امریکہ اور ایران کشیدگی کے خدشات پر تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ
- برینٹ کروڈ فیوچرز 3.24 ڈالر (3.06 فیصد) اضافے کے ساتھ 108.96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے
تیل کی عالمی قیمتوں میں جمعہ کے روز 3 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے وزیرِ خارجہ کے بیانات کے بعد آبنائے ہرمز کے گرد بحری حملوں اور جہازوں کی ضبطی کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کی امیدیں مزید کمزور ہو گئیں۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 3.24 ڈالر (3.06 فیصد) اضافے کے ساتھ 108.96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) فیوچرز 4.13 ڈالر (4.08 فیصد) اضافے کے ساتھ 105.03 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوئے (10:49 صبح سی ڈی ٹی / 1549 جی ایم ٹی تک)۔
ہفتہ وار بنیادوں پر برینٹ کی قیمت میں 7.54 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 9.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ایران تنازع میں کمزور جنگ بندی سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کا نتیجہ ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات کا لہجہ ایک بار پھر نمایاں طور پر زیادہ تصادم پر مبنی ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، لیکن آبنائے ہرمز کی جلد بحالی کی امیدیں کمزور پڑ گئی ہیں۔
کومرز بینک کے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ صورتحال میں بظاہر استحکام کے باوجود دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان برقرار ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کے روز کہا کہ ایران کو امریکا پر ’’کوئی اعتماد نہیں‘‘ اور وہ صرف اسی صورت میں مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے جب واشنگٹن سنجیدہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ میں واپسی کے لیے بھی تیار ہے اور سفارتی حل کے لیے بھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے معاملے پر صبر کھو رہے ہیں اور انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اتفاق کیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جانا چاہیے۔
صدر شی جن پنگ نے ایران سے متعلق ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی بات چیت پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ تنازع، ’’جو کبھی شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا، اسے جاری رکھنے کی کوئی وجہ نہیں‘‘۔
مارکیٹ کو امریکی-چین سربراہی اجلاس سے جن معاہدوں کی توقع تھی، ان میں ٹرمپ نے کہا کہ چین امریکا سے تیل خریدنا چاہتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ان چینی کمپنیوں پر پابندیاں ہٹانے پر غور کر سکتے ہیں جو ایرانی تیل خریدتی ہیں۔
ویندا انسائٹس کی تجزیہ کار وندانا ہری کے مطابق مارکیٹ کی توجہ ایک بار پھر تعطل اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی پر مرکوز ہے، جبکہ فوجی کشیدگی میں اضافے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ بدھ اور جمعرات کے دوران 30 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو اگرچہ جنگ سے قبل یومیہ 140 جہازوں کے مقابلے میں کم ہے، تاہم حالیہ ہفتوں کے مقابلے میں اضافہ ضرور ہے۔
پی وی ایم کے تجزیہ کار تاماش ورگا کے مطابق جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ مارکیٹ کے جذبات پر اثر ڈال رہا ہے، اگرچہ حقیقی تیل کی فراہمی پر اس کا اثر محدود ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش اس وقت سامنے آ رہی ہے جب عالمی ذخائر پہلے ہی کم سطح پر ہیں۔
پی فلن، سینئر تجزیہ کار، پرائس فیوچرز گروپ نے کہا کہ دنیا نے تاریخی رفتار سے اپنے تیل کے حفاظتی ذخائر استعمال کر لیے ہیں، اور اگر بندش طویل ہوئی تو مارکیٹ میں سختی، ممکنہ قلت اور قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
کپلر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 10 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو حالیہ ہفتوں میں روزانہ 5 سے 7 جہازوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
سیکسو بینک کے تجزیہ کار اولے ہینسن نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس وجہ سے بھی ہے کہ ٹرمپ-شی ملاقات آبنائے ہرمز کی بحالی میں کوئی واضح پیش رفت نہیں لا سکی، جبکہ یوکرین کے روسی ریفائنریز پر حملے بھی عالمی رسد کے خدشات بڑھا رہے ہیں۔

























Comments