آئی ایم ایف مشن کا دورہ مکمل، بجٹ پر مذاکرات جاری رہیں گے
- آئی ایم ایف مشن، جس کی قیادت ایوا پیٹرووا کر رہی تھیں، نے 13 سے 20 مئی 2026 کے دوران اسلام آباد کا اسٹاف وزٹ مکمل کیا
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مالی سال 2027 کے وفاقی بجٹ پر مذاکرات آئندہ دنوں میں بھی جاری رہیں گے۔ یہ پیش رفت اس اسٹاف لیول دورے کے اختتام کے بعد سامنے آئی ہے جس میں دونوں فریقین نے حالیہ معاشی صورتحال، مالی اہداف اور جاری قرض پروگراموں کے تحت اصلاحاتی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
آئی ایم ایف مشن، جس کی قیادت ایوا پیٹرووا کر رہی تھیں، نے 13 سے 20 مئی 2026 کے دوران اسلام آباد کا اسٹاف وزٹ مکمل کیا۔ اس دورے میں حالیہ معاشی حالات، اصلاحات پر عملدرآمد اور مالی سال 2027 کے بجٹ کی حکمت عملی پر توجہ دی گئی۔
آئی ایم ایف کے مطابق ہم نے حکام کے ساتھ تعمیری بات چیت کی جس میں مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے معاشی اثرات، مالی سال 2027 کے بجٹ کی تیاری اور ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت اصلاحاتی ایجنڈے میں پیش رفت شامل تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکام نے مالی سال 2027 میں جی ڈی پی کے 2 فیصد بنیادی سرپلس کے ہدف کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جو مالی پائیداری کو مضبوط بنانے اور معاشی لچک میں اضافہ کرے گا۔ بتدریج مالیاتی استحکام کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، ٹیکس انتظامیہ بہتر بنانے، اخراجات کی کارکردگی بڑھانے اور وفاقی و صوبائی سطح پر پبلک فنانشل مینجمنٹ کو بہتر بنانے کی کوششیں شامل ہوں گی۔
آئی ایم ایف کے مطابق مالی سال 2027 کے بجٹ پر مذاکرات آئندہ دنوں میں بھی جاری رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ممکنہ اثرات پر بھی نظر رکھی جائے گی۔ اس کے علاوہ شرح مبادلہ میں لچک کو جھٹکوں کے اثرات جذب کرنے کے اہم ذریعہ کے طور پر برقرار رکھا جائے گا اور زرمبادلہ کی انٹر بینک مارکیٹ کو مزید گہرا کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
مذاکرات میں توانائی کے شعبے، سرکاری اداروں (ایس او ایز) کی اصلاحات، مارکیٹ لبرلائزیشن اور مالیاتی شعبے کی اصلاحات پر بھی بات چیت ہوئی، جن کا مقصد پائیدار ترقی اور نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
آر ایس ایف کے تحت پیش رفت پر بھی بات ہوئی، جس میں آفات سے نمٹنے کے لیے مالیاتی فریم ورک اپنانا، بجٹ اور سرمایہ کاری منصوبہ بندی میں ماحولیاتی عوامل شامل کرنا اور بجلی سبسڈی اصلاحات کو آگے بڑھانا شامل ہے۔
آئی ایم ایف نے بتایا کہ اگلا مشن، جس میں آرٹیکل IV مشاورت اور ای ایف ایف و آر ایس ایف کے جائزے شامل ہوں گے، 2026 کے دوسرے نصف میں متوقع ہے۔

























Comments