BR100 Increased By (5%)
BR30 Increased By (5.87%)
KSE100 Increased By (4.23%)
KSE30 Increased By (4.7%)
BAFL 57.52 Increased By ▲ 2.02 (3.64%)
BIPL 27.62 Increased By ▲ 0.72 (2.68%)
BOP 34.61 Increased By ▲ 1.97 (6.04%)
CNERGY 10.76 Increased By ▲ 0.47 (4.57%)
DFML 18.41 Increased By ▲ 0.60 (3.37%)
DGKC 213.87 Increased By ▲ 18.69 (9.58%)
FABL 101.47 Increased By ▲ 2.79 (2.83%)
FCCL 56.47 Increased By ▲ 4.73 (9.14%)
FFL 16.85 Increased By ▲ 0.36 (2.18%)
GGL 25.76 Increased By ▲ 0.70 (2.79%)
HBL 308.18 Increased By ▲ 16.18 (5.54%)
HUBC 224.39 Increased By ▲ 10.42 (4.87%)
HUMNL 10.72 Increased By ▲ 0.27 (2.58%)
KEL 7.47 Increased By ▲ 0.33 (4.62%)
LOTCHEM 27.68 Increased By ▲ 0.87 (3.25%)
MLCF 96.56 Increased By ▲ 8.39 (9.52%)
OGDC 323.45 Increased By ▲ 13.07 (4.21%)
PAEL 43.37 Increased By ▲ 2.52 (6.17%)
PIBTL 16.80 Increased By ▲ 0.95 (5.99%)
PIOC 295.89 Increased By ▲ 12.20 (4.3%)
PPL 224.67 Increased By ▲ 13.57 (6.43%)
PRL 55.51 Increased By ▲ 2.37 (4.46%)
SNGP 104.67 Increased By ▲ 6.42 (6.53%)
SSGC 25.97 Increased By ▲ 1.12 (4.51%)
TELE 8.65 Increased By ▲ 0.36 (4.34%)
TPLP 13.18 Increased By ▲ 0.21 (1.62%)
TRG 60.05 Increased By ▲ 1.08 (1.83%)
UNITY 10.24 Increased By ▲ 0.36 (3.64%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
مارکٹس

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

  • برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 1.05 ڈالر یا 1.09 فیصد اضافے کے ساتھ 97.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کے روز ابتدائی کاروبار کے دوران ایک فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران و امریکا کے درمیان سفارتی مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونا ہے۔

برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 1.05 ڈالر یا 1.09 فیصد اضافے کے ساتھ 97.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.01 ڈالر یا 1.08 فیصد بڑھ کر 94.77 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں عالمی بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں بھی ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر بند ہوئے تھے۔

امریکی فوج کے مطابق ایران نے کویت اور بحرین کی جانب بیلسٹک میزائل داغے، تاہم کوئی ہدف نشانہ نہیں بن سکا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے جواب میں ایران کے جزیرہ قشم پر کارروائیاں کی گئیں۔

ادھر سرمایہ کار ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع سے متعلق خبروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق تہران امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے ایک مجوزہ معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے، جس کا مقصد جاری کشیدگی کا خاتمہ ہے۔ ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہِ راست رابطہ نہیں ہوا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

اے این زیڈ بینک کے سینئر کموڈیٹی اسٹریٹجسٹ ڈینیئل ہائنس نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بحال کرنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ کے بڑے حصوں میں بارودی سرنگیں بچھا چکا ہے۔ ان کے مطابق جہازوں کی آمدورفت میں معمولی اضافہ ضرور ہوا ہے، لیکن ٹریفک اب بھی تنازع سے پہلے کی سطح سے خاصی کم ہے۔

دوسری جانب رسد کے حوالے سے امریکی خام تیل کے ذخائر میں مسلسل ساتویں ہفتے کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ امریکن پیٹرولیم انسٹیٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 29 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر میں 6.8 ملین بیرل کی کمی آئی، جس سے قیمتوں کو مزید سہارا ملا۔ امریکی حکومت آج بعد ازاں سرکاری ذخائر کے اعداد و شمار جاری کرے گی۔

Comments

200 حروف