چین کا پاکستان سے معدنیات و زرعی اجناس کی طویل المدتی درآمدات پر غور
- وفاقی وزیر تجارت جام کمال کی 8 معروف چینی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
چین پاکستان کے ساتھ کان کنی، زراعت، ٹیکسٹائل اور ویلیو ایڈڈ برآمدات کے شعبوں میں طویل المدتی کموڈٹی خریداری اور مخصوص شعبہ جاتی سرمایہ کاری شراکت داریوں پر غور کررہا ہے جب کہ اسلام آباد بیجنگ کے ساتھ اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے اور اپنی برآمدی بنیاد کو متنوع بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
یہ پیشرفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان کے دورہِ چین کے دوران معروف چینی کمپنیوں کے نمائندوں سے ہونے والی اہم ملاقاتوں کے دوران سامنے آئی ہیں۔
پیر کو جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق ان ملاقاتوں کا مقصد دوطرفہ تجارت کو مضبوط بنانا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور ٹیکسٹائل، زراعت، مائننگ، کیمیکلز، ای کامرس اور فوڈ پروسیسنگ سمیت ترجیحی شعبوں میں پاکستان کی برآمدات کے دائرہ کار کو وسیع کرنا تھا۔
وفاقی وزیر نے 8 معروف چینی کمپنیوں کے اعلیٰ نمائندوں سے ملاقات کی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان شعبہ جاتی تعاون اور طویل مدتی تجارتی شراکت داری کے لیے ٹھوس راہوں کا جائزہ لیا جا سکے۔
ژونگ ہینگ ٹیکسٹائل کے باب ژو کے ساتھ ایک ملاقات میں یارن کی درآمدات، جدید چینی ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان میں کپاس کے بیج کی کوالٹی کو بہتر بنانے اور ٹیکسٹائل شعبے میں تعاون کو وسعت دینے پر بات چیت کی گئی۔
جام کمال نے پاکستان کے اہم جغرافیائی محلِ وقوع پر روشنی ڈالی اور پیداواری شعبوں میں چین کی طویل مدتی سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔
فارچیون ٹیک کی کترینہ ٹاؤ کے ساتھ بات چیت کے دوران دونوں اطراف نے آرگینک مصنوعات، بیجوں کی تیاری اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیار کی بہتری کے مواقع کا جائزہ لیا جس میں زرعی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے اور ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل کی پیداوار کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔
جام کمال نے شنگھائی ژونگ کین شن ٹیکنالوجی کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی جہاں گفتگو کا محور مائننگ (معدنیات) کے شعبے میں مربوط تعاون، ایکسپلوریشن کے مواقع، فنانسنگ میکانزم اور بین الاقوامی آپریشنل معیارات کو اپنانا تھا تاکہ پاکستان کے معدنی ذخائر کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جا سکے اور پائیدار ویلیو چینز قائم کی جا سکیں۔
نانجنگ جنشان کیمیکل ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنی ملاقات میں وفاقی وزیر نے پاکستانی تانبے، سیسہ و زنک، لوہے کی دھات، گوار گم اور چینی کی برآمدات بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ چینی کمپنی نے طویل مدتی خریداری کے انتظامات قائم کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا جو پاکستان سے معدنیات اور کموڈٹیز (اجناس) کی برآمدات کو بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
شنگھائی پنگ یوآن-ٹیک کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا محور ڈیجیٹل تجارت کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانا، ای کامرس کے رابطوں کو بڑھانا اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے تجارتی معلوماتی نظام کو بہتر بنانا تھا تاکہ پاکستانی برآمد کنندگان کو چینی مارکیٹ تک زیادہ رسائی فراہم کی جاسکے۔
احکوف نیو چینز ہولڈنگز کے ساتھ بات چیت میں، دونوں فریقین نے تل کی تجارت میں مواقع کا جائزہ لیا جس میں خاص طور پر معیار کی یقین دہانی، نمی کے کنٹرول اور طویل مدتی سپلائی کے قابلِ بھروسہ انتظامات کو یقینی بنانے پر توجہ دی گئی۔
جام کمال نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے ساتھ بعد میں ہونے والے ادارہ جاتی رابطوں اور فالو اپ ملاقاتوں کے لیے ہر ممکن تعاون اور سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
ژجیانگ گرین، آئل اینڈ فوڈ کے چیئرمین شی وی کے ساتھ ملاقات میں وفاقی وزیر نے چینی مارکیٹ کی بڑھتی مانگ کو پورا کرنے کے لیے مسابقتی قیمتوں پر پاکستانی زرعی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے معیاری زرعی اجناس فراہم کرنے کی پاکستان کی بھرپور صلاحیت کو بھی اجاگر کیا۔
شنگھائی ہیڈے فوڈ کے ساتھ ایک الگ ملاقات میں پاکستان کے بیف (بڑے کے گوشت) اور پولٹری (مرغی کے گوشت) کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا جس میں چینی مارکیٹ تک رسائی کے امکانات اور سپلائی چین کے تعاون کا جائزہ لیا گیا تاکہ پاکستان کی گوشت کی مصنوعات کو چین برآمد کرنے میں سہولت فراہم کی جا سکے۔

























Comments