مشرقِ وسطیٰ بحران، پاکستان میں بزنس کنفیڈنس انڈیکس میں بڑی گراوٹ
- کاروباری اعتماد میں کمی کی بنیادی وجوہات میں مہنگائی کا بڑھتا دباؤ، ایندھن کی قیمتیں اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے شدت اختیار کرتے ہوئے منفی اثرات شامل ہیں
اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے بزنس کنفیڈنس انڈیکس سروے کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ سال 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران پاکستان میں کاروباری اعتماد شدید متاثر ہوا ہے کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے سرمایہ کاری کے منصوبوں پر دباؤ ڈالا، سپلائی چینز میں رکاوٹیں پیدا کیں اور لاگت میں اضافے کو ہوا دی۔
او آئی سی سی آئی کے بزنس کانفیڈنس انڈیکس (بی سی آئی) سروے ویو 29 کے مطابق جو 2026 کی دوسری سہ ماہی میں پاکستان بھر میں کیا گیا کاروباری برادری کے جذبات اور اعتماد میں کمی دیکھی گئی۔ اس کے نتیجے میں مجموعی بزنس کنفیڈنس انڈیکس 9 فیصد پوائنٹس کی گراوٹ کے بعد مثبت 13 فیصد پر آ گیا جو کہ اس سے پچھلے یعنی 28 ویں ویو میں 22 فیصد پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق کاروباری اعتماد میں اس کمی کی بنیادی وجوہات میں مہنگائی کا بڑھتا ہوا دباؤ، ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے شدت اختیار کرتے ہوئے منفی اثرات شامل ہیں۔
سروسز کے شعبے میں سب سے بڑی گراوٹ دیکھی گئی جہاں یہ انڈیکس 20 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 14 فیصد پر آ گیا جبکہ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
دوسری جانب ریٹیل کا شعبہ واحد تھا جس میں بہتری دیکھنے میں آئی اور یہ 3 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔
سروے کے نتائج کے مطابق کاروباری اداروں میں سرمایہ کاری کے ارادے نمایاں طور پر کمزور ہوئے ہیں، جہاں نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کی کمی کے بعد صرف 2 فیصد رہ گیا ہے جو قریبی مدت میں سرمایہ کی تعیناتی تقریباً مکمل طور پر منجمد ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ تمام شعبوں سے وابستہ تقریباً 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کررہے ہیں یا ان پر نظرثانی کررہے ہیں اور متاثرہ تجارتی راستوں کے اثرات سے بچنے کے لیے اپنی سپلائی چینز کو متنوع بنا رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسٹریٹجک توجہ اب خطرات میں کمی اور آپریشنل لچک کو مضبوط بنانے کی طرف منتقل ہورہی ہے۔
اسی دوران سروے کا عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ 31 پوائنٹس گرگیا اور تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں کو توقع ہے کہ یہ بحران چھ ماہ سے بھی زائد عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔
او آئی سی سی آئی کے سیکریٹری جنرل عبدالعلیم کا کہنا تھا کہ سروے کے نتائج اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ پاکستان میں کام کرنے والے کاروباری ادارے اس وقت انتہائی پیچیدہ ماحول کا سامنا کررہے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ تنازع کے اثرات سرمایہ کاری کے جمود سے لے کر سپلائی چین کی ازسرِنو تشکیل تک ہر شعبے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ پاکستانی مارکیٹ کے بنیادی عوامل اب بھی مستحکم ہیں، تاہم کاروباری اعتماد کو بحال کرنے کے لیے پالیسی کے استحکام، پیداواری لاگت میں ریلیف اور معیشت کو طویل جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے اثرات سے بچانے کے لیے بھرپور اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہوگی۔
مستقبل کی بات کی جائے تو سروے میں شامل 34 فیصد شرکاء نے آئندہ چھ ماہ کے دوران منفی کاروباری صورتحال کی پیش گوئی کی ہے جو کہ پچھلے یعنی 28 ویں مرحلے کے 22 فیصد کے مقابلے میں ایک بڑی گراوٹ ہے، اس حوالے سے سیاسی عدم استحکام، ایندھن (فیول) کی قیمتوں اور مہنگائی کو سب سے بڑے خدشات قرار دیا گیا ہے۔
جب کاروباری ترقی کے لیے اہم ساختی خطرات کے بارے میں پوچھا گیا تو مہنگائی سب سے اوپر رہی، جسے 84 فیصد نے سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، اس کے بعد بلند ٹیکس 79 فیصد کے ساتھ اور کرنسی کے استحکام اور غیر مستقل حکومتی پالیسیوں سے متعلق خدشات دونوں 61 فیصد پر رہے۔
دوسری جانب، ملک کے بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندہ تنظیم او آئی سی سی آئی کی ممبر کمپنیوں کے کاروباری اعتماد میں نسبتاً پائیداری دیکھی گئی اور یہ معمولی بہتری کے ساتھ مثبت 28 فیصد پر برقرار رہا۔

























Comments