پاکستانی فوڈ کمپنی اور چینی تحقیقی ادارے میں معاہدہ، صنعتی ٹماٹر کی نئی اقسام تیار کی جائیں گی
- چینی تحقیقی ادارے کے ساتھ یہ تعاون پاکستان کے زرعی شعبے میں تحقیق و ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا، وحید احمد
بیجنگ جِنگوا ایگریکلچرل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انوویشن سینٹر (جنگوا سینٹر) اور پاکستان کی افتخار احمد فوڈ اینڈ بیوریجز پرائیویٹ لمیٹڈ نے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت پاکستان میں صنعتی پروسیسنگ کے لیے موزوں اعلیٰ معیار کی ٹماٹر اقسام تیار اور متعارف کرائی جائیں گی۔
معاہدے کے تحت چینی تحقیقی ادارہ خاص طور پر صنعتی استعمال کیلئے منتخب کردہ ٹماٹر کی نئی اقسام فراہم کرے گا جو اعلیٰ برکس لیول، ٹھوس اجزاء کے مضبوط تناسب و گودے کی بہترین پیداوارکی حامل ہوں گی جس سے یہ اقسام اعلیٰ معیار کے ٹماٹر کے پیسٹ اور پیوری کی تیاری کیلئے انتہائی موزوں بن جائیں گی۔
اس تعاون کا آغاز سندھ میں تحقیق اور ترقی کے مرحلے سے ہوگا جہاں ٹماٹر کی 6 سے 7 ممکنہ اقسام کے جامع فیلڈ اور گرین ہاؤس ٹرائلز (تجربات) کیے جائیں گے۔ چینی اور پاکستانی ماہرین مشترکہ طور پر مقامی آب و ہوا، مٹی کی خصوصیات، کاشت کے طریقوں اور بیماریوں کے خلاف ان اقسام کی مطابقت کا جائزہ لیں گے۔
معاہدے پر دستخط ہانگژو میں منعقدہ پاک چین انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کام، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم اور ایگریکلچر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس کے دوران کیے گئے جو وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ چین کا حصہ تھی۔
بیج کی اقسام کی فراہمی کے علاوہ، جنگوا سینٹر ٹماٹر کی پیداواری صلاحیت اور معیار کو بہتر بنانے کے مقصد کے تحت جدید زرعی ٹیکنالوجیز، کاشت کاری کے جدید طریقے اور تکنیکی مہارت بھی منتقل کرے گا۔
اس شراکت داری کا مقصد کنٹرولڈ انوائرمنٹ ایگریکلچر کے ذریعے سال بھر ٹماٹر کی پیداوار کو فروغ دینا بھی ہے جس سے مستحکم پیداوار اور یکساں معیار کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
کامیاب ٹرائلز اور مقامی ماحول کے مطابق ڈھلنے کے بعد چینی جانب سے مسلسل تکنیکی تعاون کے ساتھ سب سے موزوں اقسام کو پاکستان میں تجارتی کاشت اور صنعتی پروسیسنگ کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔
افتخار احمد فوڈ اینڈ بیوریجز کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ وحید احمد نے کہا کہ چینی تحقیقی ادارے کے ساتھ یہ تعاون پاکستان کے زرعی شعبے میں تحقیق اور ترقی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی استعمال کے لیے موزوں ٹماٹر کی اقسام کی تیاری اور مقامی سطح پر کاشت سے اس قیمتی زرمبادلہ کو بچانے میں مدد ملے گی جو اس وقت ٹماٹر کے پیسٹ کی درآمد پر خرچ ہو رہا ہے جس کا حجم سالانہ تقریباً 10 لاکھ (ایک ملین) امریکی ڈالر ہے۔ مزید برآں اس اقدام سے ویلیو ایڈڈ زرعی مصنوعات کی پاکستان سے برآمدات میں اضافے کی بھی توقع ہے۔
وحید احمد نے مزید کہا کہ یہ شراکت داری صنعتی ٹماٹر کی اقسام کی مقامی پیداوار میں 7 ملین امریکی ڈالر تک کی سرمایہ کاری کو راغب کرسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حتمی طور پر منتخب کردہ بیج کی قسم کو پاکستان میں رجسٹرڈ کیا جائے گا اور بڑے پیمانے پر کسانوں کو دستیاب کرایا جائے گا جس سے اس کے وسیع پیمانے پر استعمال کی راہ ہموار ہوگی اور ملک میں ٹماٹر کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
دونوں تنظیموں کے نمائندوں نے اس معاہدے کو پاکستان اور چین کے مابین زرعی تعاون کو مضبوط بنانے اور پاکستان کی ٹماٹر کی ویلیو چین کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026





















Comments