پاکستان کو آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2028 کی میزبانی مل گئی
- ٹورنامنٹ پاکستان میں خواتین کی کرکٹ کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا
پاکستان کو آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2028 کی میزبانی مل گئی۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پیر کو احمد آباد میں اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کے بعد اعلان کیا ہے کہ پاکستان کو آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2028 کی میزبانی کے حقوق دے دیے گئے ہیں۔
یہ ٹورنامنٹ پاکستان میں خواتین کی کرکٹ کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ آئی سی سی انتظامات کے تحت بھارت کے میچز کسی نیوٹرل مقام پر کھیلے جائیں گے۔
اہم تبدیلیوں میں آئی سی سی نے ایک آزمائشی اقدام کی منظوری دی ہے جس کے تحت اگر دونوں ٹیمیں متفق ہوں تو ٹیسٹ میچز میں پنک بال استعمال کی جا سکے گی، اس اقدام کا مقصد خراب روشنی کے باعث کھیل کا ضائع ہونے والا وقت کم کرنا ہے۔
آئی سی سی نے ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنلز میں اننگز کے وقفے کا دورانیہ بھی بڑھا کر 15 منٹ کردیا ہے۔
آئی سی سی ویمنز چیمپئنز ٹرافی 2027 کو ری شیڈول کردیا گیا ہے اور اب یہ پہلے سے طے شدہ جون-جولائی کے بجائے 14 سے 28 فروری 2027 تک منعقد ہوگی۔
بورڈ نے مزید تصدیق کی کہ ایمرجنگ نیشنز ٹرافی 2026ء میں 10 ٹیمیں شامل ہوں گی جن میں پانچ فل ممبرز اور پانچ ایسوسی ایٹ اراکین شامل ہیں۔
اہلیت (کوالیفکیشن) کے مواقع کو وسعت دینے کے لیے، آئی سی سی نے مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے ایک نئے 16 ٹیموں پر مشتمل عالمی کوالیفائنگ ٹورنامنٹ کی منظوری دی ہے۔
گورننس کے معاملات پر آئی سی سی نے کینیڈا کرکٹ بورڈ کی رکنیت معطل کر دی ہے جس کی وجہ ان کے بقول سنگین خلاف ورزیاں ہیں، تاہم کینیڈا کی قومی ٹیم آئی سی سی کے مقابلوں میں شرکت کے لیے اہل رہے گی۔
کرکٹ باڈی نے یہ اعلان بھی کیا کہ ایک دو رکنی وفد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے انتخابی عمل سمیت مختلف معاملات کا جائزہ لینے کے لیے بنگلہ دیش کا دورہ کرے گا۔ یہ وفد سری لنکا کا ایسا ہی ایک دورہ پہلے ہی مکمل کر چکا ہے۔
دنیا بھر میں فرینچائز کرکٹ کے تیزی سے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئی سی سی بورڈ نے کھیل کے موجودہ ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے فرینچائز پر مبنی لیگز اور انٹرنیشنل کیلنڈر کے درمیان توازن پیدا کرنے کے طریقے تلاش کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔























Comments