آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ 8 مئی کو پاکستان کے معاملے پر غور کرے گا
- ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری متوقع ہے
عالمی مالیاتی فنڈ( آئی ایم ایف) نے پاکستان کو 8 مئی 2026 کو ہونے والے اپنے ایگزیکٹو بورڈ کے ایجنڈے میں شامل کرلیا ہے۔
آئی ایم ایف کی اپ ڈیٹ شدہ ویب سائٹ کے مطابق آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس طلب کرلیا گیا جس میں پاکستان کے لیے قرض کی اگلی قسط کی منظوری کا امکان ہے۔
ایگزیکٹو بورڈ ای ایف ایف کے تیسرے اقتصادی جائزے اور آر ایس ایف کے دوسرے جائزے کے تحت آئندہ 1.21 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کی حتمی منظوری پر غور کرے گا۔

منظوری کے بعد پاکستان کوای ایف ایف کے تحت تقریباً 1.0 ارب ڈالر (760 ملین ایس ڈی آر) اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 210 ملین ڈالر (154 ملین ایس ڈی آر) تک رسائی حاصل ہوجائے گی جس سے ان دونوں معاہدوں کے تحت مجموعی ادائیگیوں کی رقم تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
گزشتہ ماہ آئیوا پیٹرووا کی سربراہی میں آئی ایم ایف کی ٹیم اور پاکستانی حکام کے درمیان پاکستان کے ای ایف ایف کے تیسرے جائزے اور آر ایس ایف کے دوسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا۔
اس وقت آئی ایم ایف نے نوٹ کیا تھا کہ ای ایف ایف کے تعاون سے جاری پالیسیوں کی بدولت پاکستان کی معیشت مستحکم ہورہی ہے اور مارکیٹ کے اعتماد کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
مالی سال 2025 میں معاشی بحالی کے بعد موجودہ مالی سال کے ابتدائی حصے میں پاکستان کی اقتصادی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئی ہے۔ افراطِ زر اور کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس قابو میں رہا جبکہ ایکسٹرنل بفرز میں بہتری کا سلسلہ بھی برقرار رہا۔
تاہم آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے مستقبل کے منظرنامے پر غیر یقینی کے سائے ڈال دیے ہیں کیونکہ توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالیاتی حالات میں سختی کی وجہ سے افراطِ زر میں اضافے، معاشی ترقی کی شرح میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ بڑھنے کے خطرات موجود ہیں۔
اس سے قبل آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے موسمِ بہار کے اجلاس کے موقع پر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات کے دوران معاشی اصلاحات پر پاکستان کی مسلسل پیشرفت کو سراہا تھا۔

























Comments