پاکستان کو مضبوط معاشی پالیسیاں برقرار رکھنا ہوں گی، آئی ایم ایف
- آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کیلئے پاکستان کی اقتصادی شرح نمو کا تخمینہ کم کر کے 3.5 فیصد کر دیا ہے
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز کے بعد پیدا ہونے والے غیر یقینی اور مشکل عالمی ماحول میں پاکستان کو مضبوط معاشی پالیسیوں کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اصلاحاتی عمل میں تیزی لانا ہوگی تاکہ ممکنہ معاشی جھٹکوں سے نمٹا جا سکے اور درمیانی مدت میں پائیدار اقتصادی ترقی حاصل کی جا سکے۔
آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے دوسرے جائزے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد پاکستان کو فوری طور پر ای ایف ایف کے تحت تقریباً 1.1 ارب ڈالر جبکہ آر ایس ایف کے تحت 22 کروڑ ڈالر جاری کیے جائیں گے۔ اس طرح دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر 4.8 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔
آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کیلئے پاکستان کی اقتصادی شرح نمو کا تخمینہ کم کر کے 3.5 فیصد کر دیا ہے جبکہ مہنگائی کی شرح 8.4 فیصد تک بڑھنے کی پیشگوئی کی ہے۔ اسی طرح کرنٹ اکائونٹ کے خسارے کا تخمینہ بھی دگنا سے زائد بڑھا کر جی ڈی پی کے 0.9 فیصد تک کر دیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک نے کہا کہ پاکستان نے ای ایف ایف پروگرام پر مؤثر عملدرآمد جاری رکھا ہے، جس سے معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور زرمبادلہ کے ذخائر کی بحالی میں مدد ملی۔ ان کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے نو ماہ میں جی ڈی پی نمو میں بہتری، مہنگائی پر قابو اور کرنٹ اکاؤنٹ کا توازن برقرار رہا۔
آئی ایم ایف نے زور دیا کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے، ٹیکس وصولیوں میں بہتری لائے اور اخراجات کے نظام کو مؤثر بنائے تاکہ مالیاتی استحکام مضبوط ہو سکے۔ آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک کی سخت مانیٹری پالیسی کو مناسب قرار دیتے ہوئے زرمبادلہ کی شرح میں لچک برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔
ادارے نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات، بجلی و گیس قیمتوں کو لاگت کے مطابق رکھنے، سرکاری اداروں کی نجکاری، کاروباری ماحول میں بہتری اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کیلئے اصلاحات جاری رکھنا پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments