مشرق وسطیٰ کشیدگی کے باوجود معاشی اشاریے درست سمت میں ہیں، وزیر خزانہ
- حکومت کو یقین ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا ایگزیکٹو بورڈ قرض کی اگلی قسط کی منظوری دے دے گا، محمد اورنگزیب
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی کشیدگی اور بیرونی دباؤ کے باوجود پاکستان کے اہم معاشی اشاریے درست سمت میں گامزن ہیں اور حکومت کو یقین ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا ایگزیکٹو بورڈ قرض کی اگلی قسط کی منظوری دے دے گا۔
سید نوید قمر کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر خزانہ نے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال، مالی نظم و ضبط اور ہاؤسنگ فنانس سیکٹر میں اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ محتاط مالیاتی پالیسی، بیرونی کھاتوں کی بہتر کارکردگی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے اقدامات کے باعث پاکستان اپنے مالی اہداف حاصل کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔
کمیٹی کے چیئرمین نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے ترسیلات زر میں اضافے، یورو بانڈز کے اجرا کے ذریعے عالمی سرمایہ مارکیٹ تک رسائی اور پانڈا بانڈ کی منظوری کے عمل میں پیش رفت کو حوصلہ افزا قرار دیا۔ تاہم کمیٹی ارکان نے زور دیا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے برآمدات میں اضافہ، نئی منڈیوں تک رسائی اور سپلائی سائیڈ رکاوٹوں کو دور کرنا ناگزیر ہے۔
اجلاس کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر نے بھی بریفنگ دی اور غیر ملکی سرمایہ کاری، سرمایہ اور منافع کی واپسی، سرمایہ کاروں کو درپیش مسائل اور اعتماد سازی کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ 2022 کے سیلاب کے مقابلے میں پاکستان کی مالی پوزیشن اب زیادہ مضبوط ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2025 میں تین صوبے سیلاب سے متاثر ہوئے، تاہم حکومت نے بیرونی مالی امداد طلب کیے بغیر صورتحال کو سنبھالا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس جمعہ کو شیڈول ہے اور حکومت کو قرض کی اگلی قسط کی منظوری میں کسی رکاوٹ کی توقع نہیں۔ ان کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ کامیابی سے مکمل کیا جسے آئی ایم ایف انتظامیہ کی توثیق بھی حاصل ہوچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپریل 2026 تک پاکستان نے بنیادی سرپلس اور بیرونی ادائیگیوں کے اہداف حاصل کیے، جبکہ برآمدات، ترسیلات زر اور آئی ٹی ایکسپورٹس میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ وزیر خزانہ کے مطابق جون تک زرمبادلہ کے ذخائر تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہونے کی توقع ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


























Comments