ایران نے آبنائے ہرمز میں چینی بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا، فارس نیوز
- ذرائع نے فارس نیوز کو بتایا کہ یہ اقدام چینی وزیرِ خارجہ اور ایران میں متعین سفیر کی درخواستوں کے بعد اٹھایا گیا ہے
نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز نے جمعرات کو ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے آبی گزرگاہ کے انتظامی پروٹوکولز پر مفاہمت کے بعد بعض چینی بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینا شروع کر دی ہے۔
فارس نیوز کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو چین کے سرکاری دورے پر ہیں نے چینی رہنما شی جن پنگ کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ توانائی کی آزادانہ ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز کو کھلا رہنا چاہیے۔
ذرائع نے فارس نیوز کو بتایا کہ یہ اقدام چینی وزیرِ خارجہ اور ایران میں متعین چینی سفیر کی درخواستوں کے بعد اٹھایا گیا ہے، جس پر تہران نے دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری کے پیشِ نظر متعدد چینی جہازوں کے گزرنے میں سہولت فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کو شدید محدود کر دیا تھا۔ اپریل کے اوائل میں طے پانے والی جنگ بندی کے چند روز بعد ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی نے اس آبی گزرگاہ کے بحران کو مزید طول دے دیا ہے، جہاں سے دنیا کے خام تیل اور قدرتی گیس کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس اقدام سے زمینی صورتحال میں کس حد تک تبدیلی آئی ہے، کیونکہ ایران نے جنگ کے دوران پہلے ہی اشارہ دیا تھا کہ غیر جانبدار بحری جہاز، خاص طور پر چین سے منسلک جہاز اس وقت تک آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں جب تک وہ ایرانی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی رکھیں۔
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ڈیٹا کے مطابق عراقی خام تیل کے 20 لاکھ بیرل سے لدا ایک چینی سپر ٹینکر بدھ کو آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب رہا، جو امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے دو ماہ سے زائد عرصے سے خلیج میں پھنسا ہوا تھا۔

























Comments