وسط مدتی انتخابات کی پرواہ نہیں، ٹرمپ کا ایران کو انتظار میں شکست دینے کا دعویٰ
- ایران نے صورتحال کا غلط اندازہ لگایا، امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ انہیں ایران کے ساتھ جاری طویل تنازع کے سیاسی اثرات کی کوئی پرواہ نہیں، اور اگر ایرانی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات انہیں کسی معاہدے پر مجبور کر دیں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔
وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے صورتحال کا غلط اندازہ لگایا۔ ان کے مطابق ایران نے سوچا تھا کہ وہ مجھے انتظار کروا لیں گے، لیکن مجھے وسط مدتی انتخابات کی کوئی پرواہ نہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے حوالے سے فیصلے سیاسی دباؤ کے تحت نہیں کریں گے۔ تاہم ان کے بعض ریپبلکن اتحادی پہلے ہی اس تنازع کے معاشی اثرات، خصوصاً بڑھتی ہوئی قیمتوں اور پٹرول کی مہنگائی پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ جنگ چار سے چھ ہفتے میں ختم ہو جائے گی، تاہم اب یہ تنازع اپنے چوتھے ماہ میں داخل ہو چکا ہے۔ کبھی وہ اس کے جلد ختم ہونے کی بات کرتے ہیں، اور کبھی اس کے طویل ہونے کا عندیہ دیتے ہیں۔
مہنگائی اور خاص طور پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ امریکی ووٹروں میں بے چینی بڑھا رہا ہے، جس سے ریپبلکن پارٹی پر سیاسی دباؤ بھی بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان اور ممکنہ طور پر سینیٹ میں اکثریت برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اسی دوران ٹرمپ نے ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر جان کورنن کے بجائے متنازع امیدوار کین پیکسٹن کی حمایت کی، جو مالی بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کر چکے ہیں اور اپنی ازدواجی زندگی کے تنازع کے باعث بھی خبروں میں رہے ہیں۔ پیکسٹن نے صدارتی حمایت کے بعد پرائمری انتخابات میں کورنن کو آسانی سے شکست دے دی۔
ٹرمپ نے اس نتائج کو آئندہ وسط مدتی انتخابات کا پیش خیمہ قرار دیا۔
کابینہ اجلاس کے دوران انہوں نے واشنگٹن میں جاری تعمیراتی منصوبوں کا بھی ذکر کیا، جن میں وائٹ ہاؤس کا نیا بال روم، رِفلیکٹنگ پول کی تزئین و آرائش اور ایک بڑے آرچ منصوبے کی تجویز شامل ہے۔ ریپبلکن اراکین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے اہم معاشی مسائل سے توجہ ہٹا رہے ہیں۔

























Comments