یہ اقدار صرف کاغذی دعوے ہیں یا واقعی تنظیمی رویوں کا حصہ بھی ہیں؟
رہنماؤں کو واضح توقعات متعین کرنی چاہئیں اور انہیں تنظیم کے ہر درجے تک مؤثر انداز میں پہنچانا چاہیے۔ ذمہ داریوں کا تعین صرف ملازمت کی تفصیلات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ انفرادی ملاقاتوں اور دیگر رابطہ مواقع میں بھی اس پر زور دیا جانا چاہیے۔ توقعات کو مکمل وضاحت کے ساتھ بیان کرنا ہی لوگوں کو ان سے آگاہ کرنے اور مطلوبہ طرزِ عمل اپنانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
جوابدہی کا دوسرا اصول: جوابدہی کے نظام وضع کریں
ایسی ثقافت جو درست اصولوں اور اقدار پر مبنی ہو لیکن ان پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے مناسب نظام موجود نہ ہوں، وہ غیر مستقل اور غیر قابلِ اعتماد ثابت ہوتی ہے۔ اس لیے مطلوبہ رویوں کو وسیع پیمانے پر فروغ دینے کے لیے مناسب دستاویزات، طریقۂ کار اور نظام ناگزیر ہیں۔
پاکستان میں جہاں عمومی ٹریفک کا نظام اکثر بے ہنگم دکھائی دیتا ہے، وہیں لاہور-اسلام آباد موٹروے اس بات کی عمدہ مثال ہے کہ کس طرح ایک مؤثر نظام اپنی الگ ثقافت تشکیل دیتا ہے۔ وہی گاڑیاں جو دیگر سڑکوں پر تیز رفتاری کرتی ہیں، موٹروے پر داخل ہوتے ہی مقررہ رفتار اور قواعد کی پابندی شروع کر دیتی ہیں۔ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کی نگرانی، تصاویر لینے اور جرمانے عائد کرنے کے نظام نے یہ یقینی بنایا ہے کہ اردگرد کے حالات جیسے بھی ہوں، موٹروے کی اپنی ایک الگ ثقافت برقرار رہے۔
جوابدہی کے مؤثر نظام اور ان کا بلاامتیاز نفاذ اس بات کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں کہ لوگ اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں جواب دہ بننے اور جواب دہ ٹھہرائے جانے کو قبول کریں۔
جوابدہی کا تیسرا اصول: لوگوں کو جوابدہ بنانے کی مہارتوں کی تربیت اور نشوونما
یہ ایک بڑی وجہ ہے کہ جوابدہی اکثر ایک ایسا مسئلہ بن جاتی ہے جس پر کھل کر بات نہیں کی جاتی۔ بہت سے رہنماؤں اور منیجرز کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ جوابدہی سے متعلق گفتگو یا اجلاس کس طرح منعقد کیے جائیں۔
اکثر ایسے اجلاسوں کو محض کارکردگی پر تنقید کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ گفتگو کا محور صرف اعداد و شمار بن جاتے ہیں۔ ملازمین کی خامیوں پر سخت انداز میں تنقید اور اس کے جواب میں ملازمین کے دفاعی ردعمل ان اجلاسوں کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ ملاقاتوں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
رہنماؤں کو اس بات کی باقاعدہ تربیت دی جانی چاہیے کہ وہ مستقل بنیادوں پر ایسے اجلاس کیسے منعقد کریں، ان میں کن امور کو شامل کیا جائے، اور مشکل گفتگوؤں کو مؤثر انداز میں کیسے سنبھالا جائے۔ اصل مہارت یہ ہے کہ مشکل صورتِ حال کو ملازمین کے لیے سیکھنے اور بہتری کے موقع میں کیسے بدلا جائے۔
جوابدہی کا چوتھا اصول: پیش رفت کی پیمائش کریں
سب سے اہم پہلو خود جوابدہی کے عمل کی جوابدہی ہے۔ اس عمل کا جائزہ باقاعدہ فیڈبیک اور نتائج کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
اس مقصد کے لیے سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ذریعہ ملازمین کی وابستگی کا سروے ہے۔ اس سروے میں جوابدہی کے لیے ایک الگ حصہ شامل ہونا چاہیے، جس میں ایسے سوالات ہوں جیسے:
کیا قیادت اپنے قول و فعل میں مطابقت رکھتی ہے؟
کیا کمپنی کی اقدار کارکردگی کے جائزے کا حصہ ہیں؟
کیا جوابدہی کا اطلاق سب پر یکساں طور پر ہوتا ہے؟
ان نتائج کو اسی درجے کی تزویراتی اہمیت دی جانی چاہیے جو منافع و نقصان کے گوشواروں کو دی جاتی ہے۔ اگر ان شعبوں میں اسکور کم ہوں تو انہیں فوری توجہ اور سنجیدہ اقدامات کے ذریعے بہتر بنایا جانا چاہیے۔
جوابدہی سب کے لیے ہونی چاہیے۔ اسے پوری تنظیم میں فروغ دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کا آغاز اوپر سے کیا جائے۔ آپ نچلی سطح پر سو افراد کو جوابدہ ٹھہرا سکتے ہیں، لیکن اس کا اثر شاید اتنا نہ ہو جتنا ایک اعلیٰ عہدے دار کو جوابدہ بنانے سے ہوتا ہے۔
آج کل ایسے کئی واقعات سامنے آتے ہیں جہاں ملازمت چھوڑنے والے کارکنان کمپنی کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے ہراسانی یا دیگر نامناسب رویوں کی شکایات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہوتا ہے کہ انہوں نے شکایت تو کی، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ بعد ازاں یہ کہانیاں سوشل میڈیا پر پھیل جاتی ہیں۔
ایک کمپنی میں ایسا ہوا کہ شکایت سامنے آنے پر اعلیٰ ترین عہدے دار کو تحقیقات مکمل ہونے تک عہدے سے الگ رہنے کے لیے کہا گیا۔ تحقیقات ہوئیں اور ثبوت سامنے آنے پر اسے ملازمت چھوڑنے کا کہا گیا۔ اس اقدام نے پوری تنظیم کو یہ واضح پیغام دیا کہ کوئی بھی شخص مقررہ حدود اور اصولوں سے بالاتر نہیں ہے۔
جوابدہی کے بغیر قیادت محض ایک عہدہ یا منصب بن کر رہ جاتی ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ”اگر قیادت جوابدہی سے مستثنیٰ ہو تو وہ قیادت نہیں بلکہ ایک استحقاق بن جاتی ہے۔“
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026






















Comments