مارچ ایف سی اے، نیپرا نے فی یونٹ 0.0102 روپے ریلیف کی منظوری دیدی
- اتھارٹی نے یہ فیصلہ 28 اپریل 2026 کو ہونے والی عوامی سماعت کے بعد کیا،
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے مارچ 2026 کے لیے ملک بھر کے صارفین، بشمول کے-الیکٹرک، کے لیے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی مد میں 0.0102 روپے فی یونٹ کمی کی منظوری دے دی ہے، جس سے بجلی صارفین کو معمولی ریلیف ملے گا۔
اتھارٹی نے یہ فیصلہ 28 اپریل 2026 کو ہونے والی عوامی سماعت کے بعد کیا، جس میں سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹیڈ(سی پی پی اے-جی) نے مارچ کے لیے 0.2660 روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست دی تھی۔ تاہم، تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد نیپرا نے معمولی منفی ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دی۔
نیپرا کے مطابق ہر ڈسٹری بیوشن کمپنی (ڈسکو) کے لیے الگ الگ ایف سی اے کا تعین کیا گیا، جس میں سی پی پی اے-جی سے حاصل کی گئی بجلی، دوطرفہ معاہدے (بشمول ایس پی پیز/سی پی پیز) اور نیٹ میٹرنگ کو مدنظر رکھا گیا۔ نئی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے-الیکٹرک اور واپڈا ڈسکوز کے تمام صارفین پر ہوگا، سوائے لائف لائن صارفین، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور پری پیڈ صارفین کے۔
سماعت کے دوران سی پی پی اے-جی نے مؤقف اختیار کیا کہ مارچ 2026 میں مجموعی بجلی پیداوار میں ریفرنس ٹیرف کے مقابلے میں 6.38 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مختلف ذرائع سے پیداوار اور ان کے توانائی مکس میں حصہ کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں۔
کے-الیکٹرک کی نیشنل گرڈ سے بجلی فراہمی کے حوالے سے بتایا گیا کہ اگر اسے گرڈ سے سپلائی نہ دی جاتی تو صارفین کے ٹیرف میں ایف سی اے کی مد میں 1.09 روپے اور سہ ماہی کیپیسٹی چارجز کی مد میں 2.72 روپے فی یونٹ اضافہ ہوتا، یعنی مجموعی طور پر 3.81 روپے فی یونٹ اضافے کا امکان تھا۔
ماہرین کے مطابق مارچ 2026 کے لیے ریفرنس فیول لاگت کو کیلنڈر سال 2026 کی ٹیرف ری بیسنگ کے تحت کم کیا گیا ہے، جو موجودہ حالات سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ اس لیے ایف سی اے کا حالیہ تعین معقول قرار دیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا، ماہرین نے تجویز دی کہ جنوری تا مارچ 2026 کے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ، جو منفی ہونے کا امکان ہے، کو جلد نافذ کیا جائے تاکہ آئندہ مہینوں میں ممکنہ اضافوں کا اثر کم کیا جا سکے۔ نیپرا نے اس تجویز کو قابلِ عمل قرار دیتے ہوئے اس پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments