پی پی ایل نے دس سالہ تاخیر کے بعد کنویں سے پیداوار کا کامیاب آغاز کر دیا
- آپریشنل پیرامیٹرز کی بہتری کے بعد اس وقت کنویں سے تقریباً 3.6 ملین مکعب فٹ گیس اور 750 بیرل یومیہ کنڈنسیٹ پیدا ہو رہا ہے
تیل و گیس تلاش کرنے والے ادارے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) نے سندھ کے ضلع سانگھڑ میں واقع فیض ایکس ون ڈیپ (بیسل سینڈ) کنویں کو دس سال سے زائد عرصے تک غیر ترقی یافتہ رہنے کے بعد کامیابی سے فعال کر دیا ہے۔
ملک میں قدرتی گیس فراہم کرنے والے اس اہم ادارے نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو بھیجے گئے ایک نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔ پی پی ایل نے نوٹس میں کہا کہ ہم گمبٹ ساؤتھ بلاک کے آپریٹر کی حیثیت سے فیض ایکس ون ڈیپ (بیسل سینڈ) کنویں کے کامیاب آغاز کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔
کمپنی کے مطابق یہ کنواں 2014 میں کھودا گیا تھا۔ تاہم قریبی پائپ لائن انفرااسٹرکچر کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس دریافت پر کام شروع نہیں کیا جا سکا، جس کی وجہ سے یہ منصوبہ اس وقت غیر اقتصادی رہا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ دیگر کنوؤں کی پائپ لائن کے ساتھ رابطہ قائم کرنے اور جامع تکنیکی و اقتصادی دوبارہ جائزے کے بعد بیسل سینڈ کے حصے کو تجارتی طور پر قابل عمل قرار دیا گیا،جس کے بعد کمپنی نے کنویں سے پیداوار حاصل کرنے کے لیے ضروری کام اور سطح پر تنصیبات کی تعمیر مکمل کی۔
پی پی ایل نے بتایا کہ اس عمل میں گہرے حصوں کی تنہائی، کنویں کی مرمت کے کام، سطحی سہولیات کی تنصیب اور تقریباً 4.5 کلومیٹر طویل فیڈر لائن کی تعمیر شامل تھی، تاکہ اس کنویں کو گیس جمع کرنے کے موجودہ نیٹ ورک سے جوڑا جا سکے اور گیس کو گمبٹ ساؤتھ گیس پروسیسنگ فیسیلٹیز تک پہنچایا جا سکے۔
ادارے نے مطلع کیا کہ کنویں کو 25 فروری 2026 کو فعال کیا گیا اور پیداوار میں مرحلہ وار اضافہ کیا گیا۔ نوٹس کے مطابق آپریشنل پیرامیٹرز کی بہتری کے بعد اس وقت یہاں سے تقریباً 3.6 ملین مکعب فٹ گیس اور 750 بیرل یومیہ کنڈنسیٹ پیدا ہو رہا ہے۔
پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کرنے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہونے کے ناطے پی پی ایل ملک کے قدرتی وسائل کی تلاش، ترقی اور پیداوار میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

























Comments