مشرق وسطی تنازع، اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا
- مشرقِ وسطیٰ کے طویل تنازع نے میکرو اکنامک آؤٹ لک کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں، مانیٹری پالیسی کمیٹی کا انتباہ
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں ایک فیصد یا 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کردیا۔
اسٹیٹ بینک نے پیر کو سال 2026 کے اپنے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے تیسرے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 100 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 11.50 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مرکزی بینک کی جانب سے تقریباً تین برس میں یہ پہلا اضافہ ہے۔
یہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کی نئی لہر کے خدشات کے پیشِ نظر شرح سود میں اضافے کی پیش گوئی کی جا رہی تھی۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اپنے بیان میں نوٹ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے طویل تنازع نے میکرو اکنامک آؤٹ لک کے لیے خطرات کو مزید شدید کر دیا ہے۔ خاص طور پر عالمی سطح پر توانائی کی قیمتیں، مال برداری کے اخراجات اور انشورنس پریمیم تنازع سے پہلے کی سطح سے نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ مزید برآں سپلائی چین میں تعطل نے بے یقینی کی صورتحال کو بڑھا دیا ہے۔ کمیٹی کا اندازہ ہے کہ ان عالمی تبدیلیوں کے اثرات آنے والے وقت میں اہم معاشی اشاریوں پر ظاہر ہوں گے اور اگلی چند سہ ماہیوں کے دوران مہنگائی ہدف کی حد سے اوپر رہے گی۔ اسی بنیاد پر کمیٹی نے قیمتوں میں استحکام کی خاطر سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنا ضروری سمجھا۔
گزشتہ اجلاس کے بعد کی اہم پیش رفتوں میں مارچ کے دوران مہنگائی کا 7.3 فیصد اور کور انفلیشن کا 7.8 فیصد تک پہنچنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ صارفین اور کاروباری اداروں کے اعتماد میں کمی دیکھی گئی، جبکہ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔ قرضوں کی بھاری ادائیگیوں کے باوجود 24 اپریل 2026 تک زرمبادلہ کے ذخائر 15.8 ارب ڈالر رہے، جبکہ 27 مارچ 2026 کو آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا۔
بیرونی شعبہ
چیلنجنگ عالمی حالات اور تجارتی شرائط میں بگاڑ کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تخمینے کی نچلی حد کے قریب رہنے کی توقع ہے۔ کمیٹی کا اندازہ ہے کہ جون 2026 تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔
مالیاتی شعبہ
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مارچ تک مالیاتی خسارہ قابو میں رہا، تاہم مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے مالیاتی انتظام کو مشکل بنا دیا ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صارفین تک منتقل ہونے کی وجہ سے حکومت کو ٹارگٹڈ سبسڈی دینا پڑی، جس کے نتیجے میں سالانہ پرائمری سرپلس کا ہدف حاصل کرنے کے لیے اخراجات میں بڑی کٹوتی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
مہنگائی کا آؤٹ لک
ایم پی سی نے اندازہ لگایا ہے کہ موجودہ سپلائی شاک آنے والے مہینوں میں مہنگائی کو دو ہندسوں (ڈبل ڈیجیٹ) تک دھکیل سکتا ہے، جس کے بعد اس میں کمی آنا شروع ہوگی۔ تاہم توقع ہے کہ افراطِ زر مالی سال 2027 کے بیشتر حصے میں 5 سے 7 فیصد کے ہدف کی بالائی حد سے اوپر رہے گی۔ کمیٹی کے مطابق یہ آؤٹ لک جاری تنازع کے دورانیے، عالمی توانائی کی قیمتوں کے مقامی معیشت پر اثرات اور ممکنہ مالیاتی بے ضابطگیوں جیسے خطرات سے جڑا ہے۔
بہتری کیپیٹل کا کہنا ہے کہ یہ قدم مہنگائی کو لگام دینے کے لیے مرکزی بینک کی کوششوں کا عکاس ہے۔ حالیہ فیصلے پر ماہرین کی ملی جلی آراء تھیں۔ بزنس ریکارڈر کے ریسرچ ڈائریکٹر علی خضر نے 50 بیسس پوائنٹس اضافے کی تجویز دی تھی، جبکہ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سروے میں 53 فیصد شرکاء اضافے کی توقع کر رہے تھے۔ دوسری جانب عارف حبیب لمیٹڈ اور رائٹرز کے پول میں اکثر ماہرین کا خیال تھا کہ شرح سود برقرار رہے گی، تاہم بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں نے اسٹیٹ بینک کو اس بڑے اضافے پر مجبور کیا۔

























Comments