ایران زیادہ مطالبات قبول نہیں کرے گا، عباس عراقچی
- عباس عراقچی کی قیادت میں اعلیٰ سطح ایرانی وفد دن بھر مصروف مذاکرات کے بعد شام کو عمان روانہ ہو گیا
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران امریکہ کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے حوالے سے تہران کے مطالبات اور تحفظات سے آگاہ کیا۔
عباس عراقچی کی قیادت میں اعلیٰ سطح ایرانی وفد دن بھر مصروف مذاکرات کے بعد شام کو عمان روانہ ہو گیا، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی۔
دورے کے دوران انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے علیحدہ اور مشترکہ ملاقاتیں کیں۔ ذرائع کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے واشنگٹن کے لیے تہران کے تفصیلی مطالبات اور امریکی تجاویز پر تحفظات سے آگاہ کیا۔
اسی دوران واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ انہوں نے اپنے مشرق وسطیٰ کے نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا پاکستان کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا ہے، جو اتوار کو اسلام آباد پہنچنے والے تھے۔
یہ دورہ ایران اور امریکہ کے درمیان دوسرے مرحلے کے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے طے تھا، تاہم اس کی منسوخی کو مذاکرات کے تعطل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں قیادت نے ایرانی وفد کے ساتھ ملاقاتوں میں خطے کے استحکام، جنگ کے خاتمے اور سفارتی حل پر زور دیا۔ وزیراعظم نے گفتگو کو خوشگوار اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے سہولت کار کا کردار جاری رکھے گا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان سفارت کاری کو تنازعات کے حل کا بنیادی راستہ سمجھتا ہے، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ملاقات میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کے مؤقف کے حوالے سے صرف سرکاری بیانات کو ہی معتبر سمجھا جائے، اور غیر مصدقہ ذرائع پر انحصار نہ کیا جائے۔
عباس عراقچی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی چینلز شدید دباؤ کا شکار ہیں، تاہم پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کے کردار کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments